Home / سماج / بابا کی گڑیا – رحمت اللہ شیخ

بابا کی گڑیا – رحمت اللہ شیخ

والدین اپنی اولاد سے کتنا پیار کرتے ہیں یہ مجھے تب پتہ چلا جب میں خود والد بنا۔ نائلہ سے شادی کے دو سال بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک خوبصورت اور پیاری سی بیٹی عطا کی۔ عائشہ کی صورت میں مجھے ایک پری مل چکی تھی۔ جسے دیکھتے ہی میرے سارے دکھ درد دور ہوجاتے تھے۔ وقت تیزی کے ساتھ گزرتا رہا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے عائشہ آٹھ سال کی ہوچکی تھی۔ ماں کی بہترین تربیت نے اسے نہایت نیک اور سنجیدہ بنادیا تھا۔ ہمیشہ اس کا سر دوپٹے کے ساتھ ڈھکا رہتا تھا۔ اس کی زبان سے نکلے ہوئے موتی میرے ہر مرض کی دوا تھے۔ سارا دن کام کرنے کے بعد میں جب آفس سے واپس گھر آتا تو اسے دیکھ کر میری تھکن دور ہوجاتی تھی۔ میرے گھر میں داخل ہوتے ہی وہ میرے ہاتھ سے سوٹ کیس لیتی، کمرے میں پڑے بیڈ کی چادر اور تکیہ درست کرنے کے بعد میرے لیے گلاس میں پانی لے آتی تھی۔ میں آنکھیں بند کرکے، تکیہ پر سر رکھ کر اپنی تھکاوٹ کو دور کرنے کی کوشش کرتا تو وہ اپنی نرم و ملائم اور چھوٹی انگلیوں سے سر کے بالوں میں کنگھی کرتی اور فورًا میری تھکاوٹ دور ہوجاتی تھی۔ وہ مجھے دنیا کی تمام چیزوں سے عزیز تر ہوچکی تھی۔ وہ میرے وجود کا حصہ بن چکی تھی۔ اتفاقًا اگر اسے چھوٹی سی بھی تکلیف پہنچتی تو میرا پورا وجود بے چین ہوجاتا تھا۔ اس کے معصوم اور پر نور چہرے کو دیکھ کر میری سانسیں چلتی تھیں۔ آفس کے کام میں مصروف ہونے کے باوجود میں وقت نکال کر اس سے فون پر بات کرتا تھا۔ لیکن ایک سانحے نے ہماری زندگی یکسر بدل دی۔
میں آفس سے نکل ہی رہا تھا کہ نائلہ کی کال آئی۔ "نبیل! صبح سے عائشہ گھر نہیں آئی۔ آج تو اسکول بھی نہیں گئی تھی۔ دکان سے اپنے لئے پاپڑ لینے گئی تھی اور ابھی تک واپس نہیں آئی۔”
عائشہ کی گمشدگی کی خبر سن کر میرے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ "نائلہ میں نے جب تین بار صبح فون کیا تو تم نے بتایا کیوں نہیں…؟ ” بیٹی کی محبت میں میرا لہجہ سخت ہوگیا۔ "تم نے تو کہا تھا کہ……”
"ہاں میں نے کہا تھا کہ وہ فاطمہ کے گھر گئی ہے۔ لیکن وہ میں نے اس لیے کہا تھا تاکہ آپ پریشان نہ ہوں”
"ٹھیک ہے تم پریشان مت ہو… میں ابھی آرہا ہوں”
گھر پہنچا تو نائلہ لپٹ کر رونے لگی۔ سچ تو یہ ہے کہ میرا دل بھی بھر آیا تھا لیکن اس وقت میرا رونا نائلہ کو مزید کمزور بنادیتا۔ میں نے گھر سے بائیک نکالی اور اپنے دوست طفیل کے ہمراہ عائشہ کو ڈھونڈنے نکل پڑا۔ پڑوسیوں اور رشتےداروں کے گھر نائلہ نے فون کرکے دیکھا تھا، ان کے مطابق آج عائشہ ان کے ہاں آئی ہی نہیں تھی۔ طفیل اور میں نے شہر کا چپہ چپہ چھان مارا لیکن عائشہ نہیں ملی۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ سخت سردی میں میں اور طفیل سڑک کے ایک طرف کھڑے مشورہ کررہے تھے کہ اب کیا کرنا چاہیے۔ بالآخر ہم نے تھانے میں رپورٹ لکھوانے کا فیصلہ کیا۔ رپورٹ لکھوانے کے بعد میں واپس گھر آگیا۔ میں بالکل نڈھال ہوچکا تھا۔ مجھے اپنے حال ہی کی خبر نہیں تھی۔ میں برسوں سے تھکے ہوئے انسان کی طرح نڈھال ہوکر بستر پر گر پڑا۔ تکیے پر سر رکھتے ہی آنکھوں سےآنسو جاری ہوگئے۔ جسے دیکھ کر میں سارے غم بھلا دیتا تھا ، جس کا دیدار میرے وجود کو توانائی بخشتا تھا بدقسمتی سے آج وہ پری موجود نہیں تھی۔ رات کا ایک ایک لمحہ میرے لیے انتہائی کربناک تھا۔ ذہن میں مختلف قسم کے خیالات گردش کررہے تھے۔ لیکن صبح کی خبر اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ تھی۔ ایس پی امجد کی فون پر میں سول ہسپتال پہنچا۔ ایک کمرے میں ایک چھوٹی بچی کی لاش پڑی تھی۔ میلے، کچیلے کپڑے، جن پر خون کے دھبے بھی لگے ہوئے تھے، شاید کوئی ایکسڈنٹ ہوا تھا۔ "نبیل صاحب! بیڈ پر جو بچی پڑی ہے، کیا وہ آپ کی بیٹی ہے…؟”
ایس پی کے اس جملے سے میرے بدن میں بجلی دوڑ گئی۔ میں بھاگتا ہوا بیڈ کے پاس آیا۔ اگلا لمحہ میری زندگی کا سب سے مشکل لمحہ تھا۔ بیڈ پر عائشہ پڑی تھی۔ نائلہ عائشہ کی صورت دیکھتے ہی گر پڑی۔ مجھ میں اسے اٹھانے کی سکت بھی نہیں تھی۔ دراصل مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ میں زندہ ہوں یا مرچکا ہوں۔ میں بھی گرنے ہی والا تھا کہ کسی نے مجھے سہارا دے کر کرسی پر بٹھایا۔ اس کے بعد……
عائشہ کسی درندے کے وحشیانے پن کا شکار ہوئی تھی۔ کسی جانور سے بھی بدتر انسان نے مجھ سے میری زندگی چھین لی تھی۔ اسے بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔ چہرے سمیت اس کے جسم کے مختلف حصے زخمی تھے۔ نائلہ کے دماغ کو ایسا دھچکہ لگا کہ پوری زندگی وہ سنبھل نہیں پائی۔ پہلے تو ہر کوئی غمزدہ تھا لیکن آہستہ آہستہ سب کچھ بدلنے لگا۔ میڈیا پر بھی چند دن زور و شور رہا لیکن اس کے بعد ایسی خاموشی چھا گئی کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ چونکہ میں ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہوں اس لیے قانون سے انصاف کی امید بے سود تھی۔ ویسے بھی قانون وڈیروں اور جاگیرداروں کے لیے نہیں بلکہ غریب اور بے سہارا لوگوں کے لیے ہے۔
(پاکستان میں بڑھتے ہوئے چلڈرن ریپ کیسز قانونی اداروں اور اعلیٰ عہدیداروں کی نااہلی کا ثبوت ہیں۔ آج اگر ملک میں اسلامی قانون ہوتا تو بنا کسی فرق کے مجرموں کو سرِعام عبرت ناک سزا دی جاتی۔ )

admin

Author: admin

Check Also

شادی کے بعد اچھا تعلق طویل زندگی کے لیے ضروری

اپنے شریک حیات کو خوش رکھیں اور لمبی زندگی کا مزہ لیں۔یہ وہ بات ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے