Home / کالم / عافیہ صدیقی اور پاکستان کی بطور ریاست مجبوری : ساجد انور وردگ

عافیہ صدیقی اور پاکستان کی بطور ریاست مجبوری : ساجد انور وردگ

انٹرنیشنل ریلیشنز کا ایک ادنیٰ سا ریسرچر ہونے کے ناطے مجھے یہ معلوم ہے کہ کسی بھی ملک کا سربراہ دوسرے ملک میں قید اپنے قیدی کی واپسی کا مطالبہ نہیں کر سکتا کیونکہ قیدی نے اس ملک کا قانون تھوڑا ہوتا ہے اور انٹرنیشنل قوانین کے تحت اس ملک نے اپنے قانون کے مطابق اس قیدی کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ ہا کچھ کیسسز ہوتے ہیں جن میں وہ قیدیوں کے واپسی کا مطالبہ کر سکتا ہے، اگر وہ کسی معمولی سی جرم میں ملوث ہو تو جیسے کہ چوری یا معمولی منشیات۔ یہ والا معاملہ ہمیں سعودیہ اور دبئی کے ساتھ وزیراعظم پاکستان کے درخواست میں نظر آیا۔ اگر وہ جنگی قیدی (POW) ہو تو تب بھی اس کو جینیوا کنونشن کے تحت کچھ حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ اس کی مثال ابھی نندن والا کیس ہے۔
اب کوئی قیدی اگر دہشت گردی میں ملوث ہو تو اس کے لیے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں اپیل کر کے ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ بے قصور ہیں۔ کلبھوشن یادو والا کیس ابھی ابھی سب کے نظروں سے گزرا ہے۔
جب بھی پاکستان کا کوئی سربراہ امریکہ کا دورہ کرتا ہے تو عوام کے طرف سے ایک ہی مطالبہ سامنے اتا ہے عافیہ صدیقی کو واپس لایا جائے، جو کہ مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ جیسے پاکستان کلبھوشن یادو کو کسی بھی صورت میں واپس نہیں کر سکتا اسی طرح امریکہ بھی عافیہ کو کسی بھی قیمت پر واپس نہیں کریں گا۔ بے شک ہمارے لئے وہ بے قصور ہیں لیکن امریکنز کے لیے وہ ایک دہشت گرد ہیں، جس نے انہیں بے تحاشہ نقصان پہنچایاہے۔ امریکہ میں ان کو "لیڈی القاعدہ” کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ اگر کوئی امریکن سربراہ انھیں واپس کرتا ہے تو اسے اتنے ہی گالیاں پڑنی ہے جتنے کسے پاکستانی سربراہ کو کلبھوشن کو واپس کرنے پر پڑیں گی۔ کل کو اگر مودی پاکستان کا دورہ کرتا ہے تو وہ کسی بھی صورت میں کلبھوشن کی واپسی کا مطالبہ نہیں کریں گا، یہ ڈپلومیسی اور فارن پالیسی کے منافی حرکتیں شمار ہوتی ہے۔ ریاستیں مجبور ہوتی ہے، ان کو بھی ایک انسان ہی کی طرح ہر قدم سوچ سمجھ کے اٹھانا پڑتی ہے۔
عافیہ صدیقی کی اوپر عدالت میں مندرجہ ذیل الزامات لگائے گئے تھے اور انہوں نے عدالت میں وہ ثابت بھی کر دیئے تھے۔
القاعدہ کے لیے پیسے کا لین دین۔
بمب بنانے والے اوزاروں کا برآمد ہونا۔
افغانستان غزنی سے گرفتاری۔
امریکن فوجی کیپٹن کو مارنے کی کوشش۔
دہشت گردی پر اکسانے والے تقاریر اور لیٹریچر۔
9/11 کے لیے ڈائمنڈ خریدنے کا لین دین۔
اس کے علاؤہ بھی کئ چارجز ہیں ان پر۔ جس کے بعد ان کو چھیاسی سال قید کی سزا سنائی گئی۔
جو میں نے لکھا وہ حقیقت ہے، اس کے علاؤہ جتنے باتیں ہوگی وہ جزبات کے سمندر میں خوابوں کی کشتی پر سواری ہو گی۔ عافیہ صدیقی کی آزادی کا مطالبہ طالبان تو مذاکراتی عمل میں کر سکتے ہیں لیکن پاکستان بطور ایک ریاست یہ مطالبہ کبھی نہیں کر پائے گا۔ یہ چیزیں فارن پالیسی بنانے والے کرسیوں پر بیٹھے لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہے۔ یاد رکھا جائے داعش نے بھی دو مرتبہ قیدیوں کے تبادلے میں عافیہ کی رہائی کی بات کی تھی۔ طالبان بھی مزاکرات میں یہ شرط سامنے رکھ چکے ہیں۔
ان کے رہائی کے بس دو ہی راستے ہیں یا تو پاکستان انٹرنیشنل کورٹ اف جسٹس میں جائے جہاں وہ کبھی یہ کیس جیت نہیں پائے گا، حالات اور واقعات مکمل طور پر امریکہ کو مدد فراہم کرتے ہیں۔ امریکہ کی ہمیشہ سے یہ خاصیت رہی ہے کہ وہ اپنے ہر عمل اور حرکت کو قانونی شکل ضرور دیتے ہیں اور دوسرا یہ ہے کہ افغان طالبان وہی طریقہ دہرائے جو مولانا مسعود اظہر کو انڈیا کے جیل سے نکالنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

admin

Author: admin

Check Also

حکومت کیا ہوتی ہے؟ : میرافضل خان طوری

” حکومت ” عربی زبان کے ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ حکومت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے