Home / شخصیات / مالا۔۔۔پاکستانی فلمی تاریخ کی سریلی آواز

مالا۔۔۔پاکستانی فلمی تاریخ کی سریلی آواز

غم ِ دل کو ان آنکھوں سے چھلک جانا بھی آتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تڑپنا بھی ہمیں آتا ہے تڑپانا بھی آتا ہے

 

پاکستانی فلمی گائیکی پر جن آوازوں نے گہرے اثرات مرتب کیے ان میں ایک سریلی آواز گلوکارہ مالا کی ہے ، جو ساٹھ کے عشرے میں اردو فلموں کی سب سے مقبول اور مصروف ترین پس ِ پردہ گلوکارہ تھی جس نے بہت بڑی تعداد میں سپرہٹ گیت گائے تھے۔
6 مارچ 1990 کواس مایہ ناز گلوکارہ نے انتقال کیا۔
مالا کا اصل نام نسیم بیگم تھا ۔ لیکن جب اسے پہلی بار 1961 میں ایک پنجابی فلم آبرو میں موسیقار بابا جی اے چشتی نے متعارف کرایا تھا تو اس کا فلمی نام مالارکھ دیا گیا۔ کیونکہ اس وقت اسی نام کی گلوکارہ نسیم بیگم بامِ عروج پر تھی ، جبکہ اسی دور میں ملکہ ترنم نورجہاں بھی اداکاری کو ترک کر کے پسِ پردہ گلوکاری کی طرف آچکی تھیں ۔ دیگر گلوکاراؤں میں ناہید نیازی ، نذیر بیگم اور آئرن پروین مقبولِ عام نام تھے۔
اس وقت تک پچاس کے عشرے کی مقبول ترین آوازیں ، زبیدہ خانم ، کوثر پروین ، منور سلطانہ اور اقبال بانو کا فلمی کیریر ختم ہو چکا تھا۔
مالا موسیقی کے تمام اسرارو رموز سے واقف تھیں کیونکہ اس کے اپنے گھرانے میں گانے بجانے کا ماحول تھا ۔ اس کی والدہ مسو بائی امرتسر کی ایک مشہو ر مغنیہ تھیں جو تقسیم کے بعد لعل پور یا موجودہ فیصل آباد میں آباد ہو گئیں تھیں۔
مالا کی پیدائش 1939 کی بتائی جاتی ہے ، اور اس کی بہن شمیم نازلی کو پاکستان کی پہلی خاتون موسیقار ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ جس نے تین فلموں ۔۔۔۔۔ بہاریں پھر بھی آئیں گی (1969) نائٹ کلب (1971) اور بن بادل برسات (1975) کی موسیقی دی تھی۔ ان میں پہلی فلم کی فلم ساز مالا ہی تھیں۔
مالا کے عروج کا دور 1964 سے 1971 تک ہے اور یہی پاکستان کی اردو فلموں کے انتہائی عروج کا دور بھی تھا جس میں مالا نے بڑی تعداد میں بڑے بڑے اعلیٰ پائے کے گیت گائے ۔
مالا کو احمد رشدی کے ساتھ سو سے زائد گانے گانے کا منفرد اعزاز بھی حاصل ہے ، جبکہ اس نے مسعود رانا کے ساتھ ساٹھ سے زائد گیت گائے تھے ۔ مالا کا زوال رونا لیلیٰ کے عروج سے شروع ہوا اور ناہید اختر اور مہ نازکی آمد سے مکمل ہو گیا تھا ۔ موت سے قبل کافی عرصہ تک بیمار رہی تھیں اور انتہائی کسمپرسی کی حالت میں انتقال ہوا تھا۔
مالا نے عاشق بھٹی نامی شخص سے شادی کی تھی جس سے اس کی اکلوتی بیٹی تھی جس کا نام بھی اس نے سب سے بڑی نغماتی فلم نائیلہ کے نام پر رکھا۔
مالا نے احمد رشدی ، مسعود رانا ، منیر حسین اور مہدی حسن کے ساتھ کئی یاد گار گیت گائے جو مقبولیت کی بلندیوں تک پہنچے ۔
مالا کا آخری گیت 1980 کی فلم بندھن میں تھا ۔

admin

Author: admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے