Home / کالم / آزادی کی تلاش : راشد باغی

آزادی کی تلاش : راشد باغی

لفظ آزادی انسانی تاریخ میں ہمیشہ سے کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے جہاں عام حالات میں انسان مختلف عہدوں میں مختلف شکلوں میں مادی پیدوار کے تابع سماجی رشتوں کو پروان چڑھاتا رہا ہے وہاں سماجی رشتوں میں مادی پیداور رکاوٹ کی شکل اختیار کرتی رہی تو انسانی تاریخ میں ایسے غیر معمولی لمحات بھی آئے جس میں انسان نے مادی پیداور کے تابعداری کی رسم جاری رکھنے کے بجائے اُن مادی حالات کو اپنی بے باک دلیری اور شعوری آبیاری کے باعث بدلتے پرانی جکڑ بندیوں کے ہر بندھن کو توڑ کر نئے سماج کی بنیاد رکھی جہاں نئے رشتے ناطے پروان چڑھے۔

ہر عہد میں انسانوں نے سماج میں زندگی گزارنے کے کچھ اصول بھی واضح کیے اور اُن اصولوں کو اخلاقیات اور سماجی روایات کا نام دیا گو کے ایسی روایات ایک طبقاتی سماج میں ہمیشہ سے پسے ہوئے مظلوم طبقے کے لیے جکڑ بندیاں رہی ہیں لیکن اُن سماجی حدود و قیود میں رہیتے ہوئے بھی انسان کی بنیادی ضرورتوں کے خیال رکھنے کو انسانی حقوق کا نام دیا گیا یا پھر آزادی کہا گیا آزادی کی تشریخ شائد ہی اِس سے زیادہ اچھی ہو کہ آزادی بنیادی طور پر انسانوں کی ضرورتوں کے حاصل ہی کا نام ہے لفظ آزدای اور اِس جیسے ملے جُلے احساس انسانی ذہن و گمان میں ایسا نہیں کہ یہ سرمایہ دارنہ نظام کی پیداور ہیں سرمایہ درانہ نظام جہاں جاگیراداری کے بطن سے برامد ہوا ہے اور اِس نظام میں جب ہمیں سترویں صدی کے بعد پوری دنیا میں نئی قومی ریاستوں کی تشکیل نظر آتی ہے اور اِن قومی ریاستوں کی تشکیل میں عوامی جدوجہد کو جو نام دیا جاتا ہے اُس جدوجہد کو قومی آزادی یا قومی جہموری آزدای کی جدوجہد سے جانا جاتا ہے. لیکن اِس معلوم تاریخ میں ماسوائے قدیم عہد کے انسانوں کے علاوہ انسانوں کے درمیان جو طبقاتی تضاذ اور دیگر مشکلات رہی ہیں اور اب تک باقی ہیں انسانوں کی اکثریت جب بھی اُن تضاذات کو حل کرنے لیے آگے بڑھی تو اپنے اوپر ہونے والے مظالم سے چھٹکارے کے لیے ظالم نظام اور ظلم کرنے والے کے خلاف جب برسرپیکار ہوئے اُس نظام کو للکارا تو آزادی مانگی اور آزادی چھین کر لینے کی دھمکی دی اگر لفظ آزادی صرف قومی آزادی کی جدوجہد کے ساتھ مشروط ہوتا یا یہ احساس صرف قومی جدوجہد کے دوران پیدا ہوا یا پیدا کروایا گیا تو یہ بالکل غلط ہے یہ سچ ہے قومی ریاستوں کی تشکیل کے وقت جب سرمایہ دارنہ نظام عالمی منڈی کی شکل اختیار نہیں کر چکا تھا اُس وقت قومی آزادی کا نعرا کسی حد تک زمینی بندر بانٹ جو اِس سرمایہ دارنہ نظام کے رکھوالوں کے لیے زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے ساتھ ایک ریاست کی حد بندیوں میں بالاتر ہونے کے باعث سرمائے سے زائد منافع حاصل کرنے کی غرض تھی لیکن عام انسان کی جدوجہد ہمیشہ کی طرح اپنی بنیادی ضرورتوں کی خاطر تھی جس سے عام انسان سمجھتے تھے ایسی ریاستوں کی تشکیل ہو گی جس میں ہماری تمام بنیادی ضرورتوں کا حل ممکن ہو گا. جس طرح جاگیردانہ نظام کے بعد قومی ریاستوں کی تشکیل ایک طرف مقامی جاگیردار اور سرمایہ دار کے لیے کسی حد تک منافع بخش بھی تھی لیکن سرمایہ دارنہ نظام میں قومی ریاستوں کا قیام سلطنتوں میں بادشاہوں کے جاہ و جلال میں انسانی زندگی کی بے قدری اور اُن بادشاہتوں کا جہاں قومی جذبے کو ابھار کر انسانی نسل کو جنگوں میں جھونک دینا اور نیچے غربت اور دیگر مسائل میں تڑپتا انسان چھوڑ دینا اور پھر اُن جاگیرداروں کی اِنسان دشمن پالیسیوں سے تنگ انسان بغاوت پر اُتر چکا تھا وہاں سرمایہ دارنہ نظام کا قیام اور قومی ریاستوں کا عمل اور یہ آزدای اِس نظام کا ایک انقلابی کام بھی تھا۔

سرمایہ دارنہ نظام نے جدید ٹیکنالوجی سے انسانوں کے لیے پیچھلے نظاموں کی نسبت جہاں انسانوں کے لیے بہت آسانیاں پیدا کی پہلے سے زندگی کو زیادہ سہل بنایا اور اِن قومی آزدای پر مبنی ریاستوں خصوصا امریکہ,یورپ میں اپنے عروج کے دنوں انسانی ضروریات اور بنیادی آزادیوں کا بھی خیال رکھا یہ نظام جو ایک طرف جدید ٹیکنالوجی کے مرہون منت اِن ریاستوں میں انسانوں کے بنیادی حقوق کا ضامن بنا لیکن نوآدیات میں جو پچھڑے ہوئے سماج تھے جن خطوں میں سرمایہ دارنہ نظام باقاعدہ سماجی انقلاب کے زریعےبرپا نہیں ہوا اور قومی ریاستوں کی تشکیل نہیں ہو سکی .جس سرمایہ درانہ نظام کی بنیادوں میں مقابلہ بازی ,مسابقت بازاری, اور زائد سرمائے کو حاصل کرنا تھا اِسی نظام کی داغ بیل جہاں پڑی اُنہی جاگیردارنہ نظام سے سرمایہ دارنہ نظام کی طرف ترقی کرنے والی ریاستوں کے حکمران سرمایہ داروں نے نوآبادیات میں جب قدم رکھا اُن کے سامراجی عزائم تھے اُن کے ہر اقدام میں سرمائے کی بھوک عیاں تھی.

اور اُنہوں نے نو آبادیات کی جہاں پرانی ثقافت کو تباہ برباد کیا اور جس قدر ممکن تھا اُن کے وسائل کو بھی برائے راست لوٹتے رہے اور اُس وقت تک مقامی دلالوں کی مدد سے لوٹتے رہے جب تک اُن لوٹنے والوں نے یکجا ہو کر آزادی کا نعرا بلند نہیں کیا اور بغاوت پر نہیں اترے یہ الگ بات ہے اُس آزادی کی پکار اور بغاوت کی للکار کو ایک انقلابی قیادت میسر نہیں تھی جو اُن سامرجیوں کی برائے راست لوٹ کھسوٹ مٹانے کے ساتھ سامرجیوں کا بلاواسطہ اثر ورسوخ ختم کرتے مقامی دلالوں کی اجارہ داریوں اور بد معاشیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھیکنے کے ساتھ قومی جمہوری انقلاب کرتے اور نو آیادت میں بسنے والے انسانوں کو بھی بنیادی حقوق اور آزادیاں نصیب ہوتی لیکن ایسا ممکن نہیں ہو سکا. یہی وجہ ہے نو آبادیات سے کبھی بھی لفظ آزادی نہیں مٹ سکا اگر بر صغیر کی بات کی جائے تو ہمیں اِس وقت بھی بھارت کے 28 صوبوں میں سے 21 صوبوں میں ہمیں آزادی کی تحریک کسی نہ کسی شکل میں نظر آتی ایسے ہی پاکستان میں بھی چار صوبے ہیں لیکن چاروں صوبوں میں چھوٹی یا بڑی تحریکیں آزادی کی موجود رہی ہیں اور اب بھی ہیں اور ان دونوں ریاستوں میں کشمیر ہمیشہ سے ہی ایک رستا زخم رہا ہے جہاں پیچھلے 71 سالوں سے کشمیر میں آزادی لفظ کی خاطر لاکھوں انسانوں نے جانوں کی قربانی دی ہے۔

ایک عہد میں جب جاگیردانہ نظام کے مقابلے میں سرمایہ درانہ نظام میں قومی ریاستوں کا قیام انقلابی تھا لیکن اِس نظام کے نامیاتی بحران میں سرمایہ داروں کی جب سرمائے کی بھوک مزید بڑھی تو اِن قومی ریاستوں کا تشخص سرمایہ داری نے خود تباہ و برباد کرکے رکھ دیا اور نظام ایک عالمی منڈی کی شکل اختیار کر گیا جس میں اب سیاست,ثقافت ,تجارت تمام تر بین الاقوامی روپ دھار گئی اور بین الاقومیت میں جہاں پوری دنیا کے انسانوں کی آزادیوں اور مقدر کے فیصلے چند ملٹی نیشنل کرنے لگی ہیں جس میں اقلیت آزاد ہے سرمایہ آزاد ہے لیکن آزادی کی تلاش میں آج بھی اکثریت سلک رہی ہے.نو آبادیات میں بسنے والے انسانوں نے شائد ٹھیک سےانسانیت کا سفر شروع ہی نہیں کیا سرمایہ داری کے جو ثمرات امریکہ اور یورپ جیسی ریاستوں میں بسنے والے انسانوں کو حاصل ہوئے وہ نو آبادیات میں تصور ہی کیا جا سکتا تھا لیکن اب یہ نظام اِس نہج پر ہے اپنی طبعی عمر پوری کر چکا جس نظام نے امریکہ یورپ جیسی ریاستوں کو جو بنیادی ضرورتیں اور آزادیاں کل دی تھی یا عوامی بغاوت کے خوف میں انھیں دینی پڑیں تھیں اب چھین رہے ہیں غربت اور امارت کی خیلیج ہر خطے میں وسیع سے وسیع تر ہوگی ہے دولت کا ارتکاز محض چند ہاتھوں تک محدود ہے اور اکثریت بنیادی حقوق کے لیے سلک رہی ہے جو آزادی کا نعرا امریکہ یورپ جیسی ریاستوں میں ایسا لگتا تھا مٹ چکا ہے وہ نعرے ایک نئی شکل میں اُن ریاستوں میں گونجتے سنائی دے رہے ہیں سرمایہ داری عالمی منڈی کی شکل میں مختلف خطوں میں مخلتف وارداتیں ڈالتے اپنی تجوریوں کے منہ کھولے عام انسان کے نوالے چھین رہی ہے مختلف خطوں اور ریاستوں میں رہیتے یہ اقلیتی طبقہ مذہب,رنگ,نسل,قوم سے بالا اِسی نظام کا محافظ ایک ہی ہے اِن کی آزادیوں پر حرف بھی آئے تو کروڑوں انسانوں کی بلی چڑھانے سے ذرا بھر نہیں کتراتے عام انسانوں کی آزادیوں کے غاضب عام انسانوں میں نفرتیں پھیلانے میں مسلسل اپنی پالیسوں کو جاری رکھے ہوئے ہے.وہی جن کے لیے سب سے بڑا خدا سرمایہ ہے وہ عام انسانوں کو مذہب ,نسل ,اور قومی تعصابات میں غرق رکھنا چاہتا ہے تاکہ یہ اکثریتی طبقہ اِس عالمی جبر کے خلاف طبقاتی لڑائی لڑنے کے قابل نہ رہے لیکن ہر عہد میں اِس بالادست طبقے جابروں ظالموں کے خلاف آزادیوں کے لیے لڑائی لڑی گئی اب بھی ضرورت انسان کو قریب سے قریب تر کرے گی اور طبقاتی جڑت قائم ہو کر رہے گی اور آزادی کے لیے جدوجہد منظم ہو کر لڑی جائے گی اور یہ صدیوں کی آزادی کی تلاش طبقات کے خاتمے کے ساتھ انسانی شناخت بحال ہوتے قومی آزادی سے بھی بلند انسان کی آزادی ہو گی۔

 

 

admin

Author: admin

Check Also

ہم اتنے سنگ دل کیوں ہوگئے ہیں : میر افضل خان طوری

پاکستانیوں کی اکثریت مذہب، عقیدے ، مسلک ، زبان اور علاقے کی بنیاد پر ایک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے