Home / شعرا و ادیب / مولانا حسرت موہانی

مولانا حسرت موہانی

مولانا حسرت موبانی کا اصل نام افضل الحسن ہے جب کہ شاعری میں آپ نے حسرت تخلص اختیار کیا اوراسی نام سے آپ کو شہرت ملی حسرت کی پیدائش یکم جنوری ١٨٨١ کو ہوئی آپ کا آبائیشہرانا(یوپی)ہے ۔آپ کا سلسلہ نسب حضرت امام علی موسیٰ رضاؑ تک پہنچتا ہے حسرت کےآہاواجدادمیں سے ایک بزرگ سید نیشا پوری نے 1214ٕ میں ترک وطن کرکے مختلف مقامات کی سیاحت کے بعد سلطان شمس الدین التمش کے عہد میں ہندوستان تشریف لائے اور موہان میں مستقل سکو نت اختیار کر لی یہاں ان کی اولاد خوب پھولی پھلی سید محمدنیشاپوری کے دو صاحبزادے تھے سید منتخب اور سید جمال حسرت موبانی کا تعلق سید منتخب کی اولاد سے ہے حسرت کے خاندان میں چھ پشت اویر شاہ عبیدالدین محمد نام کے ایک بزرگ 1108 ٕ مطابق1696 ٕ کو موہان میں پیدا ہوئے 17 شوال 1206 ٕ کو آپ نےوفات پائی اور گلابی باغ کے احا طہ میں مد فون ہوئے اب یہ مقام درگاہ رسول نما کہلاتا ہے سید ازہر حسن کی شادی نیاز حسن کی صاجزادی سے ہوئیجن کا تعلق شہر بانو بیگم سے اور یہ ہی خاتون حسرت موبانی کی والدہ ماجدہ تھیں۔
حسرت موہانی کی ۶ بھائی بہنیں ہیں۔تین بھائی اور تین بہنیں تھیں۔بھائیوں کے نام اس طرح ہیں۔سید روح الحسن،سید کریمالحسن،اور سید مبین الحسن،اور بہنیں سلیمتہ النسا،تسنیمتہ النسا۔سلیمتہ النسا کا کم عمری میں ہی انتقال ہو گیا۔بہ قول حسرت موہانی والد کو دادی صاحبہ کی طرف سے ضلع فتح پور سہوہ تحصیل کھجوہ میں تین گاؤں وراثت میں ملے تھے۔حسرت کی ابتدائی تعلیم موہان میں ہوئی۔یہیں سے انہوں نے مڈل کا امتحان پاس کیااور اسکے بعد مزید تعلیم کیلئے حسرت پور فتح پور گئے،۱۹۰۳ میں انہوں نے بی اے کی تعلیم مکمل کی،سید سجاد حیدر اور مولانا شوکت علی ان کے خاص ساتھیوں میں سے تھے۔حسرت نے عربی کی تعلیم مولانا سید ظہورالاسلام اور فارسی کی تعلیم مولانا نیاز فتح پوری کے والد محمدامیرخان سے حاصل کی تھی حسرت موہانی کا سیاست سے گہرا واسطہ رہا۔جدوجہد آزادی میں انکی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔آزادی کی تحریک میں حصہ لینے کی وجہ سے کئی بار جیل جانا پڑا۔آپ کی بیوی نشاط النسا بیگم بھی جدوجہدآزادی کی ایک فعال رکن تھیں انہوں نے گاندھی جی کی سودیشی کی تحریک میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا یہاں قابل ذکرہے کہ آپ کی بیوی نشاط النسا بیگم ہندوستان کی پہلی خاتون تھیں جنہوں نے خواتین میں سب سے پہلے بھارت کی مکمل آزادی کا مطالبہ کیا۔سودیشی تحریک کے زبردست حامیوں کے چلتے حسرت نے آخری وقت تک کوئی ولایتی چیز کو ہاتھ نہیں لگایا۔آپ کی شاعری میں سیاسی رنگ والے اشعار بھی جا بجا دیکھے جاسکتے ہیں۔چند اشعار آپ بھی دیکھ لیں
کٹ گیا قید میں رمضاں بھی حسرت
گرچہ سامان سحر کاتھا نہ افطاری کا
ہم قول کے صادق ہیں اگرجان بھی جاتی
واللہ کہ ہم خدمت انگریز نی کرتے
جب بات آپ کے کلام کی ہوتی ہے تو مختلف لوگ آپکی شخصیت اور شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے اردوغزل گوشعرا میں کی تاریخ میں مولانا حسرت موہانی ایک ممتاز و منفرد مقام رکھتے ہیں۔اس سلسلے میں ڈاکٹر سیدعبداللہ کا حسرت موہانی کے بارے میں خیال ہے اور کہتے ہیں
حسرت کی مقبولیت کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ انہوں نے غزل کے قدیم وجدید رنگ کو باہم اسی طرح ملادیاکہ انکی غزل سے ہر رنگ اور ہر ذوق کا قاری متاثر ہوتا ہے۔
جبکہ حسرت کی ضمن میں عطاکاکوروی لکھتے ہیں کہ
حسرت کا انداز بیان اتنا ا چھوتا اور والہانہ ہے اور اس میں ایسی شگفتگی و رعنائی ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔
بقول نیاز فتح پوری حسرت کی نغمہ بخودی کو سن کر لوگ چونک اٹھے روحیں وجد کرنے لگیں اور شعروفن کی فضا چمک اٹھی وہ اپنے رنگ میں منفرد تھےاور انکا کوئی ہمسر نہیں۔
حسرت کے خیال اور انداز بیان دونوں میں شخصی اور روایتی عناصر کی آمیزش ہے۔حسرت موہانی کوقدیم غزل گوشعرا سے ایک ذہنی وجذباتی لگاؤ تھا۔اور اسی پر چلتے ہوئے آپ نے کلاسیکل شعرا کے کلام کا بہت گہرائی سے مطالعہ کیا تھانجس کے چلتے قدیم استاد شعرا کے رنگ آپ کی شاعری میں منعکس دکھائی دیتے ہیں۔آپ نے فارسی شعرا میں شمس تبریز المعروف مولاناروم ،سعدی،نظیری اور فضانی کے تتبع کا اعتراف کیا ہے اور اردو شعرا میں غالب ،میر اور مومن ،نسیم اور جرات سے بے حد متاثر نظر آتے ہیں،
اپنے مختلف اشعارمیں وہ اسکا اعتراف بھی کرتے ہیں جیسے کہ
شعر میرے بھی ہیں پردردحسرت لیکن
میرکاشیوہ گفتار کہاں سے لاؤں
غالب و مصحفی و میرو نسیم ومومن
طبع حسرت نے اٹھایا ہر استاد سے فیض

طرزمومن پہ مرحبا حسرت
تیری رنگین نگاریاں نہ گیئں
اردو میں کہاں ہے اور حسرت
یہ طرز نظیری و فغانی
یہی وجہ ہے کہ حسرت کے اس رجحان پر فرق لکھتے ہیں کہ حسرت کے اشعار بیان حسن وعشق میں صاف مصحفی کی یاد دلاتے ہیں۔اور داخلی و نفسیاتی امور کی طرف اشارہ کرنے میں عموما نئی فارسی ترکیبوں کے زریعے مو کے انداز من کی یاد دلاتے ہیں،لیکن حسرت موہانی کی شاعری محض جرات،مومن کی ہی بازگشت نہیں ہےاور وہ تینو ں کے اندازبیان و وجدان اور ان کے فن شاعری کی انتہا و تکمیل ہیں۔
جبکہ اردو کے معروف نقاد سید احتشام حسین کی نظر میں حسرت کی شاعری کو محور محبت ہے۔اسی طرح دوسرے ناقدین کے نزدیک بھی حسرت کی عشقیہ شاعری ہی ان کی نمائندہ شاعری ہے۔
اسی طرح ممتاز حسین ایک جگہ کہتے ہیں کہ کائنات میں روزانہ لاکھوں بچے پہلی مرتبہ اپنی ماں یا باپ کو پکارتے ہیں۔ایک ہی لفظ صدیوں سے ادا ہو رہا ہے مگر اسکی خوبصورت اور رعنائی میں کوئی فرق نہیں آیا۔اور یہی لفظ اور جزبہ حسرت کی شاعری کا بنیادی محور اور موضوع ہے۔جبکہ آل احمد سرور ایک جگہ حسرت کے تعلق سے کچھ اس طرح سے رقمطراز ہیں کہ عشق ہی انکی عبادت ہے عشق کی راحت اور فراغت کا یہ تصور انکا اپنا ہےاور یہ تصور ہی حسرت کو دنیا اور اپنے زمانے کا ایک فرد ثابت کر سکتا ہے۔
حسرت کی عشقیہ شاعری کے رنگ کو آپ قارئین بھی ملاحظہ فرمائیں کہ
حقیقت کھل گئی حسرت تیرے ترک محبت کی
تجھے تو اب وہ پحلے سے بھی بڑھ کر یاد آتے ہیں
بڑھ گئیں تم سے تو مل کر اور بھی بے تابیاں
ہم یہ سمجھے تھے کہ اب دل کو شکیبا کر دیا
بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں
الہی ترک الفت پر وہ کیونکر یاد آتی ہیں
حسرت کے یہاں مختلف غزلوں اور متفرق اشعار میں اپنے محبوب کی نفسیاتی کیفیات کو جس خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے ویسا رنگ اردوغزل کے دوسرے شعرا کے یہاں مشکل سے ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔

 

 

admin

Author: admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے