Home / ادب نامہ / نثر / منٹو کے افسانے / Mera Aur Us Ka Inteqam Afsana By Saadat Hassan Manto

Mera Aur Us Ka Inteqam Afsana By Saadat Hassan Manto

میرا اور اس کا انتقام ۔افسانہ۔ سعادت حسن منٹو

 

گھرمیں میرے سوا کوئی موجود نہیں تھا۔ پتا جی کچہری میں تھے اور شام سے پہلے کبھی گھر آنے کے عادی نہ تھے۔ ماتا جی لاہور میں تھیں اور میری بہن بملا اپنی کسی سہیلی کے ہاں گئی تھی! میں تنہا اپنے کمرے میں بیٹھا کتاب لیے اونگھ رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی اٹھ کر دروازہ کھولا تو دیکھا کہ پاربتی ہے۔ دروازے کی دہلیز پر کھڑے کھڑے اس نے مجھ سے پوچھا۔
’’موہن صاحب! بملا اندر ہے کیا؟‘‘
جواب دینے سے پیشتر ایک لمحے کے لیے پاربتی کی تمام شوخیاں میری نگاہوں میں پھر گئیں اور جب میں نے سوچا کہ گھرمیں کوئی متنفس موجود نہیں تو مجھے ایک شرارت سوجھی، میں نے جھوٹ بولتے ہوئے بڑی بے پروائی کے انداز میں کہا:۔
’’اپنے کمرے میں بلاؤز ٹانک رہی ہے۔ ‘‘
یہ کہہ کر میں دروازے سے باہر نکل آیا۔ بملا کا کمرہ بالائی منزل پرتھا۔ جب میں نے گلی کے روشندان سے پاربتی کو سیڑھیاں چڑھتے دیکھا۔ تو جھٹ سے دروازے میں داخل ہو کر اس کو بند کردیا اور کنڈی چڑھا کروہ قفل لگا دیا جو پاس ہی دیوار پر ایک کیل سے لٹک رہا تھا اور دروازے میں تالا لگانے کے بعد میں اپنے کمرے میں چلا آیا اور صوفے پرلیٹ کر اپنے دل کی دھڑکنوں کو سنتا رہا۔ پاربتی کے کردار کا ہلکا سا نقشہ یوں کھینچا جاسکتا ہے۔ وہ بیک وقت ایک شوخ چنچل اور شرمیلی لڑکی ہے۔ اگر اس گھڑی آپ سے بڑی بے تکلفی سے بات کررہی ہے تو تھوڑے ہی عرصے کے بعد آپ اسے بالکل مختلف پائیں گے۔ شرارت اس کی رگ رگ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے لیکن بعض اوقات اتنی سنجیدہ اورمتین ہو جاتی ہے کہ اس سے بات کرنے کی جرأت نہیں ہو سکتی۔ محلے بھر میں وہ اپنی قسم کی واحد لڑکی ہے۔ لڑکوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے میں اسے خاص لطف آتا ہے۔ اگر کوئی لڑکا جواب میں معمولی سا مذاق بھی کردے تو اسے سخت ناگوار گزرتا ہے۔ گلی کے نوجوانوں کے نازک جذبات سے کھیلنے میں اسے خاص لطف آتا ہے۔ بلی کی طرح وہ چاہتی ہے کہ چوہا اس کے پنجوں کے نیچے دبکا رہے اور وہ اس کو ادھر ادھرپٹخ پٹخ کر کھیلتی رہے جب اکتا جائے تو چھوڑ کر چلی جائے۔ کوٹھے پر چڑھ کر محلے کے لڑکوں کے پتنگ توڑ لینے میں اس کو خاص مہارت حاصل ہے۔ ہمارے گھر میں اکثر اس کا آنا جانا تھا۔ اس لیے مَیں اس کی شوخ طبیعت سے ایک حد تک واقف تھا۔ میرے ساتھ وہ کئی مرتبہ نوک جھونک کر چکی تھی۔ مگر میں دوسروں کی موجودگی میں جھینپ کر رہ جاتا تھا۔ مجھے اس سے نفرت نہ تھی۔ اس لیے کہ اس میں کوئی شے بھی ایسی نہیں جس سے نفرت کی جاسکے۔ البتہ اس کی طبیعت کسی قدر الجھی ہوئی تھی اور اس کی حد سے زیادہ شوخی بعض اوقات میرے جذبات پر بہت گراں گزرتی تھی۔ اگر میں سب کے سامنے اس کی پھلجھڑی ایسی زبان کو( جس سے کبھی تیز و تند اور کبھی نرم و نازک شرارے نکلتے تھے) اپنی گویائی کی قوت پر زور دے کر بند کرسکتا تو مجھے یہ شکایت ہرگز نہ ہوتی۔ بلکہ اس میں خاص لطف بھی حاصل ہوتا مگر یہاں موجودہ نظام کی موجودگی میں اس قسم کے خواب کیونکر پورے ہوسکتے ہیں! پاربتی کے متناسب جسم میں جملہ خوبیاں بھری پڑی تھیں۔ دوشیزگی اس کے ہر عضومیں سانس لیتی تھی۔ آنکھوں میں دھوپ اور بارش کے تصادم ایسی چمک، گدرائے ہوئے جوبن کا دلکش ابھار، آواز میں صبح کی خاموش فضا میں مندر کی گھنٹیوں کی صدا ایسی حلاوت، اور چال۔ ایسے الفاظ نہیں ہیں کہ اس کے خرام کا نقشہ پیش کیا جاسکے۔ گھر خالی تھا، دوسرے لفظوں میں میدان صاف تھا! اس لیے میں نے موقع بہت مناسب خیال کیا اور اس سے انتقام لینے کی ٹھان لی۔ میری عرصے سے خواہش تھی کہ اس پھسل جانے والی مچھلی کو ایک بار پکڑ کر اتنا ستاؤں۔ اتنا ستاؤں کہ رو دے اور کچھ عرصے کے لیے اپنی تمام شوخیاں بھول جائے۔ میں کمرے میں بیٹھا تھا کہ وہ حسب توقع گھبرائی ہوئی آئی اور کہنے لگی۔
’’دروازہ میں تالا لگا ہوا ہے۔ ‘‘
میں بناوٹی حیرت سے مضطرب ہو کر یکایک اٹھ کھڑا ہو گیا۔
’’کیا کہا؟‘‘
’’صدر دروازے میں تالا لگا ہوا ہے!‘‘
’’باہر سے گلی کے ان گندے انڈوں نے تالا لگادیا ہو گا!‘‘
یہ کہتا ہوا میں اس کے پاس آگیا۔ اس پر پاربتی نے کہا۔
’’نہیں، نہیں تالا تو اندر سے لگا ہوا ہے!‘‘
’’اندر سے۔ اور بملا کہاں ہے؟‘‘
’’اپنے کمرے میں تو نہیں۔ کونے کونے میں دیکھ آئی ہوں۔ کہیں بھی نہیں ملی۔ ‘‘
’’تو پھر اسی نے شرارت کی ہے۔ جاؤ دیکھو باورچی خانے، غسل خانے میں یا اِدھر اُدھر کہیں چھپی ہو گی۔ تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا۔ ‘‘
یہ کہہ کر میں واپس مڑ کر صوفے پر لیٹ گیا اور وہ بملا کو ڈھونڈنے چلی گئی۔ پندرہ بیس منٹ کے بعد پھر آئی اور کہنے لگی۔
’’میں نے تمام گھر چھان مارا۔ پر ماتما جانے کہاں چھپی ہے۔ آج تک میرے ساتھ اس نے اس قسم کی شرارت نہیں کی لیکن آج جانے اُسے کیا سوجھی ہے؟‘‘
پاربتی صوفے کے پیچھے کھڑی تھی میں نے اس کی بات سنی اور پاس پڑے ہوئے اخبار کے اوراق کھولتے ہوئے کہا۔
’’مجھے خود تعجب ہورہا ہے۔ صحن کے ساتھ والے کمروں میں جا کرتلاش کرو، وہیں کسی پلنگ کے نیچے چھپی بیٹھی ہو گی۔ ‘‘
یہ سن کر پاربتی یہ کہتی ہوئی چلی گئی۔
’’اسے میری شرارتوں کا علم نہیں۔ خیر سو سنار کی، ایک لوہار کی!‘‘
اس کو مضطرب دیکھ کر میرا جی باغ باغ ہورہا تھا۔ اس تیتری کو اپنی ہوشیاری پر کتنا ناز تھا! میں ہنسا، اس لیے کہ اس کے پھڑپھڑانے والے پَر میری گرفت میں تھے اور میں بڑے مزے سے اس کے اضطراب کا تماشا کرسکتا تھا۔ میں اپنے ذہن میں اس ہونے والے ڈرامے کا تمام پلاٹ تیار کر چکا تھا اور اس پر عمل کررہا تھا۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد وہ پھر آئی۔ اس مرتبہ وہ سخت جھلائی ہوئی تھی۔ داہنے کان سے بہت نیچے بالوں کا ایک گچھا کلپ کی گرفت سے آزاد ہو کرڈھلک آیا تھا۔ ساڑھی سر پر سے اتر گئی تھی اور وہ بار بار اپنے گرد بھرے ہاتھوں کو ایک ننھے رومال سے پونچھ رہی تھی۔ کمرے میں داخل ہو کر میرے سامنے کرسی پر بیٹھ گئی۔ میں نے اس سے لیٹے لیٹے دریافت کیا۔
’’کیوں کامیابی ہوئی کیا؟‘‘
اس نے تھکی ہوئی آواز میں جواب دیا۔
’’نہیں، میں اب یہاں بیٹھ کر اس کا انتظار کرتی ہوں۔ ‘‘
’’ہاں بیٹھو، میں ذرا اوپر ہو آؤں۔ ‘‘
یہ کہہ کر میں اٹھا اور چلا گیا۔ بالائی منزل کی چھت پر میں پندرہ بیس منٹ تک ٹہلتا رہا۔ چابی میری جیب میں تھی۔ اس لیے معلوم تھا کہ پاربتی کسی صورت میں بھی گھر سے باہر نہیں نکل سکتی اور یہ احساس میرے دل میں ایک ناقابل بیان مسرت پیدا کررہا تھا۔ میدان بالکل صاف تھا اور میں اس موقع سے پورا فورا فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ میری سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ پاربتی کی دوسروں پر ہنسنے والی آنکھوں کی چمک ایک لمحے کے لیے ماند پڑ جائے اور اس کو معلوم ہو جائے کہ مرد کے پاس نسوانی شرارتوں کا بہت کڑا جواب ہے! یہ کھیل بہت خطرناک تھا۔ کیونکہ اس بات کا ڈر تھا کہ وہ پتا، ماتا جی یا بملا کو تمام بیتے ہوئے واقعات سنا دے گی۔ اس صورت میں گھر والوں کی نگاہوں میں میرے وقار کی تذلیل یقینی تھی۔ مگر چونکہ میرے سر پر اس دلچسپ انتقام کا بھوت سوار تھا۔ جو میں نے اس شوخ لڑکی کے لیے تجویز کیا تھا۔ اس لیے کچھ عرصے کے لیے یہ تمام چیزیں میری آنکھوں سے اوجھل ہو گئی تھیں۔ میں اپنے دل سے سوال کرتا تھا کہ نتیجہ کیا ہو گا۔ لیکن اس کا جواب میری پوزیشن کی صحیح تصویر دکھانے کی بجائے پاربتی۔ شکست خوردہ پاربتی کی تصویر آنکھوں کے سامنے کھینچ دیتا تھا۔ میں بے حد مسرور تھا۔ کچھ عرصہ بالائی منزل پر ٹہلنے کے بعد میں نیچے آیا۔ پاربتی کرسی پر بیٹھی سخت اضطراب کی حالت میں اپنی خوبصورت ٹانگ ہلا رہی تھی۔ جس پرریشمی ساڑھی کا کپڑا ادھر ادھر تھرک رہا تھا۔ میں نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے اس سے پوچھا۔
’’کیوں بملا ملی۔ ‘‘
’’نہیں! میں نے ایک بار پھر سب کمروں کو چھان مارا ہے لیکن وہ ایسی غائب ہوئی ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ ‘‘
میں مسکرا دیا۔
’’چلو ہم دونوں مل کر اس کو ڈھونڈیں۔ تم اس قدر گھبرا گئی ہو۔ تم تو بڑی نڈر اور بیباک لڑکی ہو۔ ‘‘
’’گھبرانے کی کوئی بات نہیں! لیکن مجھے بہت جلد گھر واپس جانا تھا۔ ‘‘
پاربتی کے لبوں پر ایک نہایت ہی پیارا تبسم پیدا ہوا۔ ہم دونوں ایک عرصے تک نیچے صحن میں پلنگوں کے نیچے، چارپائیوں کے پیچھے، چیزوں کے ادھر ادھر پردوں کو ہٹا ہٹا کربملا کو تلاش کرتے رہے۔ مگر وہ گھر پر ہوتی تو ملتی۔ آخر کار میں نے خود کو سخت متعجب ظاہر کرتے ہوئے پاربتی سے کہا۔
’’حیرت ہے تمہیں بتاؤ آخر بملا گئی کہاں؟‘‘
پاربتی جو بار بار جھکنے، اٹھنے اور بیٹھنے سے بہت تھک گئی تھی، اپنی پیشانی سے پسینہ کے ننھے ننھے قطروں کو پونچھتی ہوئی بولی۔
’’میں کیا جانوں، زمین کھا گئی یا بھوت پریت اٹھا کر لے گئے، یہ آپ ہی کی بہن کی کارستانی ہے، خیر کوئی ہرج نہیں، میں بھی ایسا ستاؤں گی کہ عمر بھر یاد رکھے گی! بملا ہزار ہو مجھ سے اڑ کر کہاں جائے گی۔ ‘‘
میں خاموش رہا اور اطمینان سے کرسی پربیٹھ گیا۔ اس وقت ہم ماتا جی کے کمرے میں تھے۔ پاربتی میرے سامنے ٹائیلٹ میز کے قریب کھڑی تھی۔ اس کے چہرے کو دیکھ کر یہ معلوم ہوتا تھا کہ قطعی طور پر خالی الذہن ہے۔ غیر ارادی طور پر وہ بار بار میز کے گول آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ رہی تھی۔ اور ٹانگوں پر سے اپنی ساڑھی کی شکنیں درست کررہی تھی۔ دفعتہً کمرے کے مکمل سکوت سے باخبر ہو کروہ سخت مضطرب ہو گئی اور مجھ سے کہنے لگی۔
’’موہن صاحب مجھے گھر جانا ہے، جتنا جلد جانا چاہتی ہوں اتنی دیر ہوتی جاتی ہے۔ بملا کے اب پَر لگ گئے ہیں۔ شاید میرے ہاتھوں اس کی شامت آئی ہے۔ ‘‘
’’ہاں، ہاں، مگر میں کیا کرسکتا ہوں، آپ جانیں اور وہ، اس میں میرا کیا قصور ہے۔ اور اگر آپ کو سچ مچ جلدی جانا ہے تو کہیے، میں آپ کی کمر میں رسی باندھ کر چھت سے لٹکادوں، کہیے تو تالا توڑ دوں؟ اب آپ کی جو رائے ہو؟‘‘
اس نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور جواب دیا۔ ‘‘
مجبوری ہے تالا توڑنا ہی پڑے گا۔ ‘‘
لیکن۔ میں نے کرسی پر سے اٹھتے ہوئے کہا۔
’’تالا بہت بڑا ہے اور اسکو توڑنے کے لیے بہت سی دقتیں پیش آئیں گی۔ اس کے علاوہ ہتھوڑے کی چوٹوں کی آواز سن کر لوگ کیا کہیں گے؟‘‘
یہ سُن کر وہ سنجیدہ ہو گئی اور کچھ دیر سوچنے کے بعد بولی،
’’لیکن مجھے گھر بھی تو جانا ہے لوگ کیا کہیں گے، ہم کسی غیر کے گھر میں سیندھ تھوڑی لگا رہے ہیں اپنے گھر کا تالا توڑ رہے ہیں۔ ‘‘
’’ہے ہے آج میں کس ساعت سے آئی تھی، اب کیا ہو گا۔ میں کس طرح جاؤں، ہائے رام کس بلا میں پھنس گئی!‘‘
میرا وار خالی گیا۔ دراصل میں یہ چاہتا تھا کہ وہ ماحول کی نزاکت سے اچھی طرح آگاہ ہو جائے جس میں کہ وہ اس وقت موجود تھی۔ چنانچہ میں نے بات کو ذرا وضاحت سے بیان کیا۔
’’ماتا جی لاہور گئی ہیں! پتا جی باہر ہیں اور بملا غائب ہے اس صورت میں۔ ‘‘
میں یہ کہتے کہتے رک گیا اور پھر اس فقرے کو یوں پورا کردیا۔
’’تالا توڑنا اچھا معلوم نہیں ہوتا۔ ‘‘
اب کی دفعہ تیر نشانے پر بیٹھا۔ پاربتی کے سپید چہرے پر ہلکی سی سرخی چھا گئی اور ایک لمحے کے لیے ایسا معلوم ہوا کہ اس کے گالوں پر گلاب کی پتیاں بکھر گئی ہیں۔ وہ اپنی ریشمی ساڑھی میں سمٹی، کانپی، تھرائی، پارے کی طرح تڑپی اور کچھ کہتی کہتی خاموش ہو گئی۔ میں نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور ہمدردانہ لہجہ میں کہا۔
’’تم خود سوچ سکتی ہو۔ ویسے مجھے کوئی عذر نہیں!‘‘
وہ پیچ و تاب کھا کر رہ گئی۔ میں اس کو مضطرب دیکھ کر بہت مسرور ہورہا تھا! کل کی چلبلی شوخ و شنگ اور طرّارلڑکی جو بادلوں سے آنکھ مچولی کھیلتی ہوئی بجلی کی طرح چمکا کرتی تھی۔ آج دیے کی کرن بن کر رہ گئی تھی جو میری پھونک کے رحم پر تھی۔ ساحل کے پتھروں سے ٹکرا کر پلٹتی ہوئی لہر کی طرح اس نے اپنے آپ میں نئی تازگی پیدا کرکے کہا۔
’’میری تو جان پر بنی ہوئی ہے اور آپ ہیں کہ چبا چبا کر باتیں کیے جارہے ہیں۔ ‘‘
’’کون سی بات؟‘‘
’’یہی، یہی کہ لوگ کیا کہیں گے؟‘‘
اُس نے اپنے شرمیلے جذبات پر پوری قوت سے قابو پاتے ہوئے کہا۔ میں کرسی پر بیٹھ گیا اور زیرِ لب گنگنانے لگا۔
’’ماتا جی لاہور گئی ہیں، پتا جی باہر ہیں اور بملا گم ہے!‘‘
’’آپ کون سی نئی بات کررہے ہیں! یہ تو مجھے بھی معلوم ہے، سوال تو یہ ہے کہ بملا کہاں ہے؟‘‘
’’اوپر ہو گی اور کہاں؟‘‘
’’اوپر؟ اوپر کی خوب کہی۔ میں اوپر چپہ چپہ ڈھونڈ آئی ہوں۔ ‘‘
’’تم اسے نیچے ڈھونڈتی ہو گی۔ تو وہ دوسری سیڑھیوں سے اوپر چلی جاتی ہو گی۔ جب تم اوپر جاؤ گی تو وہ نیچے آجائے گی۔ یہ ایک بات میرے ذہن میں آتی ہے اور۔ ‘‘
’’اس کا ایک علاج ہو سکتا ہے‘‘
پاربتی نے اپنے داہنے گال پر انگلی سے ایک نہایت دلکش گڑھا بناتے ہوئے کہا۔
’’میں اوپر جاتی ہوں اور آپ ایسا کیجیے کہ دوسری سیڑھیوں پر کھڑے ہوجائیے اور جونہی وہ نیچے اترے اسے پکڑ لیجیے۔ ‘‘
’’میں نے اس کی تجویز کو سنا اورکہا
’’لیکن شاید وہ اصل میں یہاں موجود ہی نہ ہو گی۔ ‘‘
’’یہاں موجود نہ ہو‘‘
میری بات سن کرپاربتی کا سر ضرور چکرا گیا۔ وہ کہنے لگی۔
’’ہاں ہو سکتا ہے، اس لیے کہ اگر ہوتی تو مل نہ جاتی؟‘‘
’’کیا ہو سکتا ہے وہ یہاں نہ ہو تو پھر دروازے کو تالا کس نے لگا دیا ہے۔ یہ کہیں آپ کی شرارت تو نہیں، سچ کہیے؟‘‘
’’مجھے کیا معلوم، میرا خیال ہے کہ بملا اپنی کسی سہیلی کے ہاں گئی ہو گی۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ وہ صبح اپنی ساڑھی استری کررہی تھی!‘‘
’’آپ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘
پاربتی کی حیرت لحظہ بہ لحظہ بڑھ رہی تھی۔
’’اگر وہ کسی سہیلی کے ہاں گئی ہے تو پھر تالا کس نے لگا ہے۔ یہ کیا شرارت ہے؟‘‘
’’حیران ہونے کی کوئی بات نہیں، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ وہ اپنی سہیلی ہی کے ہاں گئی ہے، اس لیے کہ جاتے وقت وہ سنتو کو ہمراہ لیتی گئی تھی، اب مجھے یاد آیا۔ باقی رہا میں، تو آپ ہی بتائیے، میں آپ کو کیوں قید کرنے لگا۔ پر اتنا ضرور کہوں گا کہ بڑی دلچسپ مچھلی جال میں پھنسی ہے۔ ‘‘
’’آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ تو پھر۔ تو پھر۔ یہ شرارت۔ ‘‘
وہ اپنے فقرے کو پورا نہ کرسکی۔
’’ہاں یہ شرارت میں بھی تو کرسکتا ہوں۔ ‘‘
میں نے مسکرا کر جواب دیا۔
’’آپ کا خیال ہے کہ میں اس کا اہل نہیں؟۔ شاید میں نے آپ سے کسی وقت کا بدلہ لیا ہو۔ ‘‘
پاربتی کی حالت عجیب و غریب تھی۔ بند بھاپ کی طرح وہ باہر نکلنے کے لیے بے قرار ہورہی تھی۔ اس نے میری طرف تیز نگاہوں سے دیکھا، جیسے میرے سینے کے اسرار جاننا چاہتی ہے۔ لیکن میں ایک کامیاب ایکٹر کی طرح اپنا پارٹ نبھا رہا تھا۔ اس نے اپنی آنکھ کی پتلیوں کو نچاتے ہوئے دریافت کیا۔
’’لیکن اس شرارت کی وجہ؟‘‘
’’مجھے معلوم نہیں!‘‘
وہ خاموش ہو گئی۔ پھر یکا یک جیسے اسے کچھ یاد آگیا۔ کہنے لگی۔
’’موہن صاحب! مجھے گھر جانا ہے!‘‘
’’مجھے معلوم ہے، پر یہ تو بتائیے، کیا کسی نے آپ کا ہاتھ پکڑا ہے؟‘‘
’’تو دروازہ کھول دیجیے۔ ‘‘
یہ کہنے کے بعد اس نے کچھ سوچا اور کہا۔
’’لیکن آپ کس طرح کہہ رہے ہیں کہ تالا آپ نے لگایا ہے، کیا بملا واقعی یہاں نہیں ہے؟‘‘
’’مجھے یقین ہے کہ وہ یہاں نہیں ہے۔ اس لیے کہ میں خود اسے رام گلی میں چھوڑ کرآیا ہوں اورمیں نے ان ہاتھوں سے قفل لگایا ہے‘‘
میری گفتگو کا انداز نہایت متین اور سنجیدہ تھا۔
’’آپ نے قفل کیوں لگایا؟‘‘
پاربتی نے نہایت تیزی سے دریافت کیا۔
’’دیکھا میں نہ کہتی تھی، یہ آپ ہی کارستانی ہے۔ ‘‘
’’کیوں لگایا، اس لیے کہ میں نے لگا دیا۔ اورمیں نے نہیں لگایا۔ اور میں نے نہیں لگایا میرے ہاتھوں نے لگایا ہے۔ ‘‘
’’یہ بھی کوئی بات ہے؟‘‘
میں کرسی پرسے اٹھا اور جمائی لے کر کہا۔
’’رات کو دیر تک باہر رہنے سے پوری نیند نہیں سو سکا۔ میرا خیال ہے، اب سونا چاہیے۔ ‘‘
’’چابی دے دیجیے، پھر آپ سو سکتے ہیں۔ ورنہ قیامت برپا کردوں گی۔ ‘‘
پاربتی نے سخت اضطراب کی حالت میں چابی کے لیے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا۔
’’چابی۔ چابی‘‘
میں نے اپنی قمیض کی جیب میں ہاتھ ڈال کرکہا۔
’’مگر وہ تو گم ہو گئی ہو گی۔ نامعلوم کس نے اُڑن چُھو کر ڈالی۔ اب کیا ہو گا؟‘‘
یہ سن کر پاربتی خشم آلود ہوکربولی۔
’’گم ہو گئی ہو گی۔ ‘‘
یعنی آپ کو پہلے سے ہی معلوم تھا کہ گم ہو جائے گی۔ موہن صاحب! داہنے ہاتھ سے چابی نکال کر دے دیجیے، یہ شرارتیں جوان لڑکیوں کے ساتھ اچھی معلوم نہیں ہوتیں، ورنہ میرا نام پاربتی ہے پاربتی، مجھے کوئی ایسی ویسی لڑکی نہ سمجھیے گا۔ ‘‘
’’چابی واقعی گم ہے‘‘
! میں نے پہلی سی متانت کے ساتھ جواب دیا
’’اور تمہیں اس قدر تیز ہونے کی ضرورت نہیں، بیکار تم مجھ پر اس قدر گرم ہورہی ہو۔ ‘‘
’’چابی گم کہاں ہوئی۔ مجھے بھی تو معلوم ہو؟‘‘
پاربتی اب ہوا سے لڑنا چاہتی تھی۔
’’آخر آپ کی جیب سے کوئی جنات لے گیا۔ ‘‘
’’اگر تمہیں معلوم ہو جائے تو کیا کرلو گی، دروازہ بند ہے اور میں نے اسے گلی میں پھینک دیا ہے! لو اب صاف سنو میں دروازے کی درز سے دیکھا کہ جب میں نے گلی میں پھینکی تو کتے نے ہڈی سمجھ کر منہ میں دبوچ لیا اور نگل لیا۔ اب وہ کتا ڈھونڈا جائے، اس کا پیٹ چیرا جائے، تب کہیں ملے۔ ‘‘
یہ سُن کر وہ جھلا کر رہ گئی اور زیادہ تیز آواز میں کہا۔
’’آپ کو اس شرارت کا جواب دینا ہو گا؟‘‘
’’کسے؟‘‘
’’یہ بعد میں معلوم ہو جائے گا۔ ‘‘
میں نے اطمینان کا سانس لیا اور کہا۔
’’تو پھر یہ بعد کی بات ہے اُس وقت دیکھا جائے گا۔ اب ہمیں حال پر غور کرنا ہے۔ کتے کے پیٹ میں کہیں کنجی گھل نہ گئی ہو۔ ‘‘
وہ خاموش ہو گئی۔ اور میں بھی چپ ہو گیا۔ کمرے میں مکمل سکوت طاری تھا۔ وہ ٹائیلٹ میز کے قریب متحیر کھڑی تھی اور غالباً اپنی بے بسی پر کُڑھ رہی تھی۔
’’آپ دروازہ نہیں کھولیں گے؟‘‘
اس نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا۔
’’دیکھیے مجھے نہ ستائیے، و رنہ اس کا انجام اچھا نہ ہو گا۔ ‘‘
’’میرے پاس چابی نہیں، اس لیے مجبور ہوں، ہاں البتہ شام کو دروازہ کھولا جا سکتا ہے اس لیے کہ شاید اس وقت تک تلاش کرنے پر مل جائے۔ ‘‘
’’اورمیں اس وقت تک یہیں قید رہوں گی؟‘‘
’’نہیں، تم بڑی خوشی سے صحن میں، کمروں میں، کوٹھوں پر جہاں چاہو کود سکتی ہو، گا سکتی ہو، مجھے کوئی عذر نہیں۔ ‘‘
’’پرماتما جانے آپ کو کیا ہو گیا ہے۔ ‘‘
وہ میری گفتگو کے انداز پر سخت حیرت زدہ تھی۔
’’میں اچھا بھلا ہوں لیکن کبھی کبھی تفریح بھی تو ہونی چاہیے۔ کیا تم اس کی قائل نہیں ہو۔ کیا تم کبھی ایسا تفریح مذاق نہیں کرتیں۔ ‘‘
’’مجھے گھر جانا ہے موہن صاحب!‘‘
اُس نے میرے سوال کا جواب دیا۔
’’تم بالکل صحیح کہہ رہی ہو، تمہیں گھر جانا ہے۔ گھر گیا پانی سے بھر اور اس میں بڑے بڑے کچھوؤں کا ڈر، لیکن بتاؤ میں کیا کرسکتا ہوں؟‘‘
’’چابی دے دیجیے، بہت ستا چکے اب نہ ستائیے۔ ‘‘
’’دیوی جی، مجھے افسوس ہے کہ وہ کم بخت ناشدنی گم ہو گئی ہے۔ ‘‘
’’گم ہو گئی ہے، گم ہو گئی ہے، آپ نے یہ کیا رٹ لگا رکھی ہے۔ آپ چابی کیوں نہیں دیتے؟‘‘
’’میرے پاس نہیں ہے سرکار، کتے کے پیٹ میں ہے۔ ‘‘
’’موہن صاحب! لڑکیوں سے اس طرح کا مذاق نہیں کرتے۔ کتے کا پیٹ، آپ کی جیب ہے۔ ‘‘
’’اچھا تو یونہی ہو گا۔ ‘‘
’’یونہی ہو گا، چابی لائیے میں جانا چاہتی ہوں۔ ‘‘
’’میں ایک بار نہیں سو بار کہہ چکا ہوں کہ چابی میرے پاس نہیں ہے، نہیں ہے، نہیں ہے۔ ‘‘
’’چابی آپ کے پاس ہے، آپ کے پاس ہے، آپ کے پاس ہے!‘‘
’’میرے پاس نہیں، نہیں، نہیں ہے۔ ‘‘
’’نہیں آپ ہی کے پاس ہے، ہے، ہے۔ ‘‘
اس نے
’’ہے‘‘
کو سو مرتبہ دہراتے ہوئے کہا۔
’’اچھا نہیں تھی تو ہے۔ ‘‘
’’تو لائیے جیب سے نکالیے۔ ‘‘
’’میں نہیں دوں گا۔ ‘‘
’’آپ کو دینا پڑے گی۔ ‘‘
’’کوئی زور ہے؟‘‘
’’میں چلانا شروع کردوں گی۔ ‘‘
اس نے مجھ پر رعب گانٹھا۔
’’بصد شوق۔ ‘‘
میں نے بڑے اطمینان سے جواب دیا۔
’’مگر تم کو معلوم ہونا چاہیے کہ ناحق اپنا گلا پھاڑو گی، حلق تھکاؤ گی۔ کچھ بھی نہ ہو گا، روپیٹ کے دیکھ لو۔ میں جھوٹ نہیں کہتا۔ اس کمرے میں کوئی روشندان نہیں۔ دروازوں پر جتنے پردے لٹک رہے ہیں سب کے سب دبیز ہیں۔ مجھے بچپن ہی میں اس کا کئی مرتبہ تلخ تجربہ ہو چکا ہے کہ یہاں سے بلند سے بلند آواز بھی باہر نہیں جاسکتی۔ ماتاجی احتیاطاً مجھے اس کمرے میں پیٹا کرتی تھیں۔ میں اس مار سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے زور زور سے چلایا کرتا تھا کہ پتا جی میری آواز سن لیں مگر بے سود۔ تم بیکار چلاؤ گی۔ ‘‘
پاربتی نے میری بات سنی اور ہارے ہوئے انسان کی طرح کہا۔
’’لیکن آپ چابی نہیں دیں گے؟‘‘
’’مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ نہیں‘‘
’’کیوں؟ اس کا سبب؟‘‘
’’پھر وہی مہمل سوال۔ ‘‘
’’آپ کا مذاق حد سے بڑھ رہاہے۔ ‘‘
اس نے اپنی ساڑھی کے گرتے ہوئے پلو کو سنبھالتے ہوئے کہا۔
’’میں یہ سب معاملہ حرف بحرف جیسے کا تیسا بملا کو سنا دوں گی۔ ‘‘
’’بڑے شوق سے، میں آج شام کو دہلی جارہا ہوں۔ اس کے علاوہ بیچاری بملا کر بھی کیا سکے گی؟‘‘
’’وہ آپ کے پتا جی سے شکایت کرے گی۔ ‘‘
’’میری ایک خشم آلود جھڑکی اس کی زبان بند کرنے کے لیے کافی ہو گی۔ ‘‘
’’تو میں خود اُن سے سب کچھ کہہ دوں گی۔ ‘‘
’’جو دل میں آئے کرلینا۔ اس وقت اس کے اظہار کی ضرورت نہیں ہے۔ ‘‘
میں نے کہنے کو تو کہہ دیا۔ مگر دل میں بہت ڈرا۔ پتا جی گو نرم دل تھے۔ مگر اس قسم کی شرارت کا سُن کر ان کا رنجیدہ ہونا لازم تھا۔ بہر حال میں نے سوچ رکھا تھا کہ اگر پاربتی نے ان سے کہہ دیا تو میں سر جھکا کر ان کی لعن طعن سن لوں گا۔ دراصل میں کسی قیمت پر بھی اِدھر اُدھر کی چیزیں کتر کر جھٹ سے اپنے بل میں گھس جانے والی چوہیا کو اپنے دامِ انتقام سے باہر نہیں نکالنا چاہتا تھا۔ مجھے خاموش دیکھ کروہ میرے فرض سے آگاہ کرنے کی خاطر بولی۔
’’آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ مجھے گھر جانا ہے۔ بس دل لگی ہو چکی۔ اب کنجی سیدھے من سے نکالیے‘‘
’’تم نہیں جاسکتی ہو۔ ‘‘
’’یہ بھی عجیب سکھا شاہی ہے۔ ‘‘
’’ہاں اس مکان میں میرا راج ہے اور سامنے والے مکان پر تمہارا۔ اپنے مکان کی چھت پر تم سیوا جی ہو اور ہم تمہاری حکومت تسلیم کرتے رہے۔ تم نے ہزاروں مرتبہ چڑھے ہوئے پتنگوں کو کئی کئی ریل ڈور سمیت توڑ لیا ہے اور ہم خاموش رہے ہیں۔ آج ہماری بادشاہت میں ہو۔ اس لیے تمہیں دم مارنے کی مجال نہ ہونی چاہیے۔ ‘‘
’’میں نے آپ کے پتنگ کبھی نہیں توڑے، آپ غلط کہہ رہے ہیں۔ ‘‘
’’تم جھوٹ بول رہی ہو پاربتی، تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس وقت میرے ہاتھ بڑے بڑے اختیارات کی ڈورہے، مردوں سے بات بات پر نوک جھونک کرنا تمہاری فطرت میں داخل ہو گیا ہے۔ مگر شاید تمہیں یہ معلوم نہیں کہ ہم لوگ بڑے سخت گیر ہوتے ہیں۔ بُری طرح بدلہ لیتے ہیں سمجھیں!‘‘
یہ سن کر وہ اور بھی گھبرا گئی۔
’’میں جانتی ہوں۔ ‘‘
وہ دروازے کی طرف بڑھ رہی تھی کہ میں نے دوڑ کر دہلیز میں اس کا راستہ روک لیا۔
’’تم کمرے میں ہی رہو گی؟‘‘
’’ہٹیے، مجھے جانے دیجیے۔ ‘‘
اس نے میرے بازو کو جھٹکا دیا۔ میں وہیں پر جما رہا، یہ دیکھ کر وہ ایک قدم پیچھے ہٹ گئی اور سخت غصے کی حالت میں کہا۔
’’آپ زبردستی کررہے ہیں۔ ‘‘
’’ابھی تم نے زبردستی کا نصف بھی نہیں دیکھا۔ ‘‘
’’آپ مجھے نہیں جانے دیں گے؟‘‘
’’نہیں۔ ‘‘
’’میں رو دوں گی، موہن صاحب میں سرپیٹ لوں گی اپنا‘‘
اور اس کی آنکھوں سے واقعی ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے، اسی حالت میں وہ رونی آواز میں دھمکیاں دیتی ہوئی آگے بڑھی۔ مجھے دھکا کر اس نے دروازے سے باہر نکلنا چاہا۔ اس کشمکش اور پریشانی میں مضطرب دیکھ کر مجھے اس پر ترس آگیا۔ اور جب وہ تازہ حملے کے لیے آگے بڑھی۔ تو میں نے بڑے آرام سے اس کے گیلے ہونٹوں کو اپنے لبوں سے چُھو لیا۔ میرے لبوں کا اس کے ہونٹوں کو چُھونا تھا کہ آفت برپا ہو گئی۔ یہ سمجھیے کہ کسی نے آتشبازی کی چھچھوندر کو آگ دکھا دی ہے۔ اس نے مجھے وہ موٹی موٹی گالیاں دیں کہ توبہ بھلی اور میرے سینے کو اپنے ہاتھوں سے دھڑا دھڑ پیٹنا شروع کردیا۔ لطف یہ ہے کہ آپ روتی جاتی تھی۔ آخر کار جب مجھے مار مارکر تھک گئی تو زمین پر بیٹھ کر سر کو گھٹنوں میں چھپا کر اور بھی زیادہ زور سے رونا شروع کردیا۔ نصف گھنٹے کی منت سماجت کے بعد اُس نے اپنی آنکھوں سے آنسو بہانے بند کیے۔ اس کے بعد میں نے جیب سے چابی نکالی اور صدر دروازہ کھول کر اپنے کمرے کی طرف جاتے ہوئے کہا۔
’’دروازہ کُھلا ہے اور آپ جاسکتی ہیں۔ ‘‘
اُس شام کو میں دہلی چلا گیا۔ اور پندرہ روز کے بعد واپس آیا۔ چونکہ گھرمیں کسی نے اس شرارت کے متعلق مجھ سے استفسار نہ کیا۔ اس لیے معلوم ہوا کہ پاربتی نے میرا چیلنج قبول کرلیا ہے کہ وہ انتقام ضرور لے گی۔ ایک روز میں نے میز کا دراز کھول کر اپنی بڑی تصویر نکالی۔ اس لیے کہ مجھے اس کا فریم بنوانا تھا۔ یہ فوٹو خاکستری رنگ کے بڑے لفافے میں بند تھا۔ چنانچہ میں اس کو کھول دیکھے بغیر فریم ساز کے ہاں لے گیا۔ اس کی دکان پر میں نے ڈیڑھ گھنٹے کے غور و فکر کے بعد فریم کے لیے ایک لکڑی انتخاب کی اور کچھ ہدایات دینے کے بعد تصویر والا لفافہ دکاندار کو دے دیا۔ اس نے جب اُسے کھول کر دیکھا تو کھلکھلا کر ہنس پڑا۔ میں نے جب تصویر پر نظر دوڑائی تو دیکھا۔ اس پر سیاہ پنسل سے مونچھیں اور داڑھی بنی ہوئی ہے۔ ناک پر ایک سیاہ گولا سا رکھا ہے اور چشمے کے شیشے بالکل سیاہ کردیے گئے ہیں۔ یہ تصویر میری شبیہ تھی مگر اس مسخ حالت میں اس کو پہچاننا بہت دشوار تھا۔ پہلے پہل تومیں بہت متحیر ہوا کہ یہ کس کی حرکت ہے مگر فوراً ہی سب معاملہ صاف ہو گیا۔ سیوا جی میری غیر حاضری میں اپنی ہمسایہ سلطنت پر نہایت کامیابی سے چھاپہ مار گئے تھے!

 

 

admin

Author: admin

Check Also

نعرہ : افسانہ : سعادت حسن منٹو

اُسے یوں محسوس ہوا کہ اس سنگین عمارت کی ساتوں منزلیں اُس کے کاندھوں پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے