Home / فلم نامہ / Kundan Laal Saigal Biography in Urdu

Kundan Laal Saigal Biography in Urdu

عظیم گلوکار ۔ کندن لال سہگل

ہندوستانی فلم انڈسٹری کی تاریخ کا  جب بھی مطالعہ کیا جائے گا  گلوکار اور اداکاری دونوں میں کندن لال سہگل (۱۹۰۴۔۱۹۴۷) کا تذکرہ ضرور سامنے آئے گا۔ اس عظیم فنکا ر کے ذکر کے بغیر فلمی تاریخ نامکمل ہے۔  گلوکاری کی دنیا کا یہ تابناک ستارہ اپنے لافانی فن کے لیے ہمیشہ تاریخ کے اوراق میں زندہ جاوید رہے گا۔  موسیقارِ اعظم کے مندرجہ ذیل منظوم کلام سے اس بات کی ترجمانی ہوتی ہے۔

 

سہگل کو فراموش کوئی کر نہیں سکتا

وہ ایسا امر ہے کہ کبھی مر نہیں سکتا

ہردل میں دھڑکتا ہوا وہ ساز ہے باقی

گو جسم نہیں ہے  مگر آواز ہے باقی

۱۹۰۴ میں جالندھر میں پیدا ہونے والے سہگل اپنا کیریر پنجاب ریلوے میں ٹائم کیپر کی حیثیت سے شروع کیا تھا۔ کچھ دن انہوں نے سیلز مین کی حیثیت سے بھی کام کیا لیکن ملازمت سے ان کا دل مطمعن نہیں ہوا۔ بچپن ہی سے انہیں گانے کا شوق تھا اور ان کی طبیعت تصوف کی طرف مائل تھی۔ جب وہ چھوٹے تھے تو ان کی والدہ اس وقت کے معروف صوفی بزرگ  سلیمان یوسف کے پاس لے جایا کرتی تھی جس کی وجہ سے صوفیانہ کلام اور قوالیاں ان پر اثر انداز ہوگئیں اور ان میں گلوکاری کا شوق پیدا  ہوگیا۔  اس کے اس نےصرف سخت محنت کی بلکہ اس زمانے کی مشہور شخصیات استاد فیاض خان، پنکج ملک اور پہاڑی سانیال سے باقاعدہ موسیقی کی تربیت حاصل کی۔

جس وقت سہگل صاحب نے فلم انڈسٹری میں قدم رکھا ہندوستانی سینما خاموش فلموں کے دور سے متکلم فلموں کے دور میں داخل ہوچکا تھا۔  کیونکہ ۱۹۳۱ میں اولین بولتی فلم  عالم آرا منظر عام پرآچکی تھی۔ فلموں میں داخل ہونے سے قبل ہی سہگل صاحب ہندوستانی کلاسیکل موسیقی میں گلوکاری کے مقبول ہوچکے تھے۔ بی ان سرکار نے ان کی گلوکاری سے متاثر ہوکر انہیں فلموں میں متعارف کرایا تھا۔یہ وہ دور تھا جب ہیرو اور ہیروین کو اپنے گانے خود ہی گانے پڑتے تھے۔  نیو تھیٹر لیمیٹد کلکتہ نے ۱۹۳۲ میں تین فلمیں بنائی تھیں۔ ۱۔محبت کے آنسو، جس میں سہگل صاحب نے اختری بائی مرادآبادی کے ہمراہ اداکاری کی تھی۔۲۔ صبح کے ستارے جس میں رتن بائی کے ساتھ کام کیا۔۳۔زندہ لاش جو کہ انہوں نے ماہ جبین کے ساتھ کام کیا۔  ۱۹۳۲سے ۱۹۴۷ تک سہگل صاحب نے  تقریباً ۳۹ فلموں میں کام کیا اور تقریباً ۱۴۲ گانے گائے۔یہاں ان کی فلم تدبیر ، عمر خیام اور پروانہ کا ذکر کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ اس زمانے کی معروف اداکارہ اور گلوکارہ ثریا نے نہ صرف ان کے ساتھ کام کیا بلکہ گانے بھی گائے۔

 

۱۸ جنوری ۱۹۵۲میں سہگل کی ۵ویں برسی کے موقع پر سکرین میگزین  میں انہیں ثریانے امرقرار دیتے ہوئے کہا تھا۔

میری زندگی کا سب سے عجیب و غریب واقعہ  ان کے ساتھ فلم تدبیر میں  ڈوئٹ گانے کا تھا۔میں ہمیشہ ان کی فین رہی ہوں اور یہ خواب میں بھی نہیں سوچا تھاکہ مجھے ان کے ساتھ گانے کا موقع ملے گا۔ جب تک ان کے نغمے ہمارے ساتھ ہیں وہ امر ہیں۔

۱۹۴۶ میں منظرِ عام پر آنے والی فلم شاہجہان سہگل صاحب کی مقبول ترین فلموں میں شمار کی جاتی ہے۔ موسیقارِ اعظم نوشاد نے اس فلم کی موسیقی ترتیب دی تھی۔ سہگل صاحب سے گائے ہوئے اس فلم کے گانے آج بھی مقبول ہیں۔ نوشاد صاحب نے ان گانوںکی ریکارڈنگ  سے متعلق ایک واقعہ کا ذکر کیا تھا۔ سہگل صاحب مئے نوشی کے عادی تھے اور اکثر شراب نوشی کے بعد ہی ریکارڈنگ کیا کرتے تھے۔ وہ شراب کو کالی پاچ کہتے تھے ۔ شاہجہان کے گانوں کی ریکارڈنگ کے وقت بھی یہی ہوا۔انہوں نے کالی پاچ کی خواہش ظاہر کی اور ریکارڈنگ کرادی۔ مگر نوشاد صاحب مطمئن نہیں ہوئے۔انہوں نے سہگل صاحب سے کہا کہ میں گانوں کی ریکارڈنگ بغیر کالی پاچ کے بھی کرانا چاہتا ہوں۔ سہگل صاحب مسکرائے اور کہا ریکارڈنگ اچھی نہیں ہوگی مگر وہ نوشاد صاھب کے کہنے سے ریکارڈنگ کے لیے تیار ہوگئے۔ جب دونوں ریکارڈنگ ان کو سنائی گئیں تو معلوم ہوا کہ بغیر کالی پاچ والی ریکارڈنگ شاندار ہے۔

نوشاد صاحب نے سہگل سے کہا کہ آپ بغیر کالی پاچ کے شاندار گا سکتے ہیں۔ اس پر سہگل نے کہا نوشاد صاحب آپ مجھے پہلے کیوں نہیں ملے۔  اگر ملے ہوتے تو میری شراب چھوٹ چکی ہوتی لیکن اب بہت دیر ہوگئی ہے۔

سہگل نے گلوکاری کو غیر معمولی بلندیوں تک پہنچایا۔سہگل صاحب کے زیادہ تر گیت ہندوستانی کلاسیکل موسیقی یعنی راگوں پر مبنی ہیں جن میں ہندوستان کی عظیم اور قدیم ثقافتی تہذیب کی جھلک ملتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ سہگل کے گانوں میں آج بھی تازگی ہے ۔ گلوکاری کا یہ منارہ ہمیشہ روشن رہے گا۔

کندن لال سہگل کے مقبول ترین نغمے

 

جھولنا جھلاؤ ری

بالم آئے بسو رے میرے من میں

میں کیا جانوں کیا جادو ہےس

سو جا راج کماری سو جا

مدھرکر شیام ہمارے

اے دل بے قرار کیوں

چاہ برباد کر دے گا ہمیں

انسان کیوں روتا ہے انسان

ٹوٹ گئے سب سپنے میرے

جب دل ہی ٹوٹ گیا ہم جی کے کیا کریں گے۔

admin

Author: admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے