Home / شخصیت سازی / کل کا انتظار نہ کیجیے – قاسم علی شاہ

کل کا انتظار نہ کیجیے – قاسم علی شاہ

"جب ہماری زندگی میں سانحات و حادثات ہوتے ہیں تو ہم دو طرح ان پر ردِ عمل کر سکتے ہیں: یا تو امید چھوڑ دیں اوربری عادات میں گرفتار ہو جائیں؛ یا انہیں چیلنج سمجھتے ہوئے خو د کو قوی کریں!’ (دلائی لاما)
جب میں کالج میں پڑھتا تھا تو میرے کچھ دوست دوسرے شہروں سے آئے ہوئے تھے۔ان میں ایک کا تعلق گاؤں سے تھا ۔ اسے یہ خوف بہت زیادہ رہتا تھا کہ اگر میں ہوسٹل سے نکل کر شہر میں جاؤں گا تو گم ہو جاؤں گا ، کہیں کوئی مجھے اغوا نہ کر لے۔ وہ اکثر مجھے کہا کرتا کہ میں لاہور میں نیا ہوں ۔ آپ مجھے لاہور کی سیر کرا دیں ۔ میں اس کے ساتھ وعدہ کرتا کہ ایک دن میں تمہیں ضرور لاہور دکھاؤں گا ۔ لیکن وہ وعدہ وعدہ ہی رہتا۔
ایک دفعہ ہم سب دوستوں نے اس کے ساتھ پکا وعدہ کر لیا کہ جب چھٹیاں ختم ہوں گی تو ہم لاہور شہر دیکھنے چلیں گیں۔ چھٹیاں ہوئیں ، ختم ہو گئیں ، کالج کی کلاسیں شروع ہو گئیں ، لیکن وہ کلاس سے غیر حاضر تھا۔ ہم بڑے حیران ہوئے کہ وہ کہاں چلا گیا۔ اسی کالج میں اس کے گاؤ ں کا سینئر کلاس فیلو تھا۔ ہم تمام دوست مل کر اس کے پاس گئے اور اس سے پوچھا کہ ہمار ا دوست کہاں ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ چھٹی کے تیسرے دن اس کا انتقال ہو گیا۔ ہم سب بہت حیران ہوئے اور پوچھا ، وہ کیسے۔ اس نے کہا کہ چھٹی کہ تیسرے دن وہ سڑک کراس کر رہا تھا کہ ایک بس سے اس کی ٹکر ہوئی اوروہ فوت ہو گیا۔ یہ سن کر ہم سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ ہمیں اس کی موت کا بہت دکھ ہوا اور اس سے زیادہ دکھ اس بات کا ہوا کہ ہم اس کی خواہش پوری نہ کر سکے۔ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ اس طرح کے واقعات زندگی میں ایک دفعہ نہیں ہوتے ، کئی دفعہ ہوتے ہیں ۔
ایسے طلبہ کثیر تعداد میں ہیں کہ جب اگلی کلاس میں جائیں گے تو پھر محنت کریں گے۔ لیکن جب وہ اگلی کلاس میں جاتے ہیں تو پھریہی کہتے ہیں کہ اگلی کلاس میں جا کر پھر محنت کریں گے۔ اسی طرح ، بڑی عمر کے لوگ کہتے ہیں کہ ہم جلد نماز پڑھنا شروع کریں گے، لیکن ان کی نمازیں شروع نہیں ہوتیں ۔ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کہتے ہیں ہم نیک ہو جائیں گے ، لیکن وقت گزرتا ہے اور وہ نیکیاں نہیں کما پاتے۔ ہم زندگی میں بے شمار مرتبہ پلان کرتے ہیں کہ ہم یہ کریں گے ، ہم وہ کریں گے ، لیکن وہ نہیں کرتے۔ جب وقت گزرتا ہے تو وہ پچھتاوا بن جاتا ہے۔

وقتی موٹیویشن

ہم جب کبھی کوئی تقریر یا لیکچر سنتے ہیں تو اس وقت ہماری موٹیویشن کا گراف بہت اونچا ہوجاتا ہے، لیکن جیسے ہی اگلا دن آتا ہے ، وہی روٹین شروع ہو جاتی ہے۔ یاد رہے کہ موٹیویشن کا مطلب ہوتا ہے انتظار نہیں کرنا ، ابھی فیصلہ کرنا اور شروع کر دینا ہے۔ اکثر لوگ اپنے والدین کا ادب نہیں کرتے ، جب وہ دنیا سے چلے جاتے ہیں تو پھر وہ برسی مناتے ہیں، قبر پر پھول چڑھاتے ہیں، ان کے لیے قرآن خوانی کرتے ہیں ، لیکن یہ سب کچھ کرنے سے والدین واپس نہیں آسکتے۔ یہ ٹھیک ہے ان کے لیے ثواب کی محفلیں ہونی چاہیں ، مگر ان کے ہوتے ہوئے ان کی بات نہیں مانی ، ان کا کہنا نہیں مانا ، ان کو راضی نہیں کیا ، انہیں خوش نہیں کیا ، ان کے دل کو ٹھنڈک نہیں پہنچائی تو پھر ان کے جانے کے بعد ان چیزوں کی اہمیت نہیں رہتی ۔ دنیا میں تو آپ ان کا دل دکھا چکے۔
جب دل میں یہ بات آئے کہ میں تھوڑی دیر تک کام کروں گا تو فوری طور پر اپنے سینے پر ہاتھ رکھیں اور اپنے آپ سے کہیے ابھی شروع کرنا ہے۔ شیخ سعدی فرماتے ہیں "جو کہتا ہے کہ کل سے شروع کروں گا ، اس شخص کا کبھی کل نہیں آتا” کیونکہ جنہیں کرنا ہوتا ہے وہ کل کا انتظار نہیں کرتے ۔ اپنے ہردن کو نئی زندگی سمجھیے ، کیونکہ جو دن بھی دن شروع ہوتا ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہمارے لیے نعمت ہوتا ہے ۔ اس دن کی ہر شے ہمارے نام ہوتی ہے ۔

 

دس کام

دس کام سوچ لیجیے جیسے پڑھنا، اچھا انسان بننا، والدین کا احترام کرنا ، نماز پڑھنا، کسی کے کام آنا ، اخلاق بہتر بنانا، مسکرانا ، سلام کرنا ، کسی کا دل نہ دکھانا اور اپنی زندگی کو نئی زندگی بنانا وغیرہ وغیرہ۔ ان کاموں کے بارے میں فوری فیصلہ کیجیے اور شروع کر دیجیے۔ کسی کام کے شروعات میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ کام کو شروع تو ایک ایک فرد کرتا ہے لیکن اس کے دیکھا دیکھی دوسرے لوگ بھی یہ کام شروع کردیتے ہیں ۔ نصیحت کرنے سے تبدیلی نہیں آتی ہے۔ اگر آپ محنتی ہیں تو کچھ عرصہ بعد آپ مثال بن جائیں گے۔
بعض اوقات فیصلہ چھوٹا لگتا ہے ، لیکن جیسے جیسے قوقت گزرتا ہے تو پتہ چلتا ہے وہ فیصلہ چھوٹا نہیں تھا بلکہ بہت بڑا فیصلہ تھا ۔ دنیا میں جتنے بھی رفاہی کام ہیں وہ چھوٹے سے عمل سے شروع ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے بہت بڑے بن گئے۔ جیسے عبدالستار ایدھی جس نے اپنے کام کاآغاز ریڑھی سے کیا ۔ آج گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اس کا نام شامل ہو گیا ہے۔
کوئی بھی کام شروع کریں تو پہلے دو نفل ضرور پڑھ لیں اور اللہ تعالیٰ سے اس کام کی کامیابی کی دعا کریں ۔ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگیں کہ مجھے استقامت دےا ور میرٰ ہمت بڑی کردے ، کیونکہ ہمت بڑھنے سے مسلے چھوٹے ہو جاتے ہیں۔ جب دل میں اپنے آپ کو بدلنے کا سوال اٹھے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیجیے ۔ اپنی موجودگی کے احساسِ زیاں کا پیدا ہونا بہت بڑی نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو یہ احساس دے دیتا ہے ، وہ فوری طور پر اپنے آپ پر غور کرتے ہیں اور پھر عمل کا فیصلہ کرتے ہیں اور کام شروع کردیتے ہیں۔

 

 

admin

Author: admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے