Home / ادب نامہ / نثر / منٹو کے افسانے / سجدہ – سعادت حسن منٹو

سجدہ – سعادت حسن منٹو

گلاس پر بوتل جھکی تو ایک دم حمید کی طبیعت پر بوجھ سا پڑ گیا، ملک جو اس کے سامنے تیسرا پیگ پی رہا تھا فوراً تاڑ گیا کہ حمید کے اندر روحانی کشمکش پیدا ہو گئی ہے۔ وہ حمید کو سات برس سے جانتا تھا، اور ان سات برسوں میں کئی بار حمید پر ایسے دورے پڑ چکے تھے جن کا مطلب اس کی سمجھ سے ہمیشہ بالا تر رہا تھا۔ لیکن وہ اتنا ضرور سمجھتا تھا کہ اس کے لاغر دوست کے سینے پر کوئی بوجھ ہے، ایسا بوجھ جس کا اثر شراب پینے کے دوران میں کبھی کبھی حمید کے اندر یوں پیدا ہوتا ہے، جیسے بے دھیان بیٹھے ہوئے آدمی کی، پسلیوں میں کوئی زور سے ٹہوکا دے دے۔
حمید بڑا خوش باش انسان تھا، ہنسی مذاق کا عادی، حاضر جواب، بذلہ سنج اس میں بہت سی خوبیاں تھیں جو زیادہ نزدیک آ کر اس کے دوست ملک نے معلوم کی تھیں۔ مثال کے طور پر سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ بے حد مخلص تھا۔ اس قدر مخلص کہ بعض اوقات اس کا اخلاص ملک کے لئے عہد تحقیق کا رومانی افسانہ بن جاتا تھا۔
حمید کے کردار میں ایک عجیب و غریب بات جو ملک نے نوٹ کی یہ تھی کہ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے نا آشنا تھیں۔ یوں تو ملک بھی رونے کے معاملے میں بڑا بخیل تھا مگر وہ جانتا تھا کہ جب کبھی رونے کا موقع آئے گا۔ وہ ضرور رو دے گا۔ اس پر غم افزا باتیں اثر ضرور کرتی تھیں۔ مگر وہ اس اثر کو اتنی دیر اپنے دماغ پر بیٹھنے کی اجازت دیتا تھا۔ جتنی دیر گھوڑا اپنے تنے ہوئے جسم پر مکھی کو۔
غموں سے دور رہنے والے اور ہر وقت ہنسی مذاق کے عادی حمید کی زندگی میں نہ جانے ایسا کون سا واقعہ الجھا ہوا تھا کہ وہ کبھی کبھی قبرستان کی طرح خاموش ہو جاتا تھا۔ ایسے لمحات جب اس پر طاری ہوتے تو اس کا چہرہ ایسی رنگت اختیار کر لیتا تھا جو تین دن کی باسی شراب میں بے جان سوڈا گھولنے سے پیدا ہوتی ہے۔
سات برس کے دوران میں کئی بار حمید پر ایسے دورے پڑ چکے تھے مگر ملک نے آج تک اس سے ان کی وجہ دریافت نہ کی تھی۔ اس لئے نہیں کہ ان کی وجہ دریافت کرنے کی خواہش اس کے دل میں پیدا نہیں ہوئی تھی۔ دراصل بات یہ ہے کہ ملک پرلے درجے کا سست اور کاہل واقع ہوا تھا اس خیال سے بھی وہ حمید کے ساتھ اس معاملے پر بات چیت نہیں کرتا تھا کہ ایک طویل کہانی اس سے سننا پڑے گی۔ اور اس کے چوتھے پیگ کا سارا سرور غارت ہو جائے گا۔’’ شراب پی کر لمبی چوڑی آپ بیتیاں ‘‘ سننا یا سنانا اس کے نزدیک بہت بڑی بد ذوقی تھی۔۔ اس کے علاوہ کہانیاں سننے کے معاملے میں وہ بہت ہی خام تھا، اسی خیال کی وجہ سے کہ وہ اطمینانسے حمید کی داستان نہیں سن سکے گا۔ اس نے آج تک اس سے ان دوروں کی بابت دریافت نہیں کیا تھا۔
کرپا رام نے حمید کے گلاس میں تیسرا پیگ ڈال کر بوتل میز پر رکھ دی، اور ملک سے مخاطب ہو کر’’ ملک اسے کیا ہو گیا ہے۔‘‘
حمید کی یہ بہت بڑی کمزوری تھی کہ وہ کسی بات کو چھپا نہیں سکتا تھا اور اگر چھپانے کی کوشش کرتا تو اس کی وہی حالت ہوتی جو آندھی میں صرف ایک کپڑے میں لپٹی ہوئی عورت کی ہوتی ہے۔
ملک نے اپنا تیسرا پیگ ختم کیا اور اس فضا کو جو کچھ عرصہ پہلے طرب افزا باتوں سے گونج رہی تھی۔ اپنی بے محل ہنسی سے خوشگوار بنانے کے لئے اس نے کرپا رام سے مخاطب ہو کر کہا:۔ کرپا تم مان لو اسے اشوک کمار کا فلمی عشق ہو گیا ہے…. بھئی یہ اشوک کمار بھی عجیب چیز ہے۔ پر دے پر عشق کرتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے۔ کاسٹر آئل پی رہا ہے۔‘‘
کرپا رام، اشوک کمار کو اتنا ہی جانتا تھا کہ مہاراجہ اشوک اور اس کی مشہور آہنی لاٹھ کو فلم اور تاریخ سے اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی، البتہ وہ ان کے فوائد سے ضرور آگاہ تھا۔ کیونکہ وہ عام طور پر کہا کرتا تھا’’ مجھے، اگر کبھی بے خوابی کا عارضہ لاحق ہو جائے تو میں یا تو فلم دیکھنا شروع کر دوں گا یا چکرورتی کی لکھی ہوئی تاریخ پڑھنا شروع کر دوں گا۔‘‘
وہ ہمیشہ حساب داں چکرورتی کو مورخ بنا کر اپنی مسرت کے لئے ایک بات پیدا کر لیا کرتا تھا۔
کرپا رام پیگ پی چکا تھا۔ چار پیالہ پیگ، نشہ اس کے دماغ کی آخری منزل تک پہنچ چکا تھا، آنکھیں سکیڑ کر اس نے حمید کی طرف اس انداز سے دیکھا جیسے وہ کیمرے کا فوکس کر رہا ہے۔’’ تمہارا گلاس ابھی تک ویسے کا ویسا پڑا ہے۔‘‘
حمید نے درد سر کے مریض کی شکل بنا کر کہا۔’’ بس اب مجھ سے زیادہ نہیں پی جائے گی۔‘‘
’’تم چغد ہو…. نہیں چغد نہیں کچھ اور ہو…. تمہیں پینا ہو گی، سمجھے، یہ گلاس اور اس بوتل میں جتنی پڑی ہے سب کی سب تمہیں پینا ہو گی، شراب سے جو انکار کرے وہ انسان نہیں حیوان ہے۔ حیوان بھی نہیں ، اس لئے کہ اگر حیوانوں کو انسان بنا دیا جائے اور وہ بھی اس خوبصورت شئے کو کبھی نہ چھوڑیں ، تم سن رہے ہو ملک…. میں نے اگر یہ ساری شراب اس کے حلق میں نہ اُتار دی تو میرا نام کرپا رام نہیں گھسیٹا رام آرٹسٹ ہے۔‘‘
گھسیٹا رام آرٹسٹ سے کر پا رام کو سخت نفرت تھی، اس لئے کہ آرٹسٹ ہو کر اس کا نام گھسیٹا رام تھا۔
ملک کا منہ سوڈا ملی وسکی سے بھرا ہوا تھا۔ کرپا رام کی بات سن کر وہ بے اختیار ہنس پڑا۔ جس کے باعث اس کے منہ سے ایک فوارا سا چھوٹ پڑا۔’ ’ کرپا رام تم خدا کے لئے گھسیٹا رام آرٹسٹ کا نام نہ لیا کرو۔ میری انتڑیوں میں ایک طوفان سا مچ جاتا ہے۔ لا حول ولا میری پتلون کا ستیا ناس ہو گیا ہے۔ لو بھئی حمید اب تو تمہیں پینا ہی پڑے گی، کرپا رام، گھسیٹا رام بنے یا نہ بنے۔ لیکن میں ضرور کرپا رام بن جاؤں گا۔ اگر تم نے گلاس خالی نہ کیا…. لو پیو…. پی جاؤ…. ارے منہ کیا دیکھتے ہو…. یہ تمہارے چہرے پر قیامت کیسی برس رہی ہے…. کرپا رام اٹھو…. لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانا کرتے…. زبر دستی کرنا ہی پڑے گی۔‘‘
کرپا رام اور ملک دونوں اٹھے اور حمید کو زبر دستی پلانے کی کوشش کرنے لگے۔ حمید کو روحانی کوفت تو ویسے ہی محسوس ہو رہی تھی۔ جب کرپا رام اور ملک نے اس کو جھنجھوڑنا شروع کیا تو اس کو جسمانی اذیت پہنچی۔ جس کے باعث وہ بیحد پریشان ہو گیا۔
اس کی پریشانی سے کرپا رام اور ملک بہت محظوظ ہوئے، چنانچہ انہوں نے ایک کھیل سمجھ کر حمید کو اور زیادہ تنگ کرنا شروع، کرپا رام نے گلاس پکڑ کر اس کے سر میں تھوڑی سی شراب ڈال دی اور نائیوں کے انداز میں جب اس نے حمید کا سر سہلایا تو وہ اس قدر پریشان ہوا کہ اس کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو آ گئے، اس کی آواز بھرا گئی، اس کے سارے جسم میں تشنج سا پیدا ہو گیا اور ایک دم کاندھے ڈھیلے کر کے اس نے رونی، اور مردہ آواز میں کہا۔’’ میں بیمار ہوں …. خدا کے لئے مجھے تنگ نہ کرو۔‘‘
کرپا رام اسے بہانہ سمجھ کر حمید کو اور زیادہ تنگ کرنے کے لئے کوئی نیا طریقہ سوچنے ہی والا تھا کہ ملک نے ہاتھ کے اشارے سے اسے پرے ہٹا دیا۔’’ کرپا، اس کی طبیعت واقعی خراب ہے…. دیکھو تو رو رہا ہے۔‘‘
کرپا رام نے اپنی موٹی کمر جھکا کر غور سے دیکھا۔ ارے، تم تو سچ مچ رو رہے ہو۔
حمید کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔ جس پر سوالوں کی بوچھاڑ شروع ہو گئی۔
’’ کیا ہو گیا ہے تمہیں ؟…. خیر تو ہے؟‘‘
’’ یہ تم کیوں رو رہے ہو؟‘‘
’’ بھئی حد ہو گئی…. ہم تو صرف مذاق کر رہے تھے۔‘‘
’’ کچھ سمجھ بھی تو آئے کیا تکلیف…. ہے تمہیں ؟‘‘
ملک اس کے پاس بیٹھ گیا۔’’ بھئی مجھے معاف کر دو۔ اگر مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی ہو۔‘‘
حمید نے جیب سے رومال نکال کر اپنے آنسو پونچھے اور کچھ کہتے کہتے خاموش ہو گیا۔ جذبات کی شدت کے باعث اس کی قوت گویائی جواب دے گئی ہے۔
تیسرے پیگ سے پہلے اس کے چہرے پر رونق تھی۔ اس کی باتیں سوڈے کے بلبلوں کی طرح تر و تازہ اور شگفتہ تھیں۔ مگر اب وہ باسی شراب کی طرح بے رونق تھا۔ وہ سکڑ سا گیا تھا۔ اس کی حالت ویسی ہی تھی۔ جیسی بھیگی ہوئی پتلون کی ہوتی ہے۔
کرسی پروہ اس انداز سے بیٹھا تھا۔ گویا وہ اپنے آپ سے شرمندہ ہے۔ اپنے آپ کو چھپانے کی بھونڈی کوشش میں وہ ایک ایسا بے جان لطیفہ بن کے رہ گیا تھا۔ جو بڑے ہی خام انداز میں سنایا گیا ہو۔
ملک کو اس کی حالت پر ترس آیا۔’’ حمید، لو اب خدا کے لئے چپ ہو جاؤ…. واللہ تمہارے آنسوؤں سے مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔ مزا تو سب کرکرا ہی ہو گیا تھا مگر یوں تمہارے ایکا ایکی آنسو بہانے سے میں بہت مغموم ہو گیا ہوں …. خدا جانے تمہیں کیا تکلیف ہے؟‘‘
’’ کچھ نہیں میں بہت جلد ٹھیک ہو جاؤں گا۔ کبھی کبھی مجھے ایسی تکلیف ہو جایا کرتی ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اٹھا۔’’ اب میں اجازت چاہتا ہوں۔‘‘
کرپا رام بوتل میں سجی ہوئی شراب کو دیکھتا رہا اور ملک یہ ارادہ کرتا رہا کہ حمید سے آج پوچھ ہی لے کہ وقتاً فوقتاً اسے یہ دورے کیوں پڑتے ہیں مگر وہ جا چکا تھا۔
حمید گھر پہنچا تو اس کی حالت پہلے سے زیادہ خراب تھی، کمرے میں چونکہ اس کے سوا اور کوئی نہیں تھا۔ اس لئے وہ رو بھی نہ سکتا تھا۔ اس کی آنسوؤں سے لبالب بھری ہوئی آنکھوں کو کرسیاں اور میزیں نہیں چھلکا سکتی تھیں۔
اس کی خواہش تھی کہ اس کے پاس کوئی آدمی موجود ہو۔ جس کے چھیڑنے سے وہ جی بھر کے رو سکے۔ مگر ساتھ ہی اس کی یہ خواہش بھی تھی کہ وہ اکیلا ہو…. ایک عجیب کش مکش اس کے اندر پیدا ہو گئی۔
وہ کرسی پر اس انداز سے اکیلا بیٹھا تھا جیسے شطرنج کا پٹا ہوا مہرہ بساط سے بہت دور پڑا ہے۔ سامنے میز پر اس کی پرانی تصویر چمک دار فریم میں جڑی رکھی تھی۔ حمید نے اداس نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا تو سات برس اس تصویر اور اس کے درمیان تھان کی طرح کھلتے چلے گئے۔!
ٹھیک سات برس پہلے برسات کے ان ہی دنوں میں رات کو وہ ریلوے ریسٹوران میں ملک عبدالرحمن کے ساتھ بیٹھا تھا….اُس وقت کے حمید اور اس وقت کے حمید میں کتنا فرق تھا…. کتنا فرق تھا۔ حمید نے یہ فرق اس شدت سے محسوس کیا کہ اسے اپنی تصویر میں ایک ایسا آدمی نظر آیا جس سے ملے اس کو ایک زمانہ گذر گیا ہے۔
اس نے تصویر کو غور سے دیکھا تو اس کے دل میں یہ تلخ احساس پیدا ہوا کہ انسانیت کے لحاظ سے وہ اس کے مقابلے میں بہت پست ہے۔تصویر میں جو حمید ہے اس کے حمید کے مقابلے میں بدرجہا افضل و برتر ہے جو کرسی پر سر نیوڑھائے بیٹھا ہے۔ چنانچہ اس احساس نے اس کے دل میں حسد بھی پیدا کر دیا۔
ایک سجدے…. صرف ایک سجدے نے اس کا ستیا ناس کر دیا تھا۔ آج سے ٹھیک سات برس پہلے کا ذکر ہے برسات کے یہی دن تھے رات کو ریلوے ریسٹوران میں اپنے دوست ملک عبد الرحمن کے ساتھ بیٹھا تھا۔ حمید کو یہ شرارت سوجھی تھی کہ بغیر بو کی شراب جس کا ایک پورا پیگ لیمونیڈ میں ملا کر اس کو لا دے اور جب وہ پی جائے تو آہستہ سے اس کے کان میں کہے۔’’ مولانا ایک پورا پیگ آپ کے ثوابوں بھرے پیٹ میں داخل ہو چکا ہے۔‘‘
بیرے سے مل ملا کر اس نے اس بات کا انتظام کر دیا تھا کہ آرڈر دینے پر لیمونیڈ کی ایک بوتل میں جن کاایک پیگ ڈال کر ملک کو دے دیا جائے گا،چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حمید نے وسکی پی اور ملک بظاہر بے خبری کی حالت میں جن کا پورا پیگ چڑھا گیا۔
حمید کیونکہ تین پیگ پینے کا ارادہ رکھتا تھا اس لئے ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد اس نے پوچھا۔’’ ملک صاحب، آپ یوں بے کار نہ بیٹھئے۔ میں تیسرا پیگ بڑی عیاشی سے پیا کرتا ہوں۔ آپ ایک اور لیمونیڈ منگوا لیجئے۔‘‘
ملک رضا مند ہو گیا چنانچہ ایک اور لیمونیڈ آگیا۔ اس بیرے نے اپنی طرف سے جن کا ایک پیگ ملا دیا تھا۔
ملک سے حمید کی نئی نئی دوستی ہوئی تھی۔ چاہئے تو یہ تھا کہ حمید اس شرارت سے باز رہتا مگر ان دنوں وہ اس قدر زندہ دل اور شرارت پسند تھا کہ جب بیر ا ملک کیلئے لیمونیڈ کا دوسرا گلاس لایا اور اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا تو وہ اس خیال سے بہت خوش ہوا کہ ایک کے بجائے دو پیگ ملک کے پیٹ کے اندر چلے جائیں گے۔
ملک آہستہ آہستہ لیمونیڈ ملی جن پیتا رہا اور حمید دل ہی دل میں اس کبوتر کی طرح گٹکتا رہا جس کے پاس ایک کبوتری آ بیٹھی ہو۔‘‘
اس نے جلدی جلدی اپنا تیسرا پیگ ختم کیا اور ملک سے پوچھا۔’’ اور پئیں گے آپ۔‘‘
’’ملک نے غیر معمولی سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا نہیں۔‘‘ پھر اس نے بڑے روکھے انداز میں کہا۔’’اگر تمہیں پینا ہے تو پیو۔ میں جاؤں گا۔ مجھے ایک ضروری کام ہے۔‘‘
اس مختصر گفتگو کے بعد دونوں اٹھے۔ حمید نے دوسرے کمرے میں جا کر بل ادا کیا۔ جب وہ ریسٹوران سے باہر نکلے تو ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ حمید کے دل میں یہ خواہش چٹکیاں لینے لگی کہ وہ ملک پر اپنی شرارت واضح کر دے۔ مگر اچھے موقع کی تلاش میں کافی وقت گذر گیا۔ ملک بالکل خاموش تھا۔ اور حمید کے اندر پھلجھڑی چھوٹ رہی تھی۔ بیشمار ننھی ننھی خوبصورت اور شوخ و شنگ باتیں اس کے دل و دماغ میں پیدا ہو کر بجھ رہی تھیں۔
وہ ملک کی خاموشی سے پریشان ہو رہا تھا اور جب اس نے اپنی پریشانی کا اظہار نہ کیا تو آہستہ آہستہ اس کی طبیعت پر ایک افسردگی سی طاری ہو گئی۔ وہ محسوس کرنے لگا کہ اس کی شرارت اب دم کٹی گلہری بن کر رہ گئی ہے۔
دیر تک دونوں بالکل خاموش چلتے رہے جب کمپنی باغ آیا تو ملک ایک بنچ پر مفکرانہ انداز میں بیٹھ گیا۔ چند لمحات ایسی خاموشی سے گذرے کے حمید کے دل میں وہاں سے اٹھ بھاگنے کی خواہش پیدا ہو گئی مگر اس وقت زیادہ دیر تک دبے رہنے کے باعث اس کی تمام تیزی اور طراری ماند پڑ چکی تھی۔
ملک بنچ سے اٹھ کھڑا ہوا۔’’ حمید، تم نے مجھے روحانی تکلیف پہنچائی ہے…. تمہیں یہ شرارت نہیں کرنی چاہئے تھی۔‘‘ اس کی آواز میں درد پید ہو گیا۔ تم نہیں جانتے کہ تمہاری اس شرارت سے مجھے کس قدر روحانی تکلیف پہنچی ہے…. اللہ تمہیں معاف کرے۔‘‘
یہ کہہ کر وہ چلا گیا اور حمید اپنے آپ کو بڑی شدت کا گنہگار محسوس کرنے لگا۔ معافی مانگنے کا خیال اس کو آیا ، مگر ملک باغ سے نکل کر باہر سڑک پر پہنچ چکا تھا۔ ملک کے چلے جانے کے بعد حمید گناہ اور ثواب کے چکر میں پھنس گیا۔ شراب کے حرام ہونے کے متعلق اس نے جتنی باتیں لوگوں سے سنی تھیں۔ سب کی سب اس کے کانوں میں بھنبھنانے لگیں۔
’’شراب اخلاق بگاڑ دیتی ہے…. شراب خانہ خراب ہے۔ شراب پی کر آدمی بے ادب اور بے حیا ہو جاتا ہے۔ شراب اسی لئے حرام ہے۔ شراب صحت کا ستیا ناس کر دیتی ہے۔ اس کے پینے سے پھیپھڑے چھلنی ہو جاتے ہیں …. شراب۔‘‘
شراب، شراب کی ایک لامتناہی گردان حمید کے دماغ میں شروع ہو گئی۔ اس کی تمام برائیاں ایک ایک کر کے اس کے سامنے آ گئیں۔
’’ سب سے بڑی برائی تو یہ ہے۔‘‘ حمید نے محسوس کیا۔’’ کہ میں نے بے ضرر شراب سمجھ کر ایک شریف آدمی کو دھوکے سے شراب پلا دی ہے۔ ممکن ہے وہ پکا نمازی اور پرہیزگار ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ غلطی میری ہے اور سارا گناہ میرے ہی سر ہو گا۔ مگر اسے جو روحانی تکلیف پہنچی ہے اس کا کیا ہو گا؟ واللہ باللہ میرا یہ مقصد نہیں تھا کہ اسے تکلیف پہنچے۔ میں اس سے معافی مانگ لوں گا…. لیکن اس سے معافی مانگ کر بھی تو میرا گناہ ہلکا نہیں ہو گا۔ایک میں نے شراب پی دوسرے میں نے اس کو دھوکہ دے کر پلائی۔‘‘
وسکی کا نشہ اس کے دماغ میں جمائیاں لینے لگا۔ جس سے اس کا احساس گناہ گھناؤنی شکل اختیار کر گیا۔ مجھے معافی مانگنی چاہئے مجھے شراب چھوڑ دینی چاہئے…. مجھے گناہوں سے پاک زندگی بسر کرنی چاہئے۔‘‘
اس کو شراب شروع کئے صرف دو برس ہوئے تھے۔ ابھی تک وہ اس کا عادی نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ اس نے گھر لوٹتے ہوئے۔ راستے میں سے دوسری باتوں کے ساتھ اس پر بھی غور کیا۔ ’’ میں شراب کو ہاتھ تک نہیں لگاؤں گا یہ کوئی ضروری چیز نہیں۔ میں اس کے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہوں …. دنیا کہتی ہے…. دنیا کہتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ منہ سے لگی ہوئی یہ چھوٹ ہی نہیں سکتی میں اسے بالکل چھوڑ دوں گا…. میں اس خیال کو غلط ثابت کر دوں گا۔
یہ سوچتے ہوئے حمید نے خود کو ایک ہیرو محسوس کیا۔ پھر ایک دم اس کے دماغ میں خدا کا خیال آیا۔ جس نے اسے تباہی سے بچا لیا تھا۔ مجھے شکر بجا لانا چاہئے کہ میرے سینے میں نور پیدا ہو گیا ہے۔میں نہ جانے کتنی دیر تک اس کھائی میں پڑا رہتا۔
وہ اپنی گلی میں پہنچ چکا تھا۔ اوپر آسمان گدلے بادلوں میں چند صابن کے جھاگ لگے گالوں کا نقشہ پیش کر رہا تھا۔ ہوا خنک تھی۔ فضا بالکل خاموش تھی۔ حمید پر خدا کے رعب اور شراب نوشی سے بچ جانے کے احساس نے رقت طاری کر دی۔ اس نے شکرانے کا سجدہ ادا کرنا چاہا۔ اس خیال سے کہ کوئی اسے دیکھ لے گا وہ کچھ دیر کے لئے ٹھٹک گیا مگر فوراً ہی یہ سوچ کر کہ خدا کی نگاہوں میں اس کی وقعت بڑھ جائے گی۔ وہ ڈبکی لگانے کے انداز میں جھکا اور اپنی پیشانی گلی کے ٹھنڈے ٹھنڈے پتھریلے فرش کے ساتھ جوڑ دی۔
جب وہ اٹھا تو اس نے اپنے آپ کو ایک بہت بڑا آدمی محسوس کیا۔ اس نے جب آس پاس کی اونچی دیواروں کو دیکھا تو وہ اسے اپنے قدم کے مقابلے بہت پست معلوم ہوئیں۔
اس واقعہ کے ڈیڑھ مہینے کے بعد اسی کمرے میں جہاں اب حمید بیٹھا اپنی سات برس کی پرانی تصویر پر رشک کھا رہا تھا۔ اس کا دوست ملک آیا۔ اندر آتے ہی اس نے اپنی جیب سے بلیک اینڈ وائٹ کا ادھا نکالا اور زور سے میزپر رکھ کر کہا۔’’ آؤ حمید…. آج پئیں اور خوب پئیں …. یہ ختم ہو جائے گی تو اور لائیں گے۔‘‘
حمید اس قدر متحیر ہوا کہ وہ اس سے کچھ بھی نہ کہہ سکا ملک نے دوسری جیب سے سوڈے کی بوتل نکالی، تپائی پر سے گلاس اٹھا کر اس پر شراب انڈیلی۔ سوڈے کی بوتل، انگوٹھے سے کھولی، اور حمید کی متحیر آنکھوں کے سامنے وہ دو پیگ غٹا غٹ پی گیا۔
حمید نے تتلاتے ہوئے کہا۔’’ لیکن…. لیکن…. اس روز تم نے مجھے اتنا برا بھلا کہا تھا….‘‘
ملک نے ایک قہقہہ بلند کیا۔’’ تم نے مجھ سے شرارت کی میں نے بھی اس کے جواب میں تم سے شرارتاً کچھ کہہ دیا۔ مگر بھئی ایمان کی بات ہے جو مزہ اس روز جن کے دو پیگ پینے میں آیا ہے۔ زندگی بھر کبھی نہیں آئے گا۔ لو اب چھوڑو اس قصے کو…. وسکی پیو جن ون بکو اس ہے شراب پینی ہو تو وسکی پینی چاہئے۔‘‘
یہ سن کر حمید کو ایسا محسوس ہوا تھا کہ جوسجدہ اس نے گلی میں کیا تھا۔ ٹھنڈے فرش سے نکل کر اس کی پیشانی پر چپک گیا ہے۔
یہ سجدہ بھوت کی طرح حمید کی زندگی سے چمٹ گیا تھا۔ اس نے اس سے نجات حاصل کرنے کے لئے پھر پینا شروع کیا۔ مگر اس سے بھی کچھ فائدہ نہ ہوا۔
ان سات برسوں میں جو اس کی پرانی تصویر اور اس کے درمیان کھلے ہوئے تھے یہ ایک سجدہ بے شمار مرتبہ حمید کو اس کی اپنی نگاہوں میں ذلیل و رسوا کر چکا تھا۔ اس کی خودی، اس کی تخلیقی قوت، اس کی زندگی کی وہ حرارت جس سے حمید اپنے ماحول کو گرما کے رکھنا چاہتا تھا۔اس سجدے نے قریب قریب سردہی کر دی تھی۔ یہ سجدہ اس کی زندگی میں ایسی خراب بریک بن گئی تھی جو کبھی کبھی اپنے آپ کو اس کے چِلتے ہوئے پہیوں کو ایک دھکے کے ساتھ ٹھہرا دیتی تھی۔
سات برس کی پرانی تصویر اس کے سامنے میز پر تھی۔ جب سارا واقعہ اس کے دماغ میں پوری تفصیل کے ساتھ دہرایا جا چکا تو اس کے اندر ایک نا قابل بیان اضطراب پیدا ہو گیا۔وہ ایسا محسوس کرنے لگا جیسے اس کو قے ہونے والی ہے۔
وہ گھبرا کر اٹھا اور سامنے کی دیوار کے ساتھ اس نے اپنا ما تھا رگڑنا شروع کر دیا جیسے وہ اس سجدے کا نشان مٹانا چاہتا ہے۔ اس عمل سے اسے جب جسمانی تکلیف پہنچی تو وہ پھر کرسی پر بیٹھ گیا…. سر جھکا کر اور کاندھے ڈھیلے کر کے اس نے تھکی ہوئی آواز میں کہا۔’’ اے خدا میرا سجدہ مجھے واپس دے دے….‘‘

٭٭٭

admin

Author: admin

Check Also

گھوگا۔ افسانہ ۔ سعادت حسن منٹو

میں جب ہسپتال میں داخل ہوا تو چھٹے روز میری حالت بہت غیر ہو گئی۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے