Home / کالم / عمران اور شعلے – نقیب لوون

عمران اور شعلے – نقیب لوون

1973میں رمیش سی پی نے چھبیس سال کی عمر میں ایک فلم شروع کی۔ اس فلم کو سلیم اور جاوید کی جوڑی نے لکھا اور آر ڈی برمن نے میوزک دی۔ جب پندرہ اگست 1975 کو یہ فلم تھیٹرز میں شعلے کے نام سے ریلیز ہوئی تو پہلے ہفتے فلاپ ہونے کے باوجود یہ اب تک کی برصغیر کی تاریخ کی سب سے بڑی فلم بن گئی ہے۔
اب ظاہر ہے سوچا تو یہی جانا چاہیےکہ اس فلم نے رمیش سیپی کو امر کیا ہوگا۔ جی بالکل رمیش سیپی امر ہوگئے لیکن یہ فلم سیپی کو بریک کرنے کی وجہ بھی بن گئی۔ اب سیپی جو کام کرتا لوگ اس کا شعلے سے موازنہ شروع کرتے۔ تنگ آکے وہ چھوٹی سکرین پہ گیا۔ وہاں نہیں چلا تو واپس آگیا۔ لیکن کامیابی پھر نصیب نہیں ہوئی۔ اور آج تک رمیش سیپی بحثیت شعلے میکر ہی جانے جاتے ہیں۔ 2007 میں رام گوپال ورما نے شعلے کا ری میک بنایا، لیکن شعلے شعلے ہی تھی امیتابھ بچن کی موجودگی تک فلم کو بالی وڈ کی سب سے بڑی فلاپ بنانے سے نہیں روک پائی ۔وجہ صرف شعلے کا وہ معیار تھا جس پہ لوگ بالکل بھی سمجھوتا نہیں کررہے۔
اب آتے ہیں عمران خان کے پاس ، خان صاحب کے پاس بھی ورلڈ کپ تھا لوگ اعتبار کربیٹھے، اور خان صاب اس چکر میں زمینی حقایق مسترد کرکے وہ سب کچھ کرنے کا وعدہ کرگئے جو کافی مشکل ٹاسک ہے۔ خان صاب شہباز کو شوباز تو بنا گئے لیکن جب حکومت ملی تو وہاں پنجاب میں بھی فیض الحسن چوہان اور عثمان بزدار پہ تکیہ کرنا پڑا۔ آیی ایم ایف کو گالیاں دی خودداری سیکھائی لیکن جب حکومت سنبھالی تو پتہ چلا کہ آئی ایم ایف کے پاس بھی جانا ہےقرض بھی لینا ہے اور قرض پہ سود بھی۔
عمران خان شاید مکمل طور پہ ابزرویشن نہیں کرپائےورنہ وہ پنجاپ پولیس کو ٹھیک کرنے کی بات کسی اور طرح سے کرتے اتنا سیدھا دعوی نہ کرتے۔ ان کے اعداد وشمار والے افلاطون ان کو معیشت کے نہ اندازے صحیح دے پائے نہ ان کا حل۔ خان صاحب شاید تاریخ سے بھی زیادہ واسطہ نہیں رکھتے ورنہ وہ جان پاتے کہ اتنا کچھ بگڑا ہونے کے بعد یہ سو دن میں سب کچھ ٹھیک کرنے کی بات نہ کرتے۔ ابراہام لنکن سے کچھ سیکھ لیتے جو پہلے تین سال اتنے مایوس ہوگئے کہ میں چھوڑ ہی دیتا ہوں کی رٹ بار بار لگاتے رہے۔
اب حالات ان کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں۔ اب ان کو وہ سب کرنا ہوگا ورنہ خان صاب بھی رمیش سیپی بن جاہیں گے۔ سب سے زیادہ اپوزیشن کا سامنا ان کو کرنا ہوگا، کیونکہ جو اپوزیشن آپ کے دلائے توقعات آپ کا کرسکتے۔ دنیا میں اور کوئی نہیں کرسکتا ۔کیونکہ تقریروں میں اگلے ہی دن دو سو ارب ڈالر پہنچ جاہیں گے کا تو کھل کے ڈائس پہ ہاتھ مار کے بتایا جاسکتا ہے۔ لیکن دو ارب ڈالر کیلیے کتنا خوار ہونا پڑتا ہے۔ اس کا بہرحال اب اندازہ ہوہی گیا ہوگا۔ اپوزیشن میں بیٹھ کے پٹرول پینتالیس روپے تو بیچا جاسکتاہے، حکومت میں آکے ایک روپیہ کم کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

 

admin

Author: admin

Check Also

ہم اتنے سنگ دل کیوں ہوگئے ہیں : میر افضل خان طوری

پاکستانیوں کی اکثریت مذہب، عقیدے ، مسلک ، زبان اور علاقے کی بنیاد پر ایک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے