Home / ادب نامہ / علی اکبر ناطق / افسانے علی اکبر ناطق / پگڑی باندھ لی -علی اکبر ناطق

پگڑی باندھ لی -علی اکبر ناطق

پگڑی باندھ لی

 

مجھے فیصلے پر اعتراض نہیں تھا لیکن یہ بات نہ جانے کیوں میری سمجھ میں نہ آئی کہ جہاں بھی جرم ہو تا یہ دونوں موقع پر سب سے پہلے کیسے پہنچ جاتے۔ گاؤں میں ڈاکو آگھستا تو یہ پیچھا کرتے۔ چوری ہو جاتی تو کھوجی کے ساتھ سارا سارا دن یہ خوار ہوتے۔ ایسا کئی دفعہ ہوا کہ گاؤں والوں کے برے بھلے میں کام آئے۔ لو گ تحسین آمیز نظروں سے دیکھتے، مگر جانے کیوں میں ان سے حسد کرتا۔ یہ جب بھی کوئی اچھا کام کرتے میں جل اٹھتا۔ شاید اس لئے کہ وہ میری بالکل عزت نہیں کر تے تھے۔ یا پھر میں شکی مزاج تھا کہ ہر بات میں کیڑے نکالتا۔
بہرحال گاؤں کے معززین اور سکول کے اساتذہ نے باہمی اتفاق سے فیصلے پر دستخط کر دیے، کیوں کہ یہ گاؤں کی عزت کا معاملہ تھا۔ وہ کبھی برداشت نہیں کرسکتے تھے کہ ان کے گاؤں کی لڑکی کے ساتھ دوسرے گاؤں کا کوئی لڑکا عشق لڑائے۔ لہٰذا اب وسیم کو کوئی حق نہیں تھا کہ وہ یہاں پر اپنی تعلیم جاری رکھ سکے، بلکہ وہ شکر کرے کہ اسے صرف مار پیٹ کر فارغ کر دیا گیا۔ گاؤں کے تمام لوگوں نے اس فیصلے کو آفرین کہا اور اور شیدے کو شاباش دی جس نے اپنے دوست فیکے گجر کے ساتھ مل کر رانو اور لونڈے وسیم کو گنے کے کھیت میں جا دبوچا تھا اور پکڑ کے پنچایت کے آگے کر دیا تھا۔
اسکول سے فارغ کرنے کے علاوہ وسیم کے والدین کو یہ بھی بتا دیا گیا کہ آئندہ اسے اس گاؤں کے حدود میں دیکھا گیا تو ذمہ دار وہ خود ہوں گے۔
باوجود اس کے کہ مجھے وسیم سے کوئی ہمدردی نہ تھی، پہلے کی طرح آج بھی ان کا یہ معرکہ اچھا نہ لگا۔یہی حالت علوی کی تھی۔ علوی کا گھر بالکل میرے سامنے تھا۔ کوئی تیس کے پیٹے میں ہو گا۔ تعلیم اچھی خاصی تھی۔ عورت کی جنسیت پر بولنے کا اتنا چسکا کہ شاید ہی کسی میں ہو۔اس معاملے میں اس کی ہمدردیاں وسیم اور رانو کے ساتھ تھیں۔ شیدا اور فیکا گجر قابل نفرین تھے جنہوں نے بیچ کھیت کھنڈت ڈال دی۔
بہر حال کچھ دنوں میں یہ قضیہ آیا گیا ہو ا اور معاملات معمول پر آ گئے۔
ہائی سکول ہمارے گھر سے سو قدم کی راہ پر تھا اور سکول کی عمارت گاؤ ں کی آخری نکڑ پر تھی، جس کے آگے کھیت کھلیان شروع ہو جاتے۔ شام ڈھلے گاؤں کے مضافات کی فضا انتہائی رومانوی ہو جاتی۔ پرندے اندھیرا چھا جانے سے پہلے اپنے گھروں کو جانے لگتے۔ جب وہ سکول کے میدان کے اوپر سے قطار اندر قطار اڑتے اور افق میں آہستہ آہستہ گم ہو جاتے تو انہیں دیکھنے میں بہت مزہ آتا۔ میں اور علوی روزانہ یہ نظارہ کرنے کے لئے سکول کے گیٹ کے آگے آ کر کھڑے ہو جاتے اور گھنٹوں کھڑے ادھر ادھر کی مارتے رہتے، یہاں تک کہ عشاءنکی اذانیں بھی وہیں پر سنائی دیتیں اور ہمارا یہ عمل اتنا متواتر ہو گیا کہ اگر کسی دن وہاں کھڑے نہ ہو سکتے تو یوں محسوس ہو تا گویا اہم فرض قضا ہو گیا۔
گاؤں کی اکثر عورتیں جن کے گھروں میں رفع حاجت کا انتظام نہ تھا شام کے جھٹ پٹے میں ٹولیوں کی شکل میں کھلیانوں کا رخ کرتیں۔ رانو واقعے کے بعد غالباً ایک ماہ کسی کو نظر نہ آئی، حتیٰ کہ رفع حاجت کے لئے بھی باہر آتی جاتی ہم نے نہ دیکھی۔ پھر رفتہ رفتہ دیگر عورتوں کے ساتھ دیکھی جانے لگی۔ قریبا ًدو ماہ بعد توپوں چلنے پھر نے لگی گویا کوئی واقعہ ہی نہ ہوا تھا۔
اس کا گھر ہماری گلی سے دوسری والی گلی میں تھا۔ شیدے اور فیکے کا گھر بھی اسی گلی میں تھا۔ بلکہ فیکا تو عین اس کے سامنے والے گھر میں رہتا تھا۔ اس کی بیٹھک کے آگے نیم کا سایہ دار پیڑ تھا جس کے نیچے چارپائی پڑی رہتی۔ اب شیدے اور فیکے کا اکثر وقت اسی چارپائی پر گزرتا اور خوب قہقہے اڑتے۔ دن گزرنے کے ساتھ قہقہے فقرے بازی میں بدل گئے اور گاؤں کے لوگوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں۔ یہاں تک کہ بات اب پڑوسیوں سے نکل کر دیگر لوگوں میں بھی چلی گئی لیکن سامنے آ کر کوئی نہ ٹوکتا کہ دونوں جوان گاؤں کے چودھریوں میں سے تھے۔
ادھر رانو غضب کی خوبصورت تھی اور گھر میں کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔ ایک بوڑھا باپ جو سارا دن بکریاں چراتا، شام تھکا ہارا سوجاتا، اور ماں کو مرے آٹھ سال ہوئے۔ چنانچہ کہاں تک بچتی، چند دنوں میں راہ پر آ گئی اور خفیہ اشارے ہونے لگے۔ پھر اشارے کھل کھیلنے میں تبدیل ہو گئے،لیکن گاؤں میں کو ئی ایسا بھونچال نہ آیا جس سے وہ محتاط رویہ اختیار کرتے۔ بلکہ رانو اب دونوں کے ساتھ بیچ بازار میں گپ مارتی اور کھلکھلا کر ہنستی۔ایک دفعہ تو میں نے خود اسے شیدا سے بات کرتے ہوئے دیکھا۔ بہت غصہ آیا اور میرا جی چاہا کہ اس کے خنجر گھونپ دوں۔ سارے گاؤں سے آنکھ لڑاتی مگر ان سے دور رہتی۔ جب میں نے یہ بات علوی کو بتائی تو اس نے بھی بے حیا کو بہت کوسا۔ کہنے لگا،دیکھ بھا ئی عورت میں حیا رہے تو رہے، ورنہ یوں عقل سے جاتی ہے۔‘‘ خیر اس کے بعد ہم نے کبھی اس کا تذکرہ نہ کیا۔ شاید ہمارے پاس گفتگو کو اور بہت سے موضوع تھے، یا ویسے ہی وہ ہمارے خیال میں نہ آئی،حتیٰ کہ مہینے گزر گئے۔
ایک دن ہم سکول کے گیٹ کے سامنے کھڑے تھے اور معمول کے مطابق ہمیں کھڑے کھڑے رات دس بج گئے۔ گاؤں میں یہ وقت ہو تا ہے جب پچانوے فیصد دیہاتی سوئے ہوتے ہیں۔ اچانک ہمارے پاس سے تین آدمی گزرے جن میں دو کو ہم نے بخوبی پہچان لیا۔ ایک شیدا اور دوسرا فیکا تھا۔ لیکن تیسرا آدمی جس کے سرپرپگڑی بندھی تھی اور ہاتھ میں کلہاڑی تھی، قد دونوں سے چھوٹا تھا، باوجودیکہ چاندنی رات تھی لیکن ہمارے پہچان میں نہ آیا۔ میں تو نظر انداز کر دیتا لیکن علوی کی متجسس آنکھیں بھانپ گئیں کہ ہو نہ ہو پگڑی والا مشکوک ہے۔ کہنے لگا، ’’آؤ ان کا پیچھا کریں ‘‘۔ اس وقت میری طبیعت بھی مہم جوئی پر آمادہ تھی، لہٰذا ہم نے انتہائی احتیاط سے ان کا پیچھا شروع کر دیا۔ انہیں محتاط فاصلے پر رکھتے فصلوں اور درختوں کی اوٹ سے تعاقب کرتے رہے۔ ہمیں ان کی باتیں سنائی نہ دیتی تھیں لیکن مبہم آوازیں ضرور آتیں جنہیں ہم نہ سمجھ سکتے تھے۔
اب ہم گاؤں سے قریب قریب دو کلو میٹر باہر آ گئے تھے اور سخت حیران تھے کہ گاؤں سے اتنا باہر آ جانے کے بعد بھی وہ کوئی عملی کارروائی نہیں کرتے بلکہ آگے ہی چلے جاتے ہیں۔ ہم اکتا کر مڑنے ہی والے تھے کہ شیدا اور فیکا رک گئے اور نالے کی پگڈنڈی پر بیٹھ گئے جبکہ پگڑی والا کھڑا رہا۔ کچھ دیر آپس میں باتیں کرتے رہے جنہیں دور ہونے کی بنا پر ہم نہ سن سکے۔ پھر شیدے یا شاید فیکے نے اس کا بازو پکڑ کے کھینچا، جس پر اس نے مزاحمت کی اور اس کی پگڑی کی کھل گئی۔ ہمارا شک یقین میں بدل گیا۔لمبے بال اور روشن چہرہ نظر آ رہا تھا۔جب دونوں نے زبر دستی پکڑنے کی کوشش کی تو رانو نے چیخ ماری جس پر گھبرا کر دونوں نے چھوڑ دیا۔ پگڑی دوبارہ باندھ دی گئی اور پھر تینوں نے آگے بڑھنا شروع کر دیا۔ اب ہماری حیرانی دو چند ہو گئی کہ یہ کیا ماجرا ہے۔ اگر آمادہ نہیں تو گھر سے ساتھ آئی ہی کیوں ؟مگر زیادہ تر ہمیں اپنی اشتیاق انگیز نگاہوں کی ناکامی پر افسوس تھا جو ابھی تک کچھ نہ دیکھ سکیں۔ خیر، تجسس ہمیں ان کا پیچھا کرنے پر مجبور کرتا رہا۔یہاں تک کہ دوسرے گاؤں کی حدود میں داخل ہو گئے۔ جب پڑوسی گاؤں قریباً ایک فرلانگ کے فاصلے پر رہ گیا تو تینوں پھر رک گئے۔ میں اور علوی ایک جھاڑی کی اوٹ لے کر ان سے کوئی تیس قدم پر بیٹھ گئے۔ کچھ دیر رکنے کے بعد رانو اور شیدا تو وہیں بیٹھ گئے جبکہ فیکا آگے گاؤں کی طرف بڑھ گیا۔
فیکے کے جانے کے بعد شیدے نے دوبارہ رانو کے ساتھ ہا تھا پائی شروع کر دی جس پر رانو نے پھر سخت مزاحمت کی اور شیدے کو نزدیک نہ آنے دیا۔اب ہمیں رانو پر غصہ آنے لگا کہ یہ کیا چاہتی ہے، اور شیدے پر اس سے زیادہ کہ زنخا ہے، زبر دستی کر لیتا۔بہر حال ہماراتجسس اور حیرانی بڑھ گئی تھی۔شیدا اور رانو سکون سے بیٹھے ہوئے تھے۔کوئی آدھ گھنٹہ بعد (جس کے دوران مجھے اور علوی کو کو بہت کوفت ہوتی رہی کہ ناحق پیچھا کیا) فیکا واپس آگیا اور ہم یہ دیکھ کر ہکا بکا رہے گئے کہ اس کے ساتھ ایک اور آدمی بھی تھا، جسے ہم نہ پہچان پائے۔ بہر حال ہم سکون سے دیکھتے رہے کہ رانو (جس نے پگڑی اب اتار دی تھی اور اسے شیدے نے سرپر باندھ لیا تھا)اور وہ نیا آدمی قریب کے خشک نالے میں چلے گئے۔ شیدا اور فیکا باہر ہی بیٹھے رہے۔ کوئی نصف گھنٹہ بعد وہ دونوں باہر آ گئے اور نیا شخص اپنے گاؤں کو مڑ گیا۔اس کے جانے کے بعد شیدے نے رانو کو پکڑ لیا، مگر اب اس نے کوئی مزاحمت نہ کی۔ اور شیدے کے بعد فیکا؟ میں اور علوی اپنے گھر کی طرف چلے آئے لیکن سارا رستہ اس گتھی کوسلجھانے کی کوشش کر تے چلے آئے کہ یہ اجنبی آدمی کون تھا۔ بہت غور کیا لیکن ہماری سمجھ میں نہ آیا۔ پوچھ ہم نہیں سکتے تھے کہ وہ دونوں گاؤں کے چودھریوں میں سے تھے۔

 

٭٭٭

admin

Author: admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے