Home / بلاگ / کیا عدالتیں آئین کے مطابق چلائی جا رہیں ہیں،یا کہیں اور سے ۔ مقبول جعفر

کیا عدالتیں آئین کے مطابق چلائی جا رہیں ہیں،یا کہیں اور سے ۔ مقبول جعفر

کہنے کو تو ہم آزاد ملک ہیں،ہمارے ہاں جمہوریت ہے،جس کے مطابق سب شہریوں کوبرابر کے حقوق حاصل ہیں چاہے وہ ملک کے کسی بھی کونے سے ہوں،مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جمہوریت صرف چند شہروں اور گھرانوں تک ہی محدود ہے،کیونکہ بااثرلوگوں کیلئے اس آئین میں وہ تمام حقوق ہیں جو ایک شہری کیلئے ہونے چاہیئں مگر یہ بااثر اسی آئین کا سہارا لیتے ہوئے دوسرے کے حقوق غضب کئے ہوئے ہیں اور اندھیر نگری چوپٹ راج بنایا ہوا ہے۔اس آئین کا سہارا لیتے ہوئے پسماندہ اور دور دراز علاقوں جیسا کہ بلوچستان اور وزیرستان میں لوگوں کو سخت سے سخت سزا تو دی جاتی ہے مگر اسی آئین میں دیے گئے حقوق سے ان بستیوں اور علاقوں کے لوگ محروم ہیں۔جس کے نتیجے میں ان علاقوں میں یا تو عسکری ونگ بن گئے یا پھر پشتون تحفظ موومنٹ جیسی تحریکیں جنہوں نے ریاست سے بار بار مطالبہ کیا کہ خدارا ہمیں بھی انسان سمجھو،مگر ریاست کے خود ساختہ حکمران ہمیشہ کی طرح ان مظلوموں کو غداری کے سرٹیفیکیٹ دیتے رہے۔

کسی کہنے والے نےکہا تھا
مجھے اتنا نہ ڈراؤ کہ میرا ڈر ہی ختم ہو جائے
کیونکہ جب میرا ڈر ختم ہو گا پھر تیرا ڈر شروع ہو گا

کسی لکھنے والے نے لکھا تھا
اتنا ظلم کرو کہ بعد میں سہہ بھی سکو
ان تحریکوں میں زیادہ لوگ وہی ہوتے ہیں جو ان آپریشن سے بلواسطہ یا بلاواسطہ متاثر ہوئے ہوتے ہیں اسی طرح اگر ہم پشتون تحفط موومنٹ کی بات کریں تو اس میں اکثریت انہیں لوگوں کی ہے وہ کہتے ہیں کھونے کو کچھ رہا ہی نہیں تو ڈر کیسا،ایسی ذلت کی زندگی سے موت ہزار درجے بہتر ہے۔مگر ریاست پتہ نہیں کیوں انکو نھیں سمجھ رہی ہے ۔کل اگر خدانخواستہ یہ مظاہرے ہر جگہ اور شاہراؤں میں ہونے لگے تو اسکے کیا نتائج ہو سکتے ہیں۔یہ آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔
دوسری طرف مردان عدالت میں آج مردان سیشن کورٹ نے ان چار معصوم چہروں کی ضمانت منسوخ کرکے دہشت گردی کے مختلف دفعات کے تناظر میں جیل بھیج دیے گئے۔ان نوجوانوں کا جرم صرف اور صرف یہ ہے، کہ اپنے پشتون قوم کی تحفظ اور روش مستقبل کیلئے آواز بلند کر رہے ہیں،چاروں نوجوان اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، ان میں ایک پی ایج ڈی سکالر اور عبدالولی خان یونیورسٹی میں بطور استاد (لیکچرار) خدمات انجام دے رہا ہے۔
یہاں استاد کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور احسان اللہ احسان، کلبھوشن اور راؤ انوار جیسے دہشت گرد اور قاتلوں کو یا تو شاہی مہمان بنائے جاتے ہیں یا پھر ان کی تعریفیں کی جاتی ہے،لیکن ہم نے گلشن کی تحفظ کی قسم کھائی ہے۔

عالم زیب کے والد کا کراچی دھرنے سے خطاب
جب عالم زیب پیدا ہوا تو بہت خوشی ہوئی تھی لیکن آج عالم زیب جب قوم کی خاطر جیل میں ہے اور اسکی گرفتاری سے جو پشتون اتحاد اس دھرنے کی صورت میں آیا ہے یہ خوشی اسکی پیدائش والی خوشی سے کئی بڑھ کر ہے۔

دوسری طرف سلیمان حیدر لکھتے ہیں۔میں مردان میں دہشت گردی کے الزام میں گرفتار ہونے والے لیکچرار اختر خان اور پی ایچ ڈی سٹوڈنٹ اسفند یار وزیر کو ذاتی طور پر جانتا ہوں۔ اختر سے تو تعلق کوئی آٹھ دس سال پرانا ہے۔ اسفند یار کو بھی سیاسی سرگرمیوں میں دیکھتے چار پانچ سال سے زیادہ ہی ہو چلے ہیں۔ قائداعظم یونیورسٹی میں سٹڈی سرکلز میں ہم سینکڑوں بار مل اور سیاست پر بحث مباحثہ کر چکے ہیں۔ اختر اور میں ایک وقت میں قائداعظم میں پڑھتے رہے ہیں۔
یہ لڑکے عمران خان اور باجوہ وغیرہ سے کہیں زیادہ محب وطن ہیں ان کا قصور پشتون تحفظ موومنٹ کا ساتھ دینے اور ریاست کی بدمعاشی کے خلاف آواز اٹھانے کے سوا کچھ نہیں۔۔
دوسری جانب یہ لوگ کہتے ہیں کہ عدالتیں کسی اور جگہ سے چلائی جا رہی ہیں آئین کے مطابق چلائی جا رہی ہوتیں تو پھر شاید ہمیں بھی انسان سمجھا جاتا،اگر آئین کے مطابق ہوتیں تو ۴۴۴ ماوارائے عدالت کرنے والا پروٹوکول میں نہ آتا اور مسنگ پرسنز لواحقین کا وارث یوں دہشتگرد بناکر نہ پیش کیا جاتا،ساتھ ساتھ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بہت ہو چکا،۷۰ سال ہم سنتے رہے اور سہتے رہے اب ہم بولیں گے اور انکو سننا ہو گا اور یہی انکے لئے بھی اور اس ملک کیلئے بھی بہتر ہے ورنہ ہم تو پہلے سے ہی ڈوبے ہوئے ہیں اب انکو بھی لے ڈوبیں گے،لگتا ہے اب انہوں نے سوچ لیا ہے کہ .

خاموش مزاجی تمہیں جینے نہ دے گی
اس دنیا میں رہنا ہے تو کہرام مچا دو

admin

Author: admin

Check Also

کیا ہم مہذب قوم نہیں بن سکتے

کچھ دن پہلے ایک دوست بڑے پیارے بھائی نے ایک سیاسی پوسٹ جو کافی پرانی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے