Home / کالم / شدت پسندی : ساجد انوروردگ

شدت پسندی : ساجد انوروردگ

میں پچھلے کچھ عرصے سے انتہائی پسندی اور شدت پسندی پر کام کر رہا ہوں۔ اس مسئلے پر پڑھنے اور لکھنے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ اس کو ختم کرنے کے لیے کچھ اور سوچنا ہو گا۔ﺑﺪﻗﺴﻤﺘﯽ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﺎﮞ ﺷﺪﺕ ﭘﺴﻨﺪﯼ ﭘﺮﺗﺤﻘﯿﻖ ﻧﻈﺮﯾﺎﺗﯽ ﺯﺍﻭﯾﮯ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎﺭﮨﯽ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺭﯼ ﻭﺟﻮﮨﺎﺕ ﮨﯿﮟ۔ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮈﺭﺧﻮﻑ ﮨﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﮏ ﯾﺎ ﭼﻨﺪ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﻣﮑﺎﺗﺐ ﻓﮑﺮ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﺪﮨﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺭﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﺎﻧﭙﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ﺩﺭﺍﺻﻞ ﺍﻥ ﻣﮑﺎﺗﺐ ﻓﮑﺮﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭﻻﺑﯽ ﺍﻭﺭﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﺩﺍﺭﻃﺒﻘﮧ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩﮨﮯ۔ﺟﺲ ﮐﺎﺩﻧﯿﺎﮐﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﮐﯽ ﺣﮑﻮﻣﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭﮐﺎﻓﯽ ﺍﺛﺮﻭﺭﺳﻮﺥ ﮨﮯ۔ﺷﺎﯾﺪ ﯾﮩﯽ ﻭﺟﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﭘﺮﮐﮭﻞ ﮐﺮﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ﺟﺐ ﺗﮏ ﮨﻢ ﺷﺪﺕ ﭘﺴﻨﺪﯼ ﮐﻮﺍﺱ ﻧﻈﺮﯾﮯ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺍﺱ ﭘﺮﺗﺤﻘﯿﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ۔ﺗﺐ ﺗﮏ ﺍﺱ ﮐﺎﺣﻞ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ۔ﮨﻢ ﺷﺪﺕ ﭘﺴﻨﺪﯼ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﻌﺎﺷﯽ ﺍﺳﺘﺤﺼﺎﻝ ،ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﻭﺟﻮﮨﺎﺕ ﺗﻮﮐﺒﮭﯽ ﺑﯿﺮﻭﻧﯽ ﺳﺎﺯﺷﯿﮟ ﮈﮬﻮﻧﮉﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﺍﻥ ﻭﺟﻮﮨﺎﺕ ﭘﺮﻓﻮﮐﺲ ﮐﺮﮐﮯ ﺁﭖ ﻋﺒﻮﺭﯼ ﻃﻮﺭﭘﺮﺣﺎﻻﺕ ﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﮐﺮﻟﯿﮟ ﮔﮯ۔ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﺑﻨﯿﺎﺩﻭﮞ ﭘﺮﺍﺱ ﮐﺎﺣﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ۔ﺟﺐ ﺗﮏ ﮨﻢ ﺍﺱ ﺻﻮﺭﺗﺤﺎﻝ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﮭﭙﮯ ﻧﻈﺮﯾﺎﺕ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺗﺠﺰﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﺐ ﺗﮏ ﮨﻢ ﺍﺱ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﮐﻮﺣﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮕﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻣﺎﻟﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﻈﺮﯾﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ﻧﻈﺮﯾﺎﺗﯽ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﮐﻮﻧﻈﺮﯾﺎﺕ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺣﻞ ﮐﯿﺎﺟﺎﺳﮑﺘﺎﮨﮯ۔ﮨﻤیں ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﻧﺎﭘﮍﮮ ﮔﺎﮐﮧ ﺩﻧﯿﺎﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭﺟﺘﻨﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺬﺍﮨﺐ ﮨﯿﮟ۔ﺍﻥ ﮐﺎﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻧﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﭘﺮﮐﺎﻓﯽ ﺍﺛﺮﮨﻮﺗﺎﮨﮯ۔ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﺷﯽ ﺣﺎﻻﺕ ﺭﻭﺯﻣﺮﮦ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻣﻼﺕ،ﺗﻌﻠﯿﻢ ،ﺭﮨﻦ ﺳﮩﻦ ﭘﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﮯ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﻋﻘﺎﺋﺪ ﺍﺗﻨﺎﺍﺛﺮﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﺮﻗﺎﻧﻮﻥ ﺍﻭﺭﺁﺋﯿﻦ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﻋﻘﺎﺋﺪ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﻟﮯ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ﻭﮨﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﺎﮐﺮﺩﺍﺭﺍﺩﺍﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ﺟﮩﺎﮞ ﻣﺬﮨﺐ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮨﻮﮔﺎﻭﮨﺎﮞ ﺍﺱ ﮐﺎﺭﻧﮓ ﺿﺮﻭﺭﻧﻈﺮﺁﺋﮯ ﮔﺎ۔

اب چاہیے وہ ہمارے روایتی انتہائی پسندی ہو جو بڑے شہرو میں دیکھنے کو ملتی ہے یا مستقبل طور پر ہتھیار اٹھانا ہو جو کہ ہم نے ملا فضل اللہ کی شکل میں سوات میں دیکھا تھا۔ان کے پیچھے کچھ بنیادی عوامل دیکھنے کو ملتے ہیں۔ جیسے کہ بنیادی انصاف کا نا ملنا، تعلیم کی کمی اور سب سے بڑھ کر معاشرے میں موجود معاشی نظام۔

جب میں سوات میں طالبان کے کردار پر ریسرچ کر رہا تھا تو وہاں کے لوگوں نے مجھے بتایا کہ فضل اللہ نے آتے ہی نعرہ بلند کیا کہ ہم ایسا نظام لےکے آئیں گے جہاں والی سوات کے دور کے طرح لوگوں کو دنوں میں انصاف مہیا کیا جائے گا۔ جس پر وہ لوگ جو ہمارے سست رفتار عدالتی نظام سے تنگ آگئے تھے اس کے اواز پے لبیک کہا۔ دوسرا سب سے خطرناک ترین کھیل جو اس نے کھیلا وہ تھا معاشی نظام میں ان لوگوں کو ہتھیار تھما دینا جو پوری زندگی خانوں کے نوکر رہے تھے۔ اب ہتھیار اور طاقت ان کی ہاتھ میں آگئے جو ایک خطرے کی بہت بڑی نشانی تھی۔ ان لوگوں نے ان خانوں سے سالوں کا بدلہ دنوں میں چکا دیا۔ اس کھیل میں جانی اور مالی نقصان کا اندازہ ابھی تک نہیں لگایا جا سکا۔

مستقبل میں اس طرح کے خون ریزی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ کسی کو بھی مذہب کا اس طرح استعمال نہ کرنے دیا جائے۔ ہتھیاروں کا روک تھام کیا جائے۔ اس نظام کے بہبود کے لیے کام کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے جس کی وجہ سے مایوسی پھیل رہی ہے۔ ہمیں بھی بطورِ ایک ریاست ان کی طرح سوچنا ہوگا۔ اس قوم کو تعلیم یافتہ اور باشعور بنانا ہوگا۔ اب وقت اگیا کہ سب کو مساوی حقوق دئیے جائیں، چاہیے وہ کسی بھی صوبے کسی بھی زبان سے تعلق رکھتے ہو۔ ایک قوم بنانے کی ضرورت ہے بالکل امریکہ کی طرح۔ شہرو ں کے بجائے دیہاتوں پر زیادہ توجہ دینا ہوگی۔ شہریں تو خود بخود ترقی کر لے گی ہمیں دیہاتوں کو ساتھ لے کے چلنا ہے۔

admin

Author: admin

Check Also

ہماری نظریاتی سمت؟؟؟

گزرے ہوئے دنوں میں، معاشرتی زندگی کے مختلف تناظر واقعات کے شکل میں دیکھنے کو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے