Home / ادب نامہ / نثر / منٹو کے افسانے / مرزا غالبؔ کی حشمت خاں کے گھر دعوت : سعادت حسن منٹو

مرزا غالبؔ کی حشمت خاں کے گھر دعوت : سعادت حسن منٹو

جب حشمت خاں کو معلوم ہو گیا ہے کہ چودھویں(ڈومنی) اس کے بجائے مرزا غالبؔ کی محبت کا دم بھرتی ہے۔ حالانکہ وہ اس کی ماں کو ہر مہینے کافی روپے دیتا ہے اور قریب قریب طے ہو چکا ہے کہ اس کی مسی کی رسم بہت جلد بڑے اہتمام سے ادا کردی جائے گی، تو اس کو بڑا تاؤ آیا۔ اس نے سوچا کہ مرزا نوشہ کو کسی نہ کسی طرح ذلیل کیا جائے۔ چنانچہ ایک دن مرزا کو رات کو اپنے یہاں مدعو کیا۔ مرزا غالب وقت کے بڑے پابند تھے۔ جب حشمت خاں کے ہاں پہنچے تو دیکھا کہ گنتی کے چند آدمی چھولداری کے نیچے شمعوں کی روشنی میں بیٹھے ہیں۔ گاؤ تکیے لگے ہیں۔ اُگالدان جابجا قالینوں پر موجود پڑے ہیں۔ غالب آئے، تعظیماً سب اٹھ کھڑے ہوئے اور ان سے معانقہ کیا اور حشمت خاں سے مخاطب ہوئے
’’ہائیں۔ خاں صاحب یہاں تو سنّاٹا پڑا ہے۔ ابھی کوئی نہیں آیا؟‘‘
حشمت خاں مسکرایا
’’یوں کیوں نہیں کہتے کے اندھیرا پڑا ہے۔ چودھویں آئے تو ابھی چاندنی چھٹک جائے۔ ‘‘
مرزا غالبؔ نے یہ چوٹ بڑے تحمل سے برداشت کی۔
’’سچ تو یوں ہے کہ آپ کے گھر میں چودھویں کے دم سے روشنی ہے۔ ہتکڑیوں کی جھنکار اور آپ کی تیز رفتار کے سوا دھرا ہی کیا ہے؟‘‘
حشمت خاں کھسیانا سا ہو گیا۔ اس کو کوئی جواب نہ سوجھا۔ اتنے میں دو تین اصحاب اندر داخل ہوئے جن کو حشمت خاں نے مدعو کیا تھا۔ آگے آئیے جناب جمیل احمد خاں صاحب۔ آئیے اور بھئی سرور خاں، تم نے بھی حد کردی۔ ‘‘
حشمت خاں کے ان مہمانوں نے جو اس کے دوست تھے، موزوں و مناسب الفاظ میں معذرت چاہی اور چاندنی پر بیٹھ گئے۔ حشمت خاں نے اپنے ملازم کو اپنی گرج دار آواز میں بلایا
’’منے خاں!‘‘
’’بی چودھویں ابھی تک نہیں آئیں۔ کیا وجہ؟‘‘
منے خاں نے عرض کی
’’جی حضور، بہت دیر سے آئی ہیں، لال کمرے میں ہیں۔ سارے سماجی حاضر ہیں۔ کیا حکم ہے؟‘‘
حشمت خاں طشتری میں سے پان کا چاندی اور سونے کے ورق لگا ہوا بیڑا اٹھایا اور اپنے نوکر کو دیا
’’لو یہ بیڑا دے دو۔ محفل میں آجائیں گانا اور ناچ شروع ہو۔ ‘‘
مُنے خاں لال کمرے میں گیا۔ چودھویں، چُوڑی دار پائجامہ پہنے دونوں ٹخنوں پر گھنگھرو باندھے تیار بیٹھی تھی۔ اس نے اس سانولی سلونی جوانی کو بیڑا دیا۔ چودھویں نے اسے لے کر ایک طرف رکھ دیا۔ اٹھی، دونوں پاؤں فرش پر مار کر گھنگھرؤں کی نشست دیکھی اور سماجیوں سے کہا
’’تم لوگ چلو اور لہرا بجانا شروع کرو۔ میں آئی۔ ‘‘
سماجیوں نے حاضرین کو فرشی سلام کیا اور ایک طرف بیٹھ گئے۔ طبلہ سارنگی سے ملنے لگا، لہرا بجنا شروع ہوا ہی تھا کہ چودھویں، لال کمرے ہی سے ناچتی تھرکتی محفل میں آئی۔ کورنش بجا لا کر ایک چھناکے کے ساتھ ناچنے لگی۔ جمیل احمد نے ایک توڑے پر بے اختیار ہو کرکہا
’’بی چودھویں، کیا کیا ناچ کے انگوں میں بھاؤ لجاؤ بتا رہی ہو۔ ‘‘
چودہویں نے جو کہ ایک نیا توڑا لے رہی تھی، اسے ختم کرکے تسلیم بجا لاتے ہوئے کہا
’’حضور، آپ رئیس لوگ قدر دانی فرماتے ہیں ورنہ میں ناچنا کیا جانوں۔ ‘‘
سرور خاں بہت مسرور تھے، کہا
’’سچ تو یہ ہے، بی چودھویں تم ناچتی ہو تو معلوم ہوتا ہے پھل جھڑی پھوٹ رہی ہے۔ ‘‘
جمیل احمد سرور خاں سے مخاطب ہوئے
’’اماں گُل ریز نہیں کہتے۔ ‘‘
پھر انہوں نے غالبؔ کی طرف دیکھا
’’کیوں مرزا نوشہ۔ صحیح عرض کررہا ہوں نا؟‘‘
غالبؔ نے تھوڑے توقف کے بعد چودہویں کی طرف کنکھیوں سے دیکھا
’’میں تو نہ پھل جھڑی کہوں گا اور نہ گُل ریز۔ بلکہ یوں کہوں گا کہ معلوم ہوتا ہے مہتاب پھوٹ رہی ہے۔ ‘‘
جمیل احمد بولے
’’واہ واہ۔ کیوں نہ ہو۔ شاعر ہیں ناشاعر، چودھویں کا ناچ اور مہتاب، نہ پھل جھڑی نہ گل ریز۔ سبحان اللہ، سبحان اللہ!‘‘
حشمت خاں نے اپنی مخصوص گرجدار آواز میں کہا
’’ایک تو یوں ان بی صاحبہ کا دماغ چوتھے آسمان پر ہے، آپ لوگ اور ساتویں آسمان پر پہنچا رہے ہیں‘‘
چودھویں ناچتے ہوئے ایک ادا سے حشمت خاں کو کہتی ہے،
’’جی ہاں آپ کو تو بس کیڑے ڈالنے آتے ہیں۔ ‘‘
حشمت خاں مسکراتا ہے اور اپنے دوستوں کی طرف دیکھتا ہے۔
’’اچھا حضرات سُنیے۔ چودھویں جس وقت ناچتی ہے، معلوم دیتا ہے پانی پر مچھلی تیر رہی ہے۔ ‘‘
پھر چودھویں سے مخاطب ہوتا ہے
’’لے اب خوش ہوئیں‘‘
چودھویں ناچنا بند کردیتی ہے اور ننھی سی ناک چڑھا کر کہتی ہے،
’’دماغ کہاں پہنچا ہے۔ سڑی بدبودار مچھلی۔ دُورپار۔ نوج میں کیا مچھلی ہوں‘‘
محفل میں فرمائشی قہقہے لگتے ہیں۔ حشمت خاں کو چودہویں کا جواب ناگوار معلوم ہوتا ہے۔ مگر چودھویں اس کے بگڑے ہوئے تیوروں کی کوئی پرواہ نہیں کرتی اور غالبؔ کو محبت کی نظر سے دیکھ کر ان کی یہ غزل بڑے جذبے کے ساتھ گانا شروع کرتی ہے یہ ہم جو ہجر میں دیوارو در کو دیکھتے ہیں کبھی صبا کو کبھی نامہ بر کو دیکھتے ہیں! وہ آئیں گھرمیں ہمارے خدا کی قدرت ہے کبھی کم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں! چودھویں یہ غزل غالبؔ کی طرف رُخ کرکے گاتی ہے اور کبھی کبھی مسکرا دیتی ہے۔ غالبؔ بھی متبسم ہو جاتے ہیں۔ حشمت خاں جل بھن جاتا ہے اور چودھویں سے بڑے کڑے لہجے میں کہتا ہے
’’ارے ہٹاؤ، یہ غزلیں وزلیں، کوئی ٹھمری داد راگاؤ‘‘
چودھویں غزل گانا بند کردیتی ہے۔ مززا غالب کی طرف تھوڑی دیر ٹکٹکی باندھ کر دیکھتی ہے اور یہ ٹھمری الاپنا شروع کرتی ہے ع پیا بن ناہیں چین حشمت خاں کے سارے منصوبے خاک میں ملے جارہے تھے۔ اپنی کرخت آواز میں جان محمد کو بُلاتا اور اس سے کہتا ہے
’’وہ میرا صندوقچہ لانا۔ ‘‘
جان محمد بڑے ادب سے دریافت کرتا ہے
’’کون سا صندوقچہ حضور؟‘‘
’’ارے وہی، جس میں کل میں نے تمہارے سامنے کچھ زیورات لا کے رکھے ہیں۔ ‘‘
گانا جاری رہتا ہے۔ اس دوران میں جان محمد صندوقچہ لا کر حشمت خاں کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ وہ غالبؔ کو جو چودھویں کا گانا سننے میں محو ہے ایک نظر دیکھ کرمسکراتاہے۔ صندوقچہ کھول کر ایک جڑاؤ گلوبند نکال کر چودھویں سے مخاطب ہوتا ہے
’’چودھویں۔ ادھر دیکھو۔ یہ گُلوبند کس کا؟‘‘
چودہویں ایک ادا کے ساتھ جواب دیتی ہے
’’میرا‘‘
حشمت خاں، غالبؔ کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھتا ہے اور صندوقچے سے جڑاؤ جھالے نکال کر چودھویں سے پوچھتا ہے،
’’اچھا یہ جھالے کس کے!‘‘
پھر وہی ادا، پر اب جو تصنع اختیار کررہی تھی
’’میرے!‘‘
حاضرین یہ تماشا دیکھ رہے تھے، جن میں مرزا غالبؔ بھی شامل تھے۔ سب حیران تھے کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔ حشمت خاں اب کی کڑے نکالتا ہے
’’چودھویں یہ کڑوں کی جوڑی کس کی؟‘‘
چودھویں کی ادا بالکل بناوٹ ہو گئی
’’میری!‘‘
اب حشمت خاں بڑی خود اعتمادی سے اس سے سوال کرتا ہے،
’’اچھا اب بتاؤ، چودھویں کس کی؟‘‘
چودھویں توقف کے بعد ذرا آنچل کی آڑ لے کر دیکھتی ہے
’’آپ کی‘‘
غالبؔ خاموش رہتے ہیں۔ لیکن حشمت خاں جو شاید چودھویں کے آنچل کی اوٹ کا جواب سمجھ نہیں سکا تھا، مرزا سے کہا
’’آپ بھی گواہ رہیے گا۔ ‘‘
غالبؔ نے ذرا تیکھے پن سے جواب دیا
’’سازشی مقدمے میں گواہی مجھ سے دلواتے ہو۔ ‘‘
’’تم نے نہیں سنا؟‘‘
مرزا غالبؔ محفل سے اٹھ کر جاتے ہوئے حشمت خاں سے کہتے ہیں،
’’کچھ دیکھا نہ کچھ سنا۔ اور دوسرے مجھی سے مقدمہ اور مجھی سے گواہی۔ غضب، اندھیر!‘‘
غالبؔ کے جانے کے بعد محفل درہم برہم ہو جاتی ہے۔ چودھویں سے حشمت خاں گانا جاری رکھنے کے لیے کہتا ہے۔ صرف حکم کی تعمیل کے لیے وہ گاتی ہے، مگر اکھڑے ہوئے سروں میں۔ حشمت خاں دلی طور پر محسوس کرتا ہے کہ وہ شکست خوردہ ہے۔ آج کا میدان غالبؔ مار گئے۔ دوسرے روز صبح غالبؔ کا بھیجا ہوا آدمی مداری چودھویں کے گھر پہنچتا ہے اور چودھویں سے ملتا ہے۔ وہ اس کو پہچانتی تھی، اس لیے بہت خوش ہوتی ہے اور اس سے پوچھتی ہے
’’کیوں میاں مردھے، کہاں سے آئے ہو؟‘‘
’’جی حبش خاں کے پھاٹک سے آیا ہوں۔ نواب مرزا اسد اللہ خاں صاحب نے بھیجا ہے۔ ‘‘
چودھویں کا دل دھڑکنے لگا
’’کیوں کیا بات ہے؟‘‘
’’جی نہیں، انہوں نے یہ توڑا بھیجا ہے‘‘
یہ کہہ کر مداری ایک توڑا چودھویں کو دیتا ہے، جسے وہ جلدی جلدی بڑے اشتیاق سے کھولتی ہے۔ اس میں سے زیورات نکلتے ہیں۔ مداری اس سے کہتا ہے
’’بی بی جی گن کے سنبھال لیجیے اور ایک بات جو نواب صاحب نے کہی ہے، وہ سُن لیجیے۔ ‘‘
’’کیا کہا؟‘‘
مداری تھوڑی ہچکچاہٹ کے بعد زبان کھولتا ہے۔
’’انہوں نے کہا تھا۔ اپنے رئیس جمعدار حشمت خاں سے کہنا کہ جن مقدموں کا فیصلہ روپیہ پیسہ چڑھا کربڑی آسانی سے اپنے حق میں ہو جائے، ان پر گواہوں کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔ ‘‘
چودھویں گزشتہ رات کے واقعات کی روشنی میں مرزا نوشہ کی اس بات کو فوراً سمجھ جاتی ہے اور دانتوں سے اپنی مخروطی انگلیوں کے ناخن کاٹنا شروع کردیتی ہے اور سخت پریشان ہو کر کہتی ہے
’’وہی ہوا جو میں سمجھتی تھی۔ میاں مردھے، تم ذرا ٹھہرو، تو میں تم سے کچھ کہوں‘‘
مداری چند لمحات سوچتا ہے
’’لیکن بی بی جی نواب صاحب نے فرمایا تھا کہ دیکھو مداری، یہ توڑا دے آنا۔ واپس نہ لانا اور فوراً چلے آنا۔ ‘‘
چودھویں اور زیادہ مضطرب ہو جاتی ہے
’’ذرا دم بھر ٹھہرو۔ سنو، ان سے کہنا۔ میں کیوں کر۔ ہاں یہ کہنا کہ میری سمجھ میں کچھ بھی نہیں آتا۔ لیکن سنا تم نے۔ کہنا میں مجبوری سے کہہ گئی۔ نہیں نہیں مردھے بابا کہنا، ہاں کیا؟۔ بس یہی کہ میرا قصور کچھ نہیں‘‘
یہ کہتے کہتے اس کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔
’’لیکن سنا میاں مداری۔ تم اتنا ضرور کہنا کہ آپ خود تشریف لائیں، تو میں اپنے دل کا حال کہوں۔ اچھا تو یوں کہنا۔ زبانی عرض کروں گی۔ ہائے اور کیا کہوں۔ سنو میرا ہاتھ جوڑ کر سلام کہنا۔ ‘‘
مداری اچھا اچھا کہتا چلا جاتا ہے۔ لیکن چودھویں اسے آنسو بھری آنکھوں سے سیڑھیوں کے پاس ہی روک لیتی ہے۔
’’اے میاں مردھے۔ اے میاں مداری۔ کہنا میری جان کی قسم ضرور آئیے گا۔ کہنا میرا مردہ دیکھیے۔ چودھویں بدنصیب کو اپنے ہاتھ سے گاڑیئے جو نہ آیئے۔ دیکھو ضرور سب کچھ کہنا‘‘
مداری چلا جاتا ہے۔ وہ روتی روتی بیٹھک میں آتی ہے اور گاؤ تکیے پر گر کر آنسو بہانے لگتی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد جمعدار حشمت خاں آتا ہے اور معنی خیز نظروں سے اس کو دیکھتا ہے۔ چودہویں کواس کی آمد کا کچھ احساس نہیں ہوتا، اس لیے وہ غم و اندوہ کے ایک اتھاہ سمندر میں تھپیڑے کھا رہی تھی۔ حشمت خاں اس کے پاس ہی مسند پر بیٹھ جاتا ہے۔ پھر بھی چودھویں کو اس کی موجودگی کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔ بے خودی کے عالم میں وہ اُس کی طرف بالکل خالی نظروں سے دیکھتی ہے اور بڑبڑاتی ہے
’’جانے وہ ان سے سب باتیں کہے گا بھی یا نہیں‘‘
حشمت خاں جو اس کے پاس ہی بیٹھا تھا، کرخت آواز میں بولا
’’میری جان مجھ سے کہی ہوتیں تو ایک ایک تمہارے مرزا نوشہ تک پہنچا دیتا۔ ‘‘
چودھویں چونک پڑتی ہے، جیسے اس کو خوابوں کی دنیا میں کسی نے ایک دم جھنجھوڑ کر جگا دیا۔ اس کی آنسو بھری آنکھیں دُھندلی ہورہی تھیں۔ اسے صرف سیاہ نوکیلی مونچھیں دکھائی دیں، جن کا ایک ایک بال اس کے دل میں تکلوں کی طرح چُبھتا گیا۔ آخر اسے کوئی ہوش نہ رہا۔ وہ سمجھتا تھا کہ یہ بھی ایک چلتر ہے جو عام طور پر طوائفوں اور ڈومنیوں سے منسوب ہے۔ وہ زور زور سے قہقہے لگاتا رہا اور ڈومنی بے ہوشی کے عالم میں مرزا نوشہ کی خاطر مدارت میں فوراً مشغول ہو گئی تھی۔ اس لیے کہ وہ اس کے بلانے پر آگئے تھے۔

 

 

admin

Author: admin

Check Also

گھوگا۔ افسانہ ۔ سعادت حسن منٹو

میں جب ہسپتال میں داخل ہوا تو چھٹے روز میری حالت بہت غیر ہو گئی۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے