Home / ادب نامہ / نثر / منٹو کے افسانے / نا مکمل تحریر افسانہ سعادت حسن منٹو

نا مکمل تحریر افسانہ سعادت حسن منٹو

میں جب کبھی ذیل کا واقعہ یاد کرتا ہوں ، میرے ہونٹوں میں سوئیاں سی چبھنے لگتی ہیں۔
ساری رات بارش ہوتی رہی تھی۔جس کے باعث موسم خنک ہو گیا تھا۔ جب میں صبح سویرے ہوٹل سے باہر نکلا تو دھلی ہوئی پہاڑیوں اور نہائے ہوئے ہر ے بھرے پیڑوں کی تازگی دیکھ کر طبیعت پر وہی کیفیت پیدا ہوئی جو خوبصورت کنواریوں کے جھرمٹ میں بیٹھنے سے پیدا ہوتی ہے۔
بارش بند تھی البتہ ننھی ننھی پھوار پڑ رہی تھی۔ پہاڑیوں کے، اونچے اونچے درختوں پر آوارہ بد لیاں اونگھ رہی تھیں۔ گویا رات بھر برسنے کے بعد تھک کر چور چور ہو گئی ہیں۔
میں چشمے کی طرف روانہ ہوا۔ کاندھے پر تولیہ تھا۔ ایک ہاتھ میں صابن دانی تھی، دوسرے میں ، نیکر، جب سڑک کا موڑ طے کرنے لگا تو آنکھوں کے سامنے دھند ہی دھند نظر آئی بادل کا ایک بھولا بھٹکا ٹکڑا تھا جو شاید آسمانی فضا سے اکتا کر ادھر آ نکلا تھا اس بادل نے سڑک کے دوسرے حصے کو آنکھوں سے بالکل اوجھل کر دیا تھا۔ میں نے اوپر آسمان کی طرف دیکھا۔ وہاں بھی سپیدی ہی نظر آئی اور معلوم ہوا کہ اوپر سے کوئی دھنکی ہوئی روئی بکھیر رہا ہے!
اتنے میں ہوا کے تیز جھونکوں نے اس سپیدی میں ارتعاش پیدا کیا اور اس دھند میں سے بخارات علیحدہ ہونے لگے اور میری ننگی باہوں سے مس ہوئے۔ برف سے اٹھتے ہوئے دھوئیں کی سردی کے احساس سے وہی کیفیت پیدا ہوتی ہے جو ان بخارات نے پیدا کی۔
اس بادل میں سے گذرتے وقت سانس کے ذریعے سے یہ سپید سپید بخارات میرے اندر داخل ہو گئے، جس سے پھیپھڑوں کو بڑی راحت محسوس ہوئی۔ میں نے جی بھر کے اس سے لطف اٹھایا۔ جب بادل کے اس ٹکڑے کو طے کر کے میں باہر آیا تو آنکھوں کو کچھ سجھائی نہ دیا۔ میرے چشمے کے شیشے کاغذ کے مانند سفید ہو گئے تھے۔ پھر ایکا ایکی مجھے سردی محسوس ہونے لگی اور جب میں نے اپنے کپڑوں کی طرف دیکھا تو وہ شبنم آلود تکئے کی طرح گیلے ہو رہے تھے!
میں غسل خانے کے معاملے میں بہت سست ہوں اور سردیوں کے موسم میں تو روزانہ غسل کا میں بالکل قائل نہیں ہوں۔ دراصل نہانے دھونے کا فلسفہ میری سمجھ سے ہمیشہ بالا تر رہا ہے۔ غسل کا مطلب یہ ہے کہ غلاظت دور کی جائے اورروزنہانے کا مطلب یہ ہوا کہ آدمی رات…. میں غلیظ اور گندہ ہو جاتا ہے۔ ہاتھ منہ دھو لیا جائے، پیر صاف کر لئے جائیں سر کے بال دھو لئے جائیں۔ اس لئے کہ یہ سب چیزیں ، جلدی میلی ہو سکتی ہیں۔ مگر ہر روز بدن کیوں صاف کیا جائے، جب کہ یہ بہت دیر کے بعد میلا ہوتا ہے۔ گرمیوں میں تو خیر میں نہانے کا مطلب سمجھ سکتا ہوں۔ مگر سردیوں میں اس کا مصرف مجھے نظر نہیں آتا۔ آخر کیا مصیبت پڑی ہے کہ ہر روز صبح سویرے انسان غسل خانے میں جائے۔ سردی کے مارے پورے دو گھنٹوں تک دانت بجتے رہیں ، انگلیاں سن ہو جائیں اور ناک برف کی ڈلی بن جائے…. غسل نہ ہوا۔ اچھی خاصی مصیبت ہوئی۔
غسل کے بارے میں اب بھی میرا یہی خیال ہے، لیکن جس پہاڑی گاؤں کا میں ذکر کر رہا ہوں ، وہاں کی فضا ہی کچھ اس قسم کی تھی کہ جو چیز مجھے اب مہمل نظر آتی ہیں یا اس سے پہلے نظر آیا کرتی تھیں وہاں بامعنی دکھائی دیتی تھیں …. اس غسل ہی کو لیجئے جو اس پہاڑی گاؤں میں جتنا عرصہ میں رہا ہر روز میرا کام پہلا یہ ہوتا تھا کہ نہاؤں ، دیر تک نہاتا رہوں۔
چشمے پر پہنچ کر میں نے کپڑے اتارے، نیکر پہنی اور جب پانی کی اس گرتی ہوئی دھار کے پاس گیا جو پتھروں پر گر کر ننھے ننھے چھینٹے اڑا رہی تھی تو پانی کی ایک سرد بوند میری پیٹھ پر آ پڑی۔ میں تڑپ کر ایک طرف ہٹ گیا۔ جہاں بوند گری تھی اس جگہ گدگدی پر کار کی نوک کی طرح چبھی اور سارے جسم پر پھیل گئی۔ میں سمٹا، کانپا اور سوچنے لگا مجھے واقعی نہانا چاہئے۔ یا کہ نہیں۔ قریب تھا کہ میں باغی ہو جاؤں۔ لیکن آس پاس نگاہ دوڑائی تو ہر شے نہائی ہوئی نظر آئی۔ چنانچہ جو باغیانہ خیال میرے دماغ میں اس شریر بوند نے پیدا کئے تھے ٹھنڈے ہو گئے۔
سرد پانی کی گدگدیاں شروع شروع میں تو مجھے بہت ناگوار گذریں۔ مگر جب میں جی کڑا کر کے نیچے بیٹھ گیا تو لطف آیا کہ بیان نہیں کر سکتا۔ دونوں ہاتھ کے ساتھ زور زور سے پانی کے چھینٹے اڑانے سے سردی کی شدت کم ہو جاتی ہے، چنانچہ جب میں نے یہ گُر معلوم کر لیا تو پھر اس لطف میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔
سرد پانی کی موٹی دھار نے عجیب کیفیت پیدا کر دی…. پھر جب پانی کے دباؤ سے بال پیشانی پر سے نیچے لٹک آئے اور انہوں نے آنکھوں اور منہ میں گھسنا شروع کر دیا تو زور زور سے پھونکیں مار کر ان کو ہٹانے کی ناکام سعی نے مزا اور بھی دوبالا کر دیا۔ کبھی کبھی ڈوب کر ابھرتے ہوئے آدمی کا احساس بھی مجھے ہوا۔ اور میں نے سوچا کہ جو لوگ ڈوب کر مر جاتے ہیں ان کو ایسی موت میں بے حد لطف آتا ہو گا۔ چشمے کا پانی آنسوؤں کی طرف شفاف تھا مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میرے ارد گرد بلبلوں اور پانی کے چھینٹوں کا مشاعرہ ہو رہا ہے۔
غسل سے فارغ ہو کر میں نے تولئے سے بدن پونچھا اور سردی کا احساس کم کرنے کے لئے دھیمے دھیمے سروں میں ایک گیت گنگنا نا شروع کر دیا۔ کبھی کبھی یہ سریلی گنگناہٹ ہوا کے جھونکوں سے مرتعش ہو جاتی اور میں یہ سمجھتا کہ میرے بجائے کوئی اور آدمی بہت دور گا رہا ہے۔ اس پر میں تولئے کو زیادہ زور کے ساتھ بدن پر ملنے لگا۔
بدن خشک ہو گیا تو میں نے کپڑے پہنے اس اثناء میں بوندا باندی شروع ہو گئی۔ میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔میرے عین اوپر بادل کا ایک ٹکڑا سفنج نما چھتری کی طرح پھیلا ہوا تھا، میں نے جلدی جلدی پہاڑی پر سے اترنا شروع کیا اور فوراً ہی کودتا پھاندتا سڑک میں اتر آیا متوقع بارش سے بچنے کے لئے میں نے قدم تیز کر دیئے۔ لیکن ابھی سڑک پر بمشکل ایک جریب کا فاصلہ طے کرنے پایا تھا کہ اے بکری بکری‘‘ کی آواز بلند ہوئی، پھر اس کے ساتھ ہی دو پہاڑیوں نے اس آواز کو دبوچ کر دوبارہ ہوا میں اچھال دیا۔ میرے جی میں آئی کہ میں بھی اس آواز کو گیند کی طرح دبوچ لوں اور ہمیشہ کے لئے اپنی جیب میں ڈال لوں۔
میں ٹھہر گیا۔ وہی مانوس دل صدا تھی جو اس سے قبل میں کئی مرتبہ سن چکا تھا بظاہر’’ اے بکری بکری۔‘‘ تین معمولی لفظ ہیں۔ اور کاغذ پر کوئی ایسا تصور پیش نہیں کرتے جو اُلّو کہا حسین ہو مگر واقعہ ہے کہ میرے لئے ان میں سب کچھ تھا جو روح کو مسرور کر سکتا ہے۔ جوں ہی یہ آواز میری سماعت سے مس ہوتی…. مجھے یہ معلوم ہوتا کہ پہاڑ کی چھاتی میں سے صدیوں کی رکی ہوئی آواز نکلی ہے…. اور سیدھی آسمان تک پہنچ گئی ہے۔
’’ اے‘‘ بالکل دھیمی آواز میں اور ’’ بکری بکری‘‘ بلند اور فلک رس سروں میں ایک لمحہ کے لئے یہ نعرہءِ شباب پہاڑیوں کی سنگین دیواروں میں گونجتا، ڈوبتا، ابھرتا، تھرتھراتا اور رباب کے تاروں کی آخری لرزش کی طرح کانپتا فضا میں گھل مل جاتا۔
کالی کالی بدلیاں چھا رہی تھیں۔ فضا نم آلود تھی، ہوا کے جھونکوں نے اس نمی میں غنودگی کی سی کیفیت پیدا کر دی تھی۔ میں نے اوپر پہاڑی پر اگی ہوئی ہری ہری جھاڑیوں کی طرف دیکھا اور ان کے عقب میں مجھے دو تین بکریاں نظر آئیں میں نے اوپر چڑھنا شروع کر دیا۔ ایک منہ زور بکری، وزیر کو گھسیٹے لئے جا رہی تھی اور وہ اس کو ڈانٹنے کے لئے’’ اے بکری، بکری۔‘‘ پکار رہی تھی۔ اس کا منہ غصہ اور زور لگانے کے باعث پگھلتے ہوئے تانبے کی رنگت اختیار کر گیا تھا۔ بکری کے گلے میں بندھی ہوئی رسی کو پوری طاقت سے کھینچنے میں اس کا سینہ غیر معمولی طور پر عریاں ہو گیا تھا، سر پیچھے جھکایا تھا۔ دونوں ہاتھ آگے بڑھے ہوئے سر پر سے دوپٹہ اتر کر باہوں میں چلا آیا تھا۔ پیشانی پر، سیاہ بالوں کی لٹیں بل کھاتی ہوئی سنپولیاں معلوم ہو رہی تھیں۔
ایک سبز جھاڑی کے پاس پہنچ کر بکری دفعتاً ٹھہر گئی اور اس کے نرم نرم پتوں کو اپنی تھو تھنی سے سونگھنا شروع کر دیا۔ یہ دیکھ کر وزیر نے اطمینان کا سانس لیا اور اپنا اترا ہوا دوپٹہ ایک بڑے سے پتھر پر رکھ کر اس نے پاس والے درخت کے تنے سے بکری کے گلے میں بندھی ہوئی رسی باندھی اور دوسرے پیڑ کی جھکی ہوئی ٹہنی پکڑ کر جھولا جھولنے لگی۔
میں جھاڑیوں کے پیچھے کھڑا تھا۔ بازو اوپر اٹھانے کے باعث اس کی کھلی آستینیں نیچے ڈھلک آئیں ، کپڑے کے چھلکے جب اترے تو اس کے بازو کندھوں تک عریاں ہو گئے۔ بڑی خوبصورت باہیں تھیں ، یوں معلوم ہوتا تھا کہ ہاتھی کے دو بڑے دانت اوپر کو اٹھے ہوئے ہیں ، بے داغ ہموار اور زندگی سے بھر پور۔
وہ جھولا جھول رہی تھی اور اس کے دونوں بازو کچھ اس انداز سے اوپر کی جانب اٹھے ہوئے تھے کہ مجھے یہ اندیشہ لاحق ہوا کہ وہ آسمان کی طرف پرواز کر جائے گی۔ جھاڑیوں کے عقب سے نکل کر میں اس کے سامنے آ گیا۔ دفعتاً اس نے میری طرف نگاہیں اٹھائیں۔ سٹپٹائی اور ٹہنی کو اپنی ہاتھوں کی گرفت سے آزاد کر دیا۔ گری سنبھلی اور حلق میں سے ایک مدھم چیخ نکالتی دوڑ کر دوپٹہ لینے کے لئے پتھر کی طرف بڑھی…. مگر دوپٹہ میری بغل میں تھا۔
اس نے دوپٹہ کی تلاش میں یہ جانتے بوجھتے کہ وہ میرے بغل میں ہے ادھر ادھر دیکھا اور مسکرا دی اور اس کی آنکھوں میں حیا کے گلابی ڈورے ابھر آئے۔ گال، اور سرخ ہو گئے اور وہ سمیٹنے کی کوشش کرنے لگی۔ دونوں بازوؤں کی مدد سے اس نے اپنے سینے کی شوخیوں کو چھپا لیا اور انہیں ، اور زیادہ چھپانے کی کوشش کرتی اور پتھر پر بیٹھ گئی اور اس پر بھی جب اسے اطمینان نہ ہوا تو اس نے گھٹنے اوپر کر لئے اور مجھ سے بگڑ کر کہنے لگی۔
یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔’’ میرا دوپٹہ لائیے۔‘‘
میں بڑھا اور بغل میں سے دوپٹہ نکال کر اس کے گھٹنے پر رکھ دیا، مجھے اس کے بیٹھنے کا انداز بہت پسند آیا، چنانچہ میں بھی اسی طرح اس کے پاس بیٹھ گیا۔ اس کی طرف غور سے دیکھا تو مجھے ایسا معلوم ہوا کہ وزیر جوان آوازوں کا ایک بہت بڑا انبار ہے اور میں …. اور میں خدا معلوم کیا ہوں اس کو ہاتھ لگاؤں تو وہ باجے کی طرح بجنا شروع ہو جاوے گی ایسے سر اس میں سے نکلیں گے جو مجھے بہت اوپر لے جائیں گے، اور زمین و آسمان کے درمیان کسی ایسی جگہ معلق کر دیں گے جہاں میں کوئی آواز نہ سن سکوں گا۔
وزیر نے مجھے جنگلی بلی کی طرح گھور کر دیکھا گویا کہنا چاہتی ہے اب جاؤ۔ یہاں دھرنا دے کر کیوں بیٹھ گئے ہو، میں نے اس کے اس خاموش حکم کی کوئی پرواہ نہ کی اور کہا:۔
چشمے سے واپس آ رہا تھا کہ تمہاری آواز سنی بے اختیار کھنچا چلا آیا وزیر …. تمہاری یہ آواز مجھے یقیناً پاگل بنا دے گی…. جانتی ہو….پاگل آدمی بڑے خطر ناک ہوتے ہیں۔‘‘
میری یہ بات سن کر اس کو حیرت ہوئی۔’’ یہ کیا پاگل پن ہے…. میری آواز کسی کو کیوں پاگل بنانے لگی۔‘‘
میں نے کہا۔’’ جیسے کچھ جانتی ہی نہیں ہو…. دنیا میں یہ راگ راگنیاں کہاں سے آئی ہیں …. لیکن چھوڑ و اس قصے کو یہ بتاؤ میری ایک بات مانو گی؟‘‘
مان لوں گی، پر آپ یہ تو کہئے کہ بات کیا ہے؟‘‘
’’ ایک دفعہ میری خاطر’’ اے، بکری بکری، کا نعرہ بلند کرو۔‘‘
’’ مجھے ہاتھ سے دھکا دے کر اس نے تیز لہجے میں کہا۔ یہ کیا پاگل پن ہے، بنانے کے لئے ، صرف میں ہی ایک رہ گئی ہوں۔‘‘
وزیر، بخدا میں تمہیں بنا نہیں رہا۔مجھے تمہاری آواز پسند ہے۔جھوٹ کہوں تو…. لے اب مان بھی جاؤ، بس ایک بار!‘‘
’’ جی نہیں۔‘‘
’’ میں تم سے التجا کرتا ہوں۔‘‘
’’ میں نے یہ آواز نہ کبھی نکالی ہے۔ اور نہ اب نکالوں گی۔‘‘
’’ میں ایک بار پھر درخواست کرتا ہوں۔‘‘
’’ یا اللہ…. یہ کیا مصیبت ہے۔‘‘ وزیر نے اپنا بدن سکیڑ لیا۔’’ اور اگر میں نہ مانوں تو…. یعنی یہ بھی کیا ضروری ہے کہ میں اسی وقت آپ کے کہنے پر بے کار چلانا شروع کر دوں …. آپ تو خواہ مخواہ چھیڑخانی کر رہے ہیں اور میں نگوڑی جانے کیا سمجھ رہی ہوں …. بھئی ہو گا، مذاق اچھا نہیں لگتا۔‘‘
’’ وزیر! میں نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ کہا۔’’ میری، طرف دیکھو…. میرے چہرے سے تم اس بات کا اطمینان کر سکتی ہو کہ میں ہنسی مذاق نہیں کر رہا۔ ‘‘
اس نے میرے چہرے کی طرف مصنوعی غور سے دیکھا اور میری ناک پر انگلی رکھ کر کہا۔’’ آپ کی ناک پر یہ ننھا سا تل کتنا بھلا دکھائی دیتا ہے۔‘‘
اس وقت میرے جی میں آئی کہ اس پتھر پر جس پر وہ بیٹھی ہے، میں اپنی ناک گھسانا شروع کر دوں ، تاکہ وہ ننھا سا تل ہمیشہ کے لئے مٹ جائے۔ وزیر نے میری طرف، دیکھا تو وہ یہ سمجھی کہ میں روٹھنے کا ارادہ کر رہا ہوں ، چنانچہ اس نے فوراً اپنی بکریوں کی طرف دیکھا اور مجھ سے کہا۔’’ بابا آپ خفا نہ ہو جایئے….‘‘
قریب تھا کہ وہ مخصوص آواز بلند کرے۔ کہ ایکا ایکی، جھجک اس پر غالب آ گئی۔ بہت زیادہ شرما کر اس نے اپنی گردن جھکا لی۔’’ پر میں پوچھتی ہوں ، کہ اس میں خاص بات ہی کیا ہے!‘‘
میں نے بگڑ کر کہا۔’’ وزیر،تم اب باتیں نہ بناؤ۔‘‘
دوسری طرف منہ کر کے اس نے ایکا ایکی بلند آواز میں ’’ اے بکری‘‘ پکارا۔ اس کے بعد شرمیلی ہنسی کا ایک فوارہ سا اس کے منہ سے پھوٹ پڑا۔ میں بلندیوں میں پرواز کر گیا…. کتنی صاف اور شفاف آواز تھی۔ دھلی ہوئی فضا میں اس کی گونج دیر تک دور، نظر سے اوجھل ہو جانے والے پرندوں کے پروں کی طرح چمکتی رہی، پھر جذب ہو گئی۔
وزیر کی طر ف میں نے دیکھا۔ کہ اب وہ خاموش تھی۔ اس کا چہرہ غیر معمولی طور پر صاف تھا۔ آنکھیں ، نہائی ہوئی چڑیوں کی طرح بے قرار تھیں۔ ہنسنے کے باعث ان میں آنسو بھر آئے۔ہونٹ اس اندازسے کھلے ہوئے تھے کہ میرے ہونٹوں میں سرسراہٹ پیدا ہو گئی…. خدا معلوم کیا ہوا…. میں نے وزیر کو اپنے بازوؤں میں لے لیا۔ اس کا سر میری گودی میں ڈھلک آیا۔…. لیکن ایکا ایکی زور سے وہ اپنا بازو میرے جھکے ہوئے سر اور اپنے متحیر چہرے کے درمیان لے آئی۔ اور دھڑکتے ہوئے لہجے میں کہنے لگی’’ آہ ہٹائیے،ہٹائیے ان ہونٹوں کو!‘
میری گود سے نکل کر وہ بھاگ گئی اور میرے ہونٹوں کی تحریر نامکمل رہ گئی۔
اس واقعہ کو ایک زمانہ گذر چکا ہے۔ مگر جب کبھی میں اس کو یاد کرتا ہوں۔ تو میرے ہونٹوں میں سوئیاں سی چبھنے لگتی ہیں …. یہ نامکمل بوسہ ہمیشہ میرے ہونٹوں پر اٹکا رہے گا۔‘‘

٭٭٭

admin

Author: admin

Check Also

گھوگا۔ افسانہ ۔ سعادت حسن منٹو

میں جب ہسپتال میں داخل ہوا تو چھٹے روز میری حالت بہت غیر ہو گئی۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے