Home / پیاز اور طب ِ نبویﷺ / پیاز اور طب ِ نبویﷺ

پیاز اور طب ِ نبویﷺ

ابو داؤد نے اپنی سنن میں حضرت عائشہ سے یہ حدیث نقل کی ہے کہ آپ سے پیاز کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے جواب دیا کہ رسول ﷺ نے جو آخری کھانا تناول فرمایا تھا اس میں پیاز موجود تھے۔
پیاز میں ایسے مرکبات ہوتے ہیں جو پانی میں پائے جانے والے نقصان دہ اجزا کے ضرر سے بچاتے ہیں ۔ پیاز کی بو زہریلی ہواؤں کے خراب اثرات کو دفع کرتی ہے۔ یہ شہوت کو بڑھاتی اور قوت ِ باہ کو تقویت دیتی ہے۔ معدے کو قوت بخشتی ہے ۔ پیاز کے باقاعدہ استعمال سے منی زیادہ پیداہوتی ہے ۔ یہ جلد کی رنگت کو نکھارتی اور بلغم کو کم کرتی ہے ۔ پیاز کے بیج استعمال کرنے سے جسم کے سفید داغ ختم ہو سکتے ہیں۔
اگر بال جھڑ رہے ہوں تو پیاز کے رس کو رگڑنے سے بال جھڑنا رک جاتے ہیں ۔ اگر پیاز کو نمک کے ساتھ استعمال کریں تو مسے ختم ہو سکتے ہیں ۔ پیاز کا رس دماغ میں چڑھانے سے دماغ صاف ہوتا ہے اور کان میں ٹپکانے سے صاف سنائی دینے لگتا ہے۔ کان بہنے کی شکائت بھی دفع ہو سکتی ہے ۔ اگر آنکھ سے پانی بہتا ہو تو اس رس کو آنکھ میں سرمہ کی سلائی سے لگائیں تو آنکھ سے پانی آنا بند ہو جاتا ہے ۔
پیاز کو پکا کر کھائیں تو اس میں بہت زیادہ غذائت ہوتی ہے ۔ یرقان ،کھانسی اور سینے کی خشکی کم ہوتی ہے ۔ یہ پیشاب آور ہے اجابت کو نرم کرتی ہے ، لیکن یاد رہے کہ بہت زیادہ پیاز کے استعمال کے نقصان بھی ہوتے ہیں ، جیسے آدھے سر کا درد یا دردِ سر کا ہونا، ریاح زیادہ پیدا ہوتی ہے اور آنکھوں میں دھندلا پن پیدا ہوتا ہے ۔ مزید یہ کہ اس سے بھولنے کی شکائت لاحق ہو سکتی ہے اور عقل میں فتور آسکتا ہے ۔ منہ کے مزے کو بگاڑتی ہے اور منہ بدبودار ہوتا ہے ، البتہ پکی ہوئی پیاز میں یہ نقصانات کم ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے آپﷺ نے کچی پیازا ور لہسن کی جگہ پکاکر استعمال فرمایا۔

admin

Author: admin

Check Also

فالج کی چند خاموش علامات

فالج ایسا مرض ہے جس کے دوران دماغ کو نقصان پہنچتا ہے اور جسم کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے