Home / کالم / امریکہ کا افغانستان سے انخلاء اور پاکستان – ساجد خان

امریکہ کا افغانستان سے انخلاء اور پاکستان – ساجد خان

امریکہ افغانستان سے واپسی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔میرے ہم وطن اس اعلان پر خوشیاں منا رہے ہیں لیکن یہ وقت خوشیاں منانے کا نہیں ہے بلکہ اس کے اثرات سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کرنے کا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ میں افغانستان میں امریکہ کے قبضہ کا حامی ہوں لیکن مجھے امریکہ کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد حالات مزید خراب ہوتے نظر آ رہے ہیں۔
اس کی دو وجوہات ہیں۔
اول یہ ہے کہ آج امریکہ مجبور ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ افغانستان میں بیٹھ کر کچھ غلط کرنے سے اسے نقصان پہنچ سکتا ہے۔اس کے سینکڑوں فوجی موجود ہیں۔اربوں ڈالر کا اسلحہ اور آلات موجود ہیں تبھی خاموش ہے۔
بالکل ایسے ہی جیسے وحشی جانور اگر قید میں ہو تو وہ نہایت بے ضرر نظر آتا ہے لیکن جب وہ آزاد ہو جاتا ہے تو وہی بے ضرر جانور خونخوار بن جاتا ہے۔

امریکہ عنقریب اس خطہ سے آزاد ہونے والا ہے اور وہ ان اٹھارہ سال کا حساب ضرور مانگے گا۔امریکہ کی خوش قسمتی یہ تھی کہ اس کے مقابلے میں مخالف سپر پاور نہیں تھی۔جس طرح اسی کی دہائی میں سویت یونین کے مقابلے میں امریکہ سپر پاور تھا ورنہ امریکہ کے بھی ویسے ٹکڑے ہو چکے ہوتے جیسے روس کے ہوئے تھے۔
دوم یہ ہے کہ امریکہ افغانستان سے جا تو رہا ہے مگر وہ اپنے پیچھے ایک فتنہ چھوڑ کر جا رہا ہے اور وہ ہے داعش۔
داعش گزشتہ چند سالوں میں دنیا کی سفاک ترین دہشتگرد تنظیم کے طور پر سامنے آئی ہے۔اس تنظیم نے خروج کے ساتھ ہی اپنی سفاکی کی وجہ سے بہت جلد ہی دنیا کی توجہ حاصل کر لی نہایت قلیل عرصہ میں شام و عراق سے دوسرے ممالک میں پھیلتی چلی گئی۔داعش اب تک کی سب سے سفاک ترین دہشتگرد تنظیم کے طور پر سامنے آئی ہے،یہاں تک کہ طالبان اس کے سامنے کافی حد تک اچھے نظر آتے ہیں۔
داعش اور طالبان میں ایک فرق یہ بھی تھا کہ طالبان کافی حد تک مقامی تنظیم تھی۔
جس میں اکثریت افغانی اور پاکستانی شہریوں کی تھی اور کچھ تعداد ازبک یا تاجک تھے مگر داعش ایک جدید طریقہ کے ساتھ نمودار ہوئی جنہوں نے سوشل میڈیا کا بہت زیادہ استعمال کیا۔یہی وجہ ہے کہ اس تنظیم میں دنیا کے ہر ملک کے شہری شامل ہوتے رہے۔اس لحاظ سے بھی یہ تنظیم طالبان سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ ان کے لئے اس خطہ کے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہو گی اور ان کا مشن سوائے تباہی کے کچھ نہیں ہے۔
گزشتہ دو سال سے یہ خبریں آ رہی تھیں کہ افغانستان میں نامعلوم ہیلی کاپٹر اترتے نظر آتے ہیں جہاں بہت سے افراد کو اکٹھا کیا جا رہا ہے۔شام میں رقہ شہر کی آزادی کے بعد اس کام میں بہت زیادہ تیزی دیکھنے میں آئی اور یوں واضح ہو گیا کہ کوئی طاقت شام سے دہشتگردوں کو افغانستان منتقل کر رہی ہے کیونکہ شام میں اب جنگ کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا تھا۔
وہ طاقت کوئی اور نہیں بلکہ امریکہ بہادر تھا۔ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں اس وقت داعش کے جنگجوؤں کی تعداد چالیس سے ساٹھ ہزار تک ہے جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔بہت سے طالبان کمانڈرز نے بھی طالبان کو خیرآباد کہہ کر داعش میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

یہ تنظیم اس لحاظ سے بھی خطرناک ہے کہ اس کے جنگجو گزشتہ سات سال سے شہروں میں،گلیوں میں اور آمنے سامنے لڑتے رہے ہیں۔اس لئے انہیں شہری علاقوں میں لڑنے کا وسیع تجربہ حاصل ہو گا۔اس کے علاوہ جو شام میں ایک نئی جنگی ٹیکنیک سامنے آئی ہے۔وہ سرنگ کھودنا ہے۔اس ٹیکنیک کی وجہ سے جنگ کے آغاز میں شامی فوج کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔

داعش کی افغانستان میں موجودگی کا مقام بھی نہایت اہم ہے کیونکہ اس کا اصل مرکز پاکستان کی سرحد کے قریب ہے یعنی اس تنظیم کو استعمال ہی پاکستان اور ایران کے خلاف کیا جائے گا۔
پاکستانی فوج کے لئے گو کہ دشمن کی تعداد ساٹھ ستر ہزار زیادہ معنی نہیں رکھتی لیکن پھر بھی یہ تنظیم ٹی ٹی پی سے کہیں زیادہ طاقتور ثابت ہو گی مگر پھر بھی اصل خطرہ پاکستان کے اندر سے ہو گا۔
آپ اپنے حلقہ احباب پر نظر دوڑائیں۔ادھر ادھر توجہ دیں یا سوشل میڈیا پر ہی دیکھ لیں۔آپ کو بہت سے پاکستانی کھلے عام داعش کی حمایت کرتے نظر آئیں گے۔
کیا ضمانت ہے کہ اگر خدانخواستہ داعش پاکستان پر حملہ کرتی ہے تو ہماری قوم میں چھپے ان کے وفادار ان سے وفاداری نہیں نبھائیں گے ؟
اس معاملہ پر حالات سب کے سامنے ہیں۔ہمارے دارالحکومت میں عین مرکز میں لال مسجد سے باقاعدہ ابوبکر البغدادی اور داعش کو پاکستان آنے کی دعوت دی جاتی ہے ویڈیو بنا کر۔کیا ایسے افراد ان کا ساتھ دینے میں ذرا سا بھی پیچھے ہٹیں گے۔
داعش کے خروج کا وقت قریب ہے جب امریکہ اپنے فوجی افغانستان سے نکال لے گا تو وہ اس خطہ میں داعش جیسی پراکسی استعمال کرے گا اور اس کا اول ہدف پاکستان ہی ہو گا کیونکہ پاکستان ہی اصل وجہ تھی،جس سے امریکہ کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
افغانستان میں حالات اب پہلے جیسے بھی نہیں رہے۔اب وہاں بہت سے نئے ممالک کے مفادات بھی شامل ہو گئے ہیں۔جن میں چین،ایران،روس اور ہندوستان سر فہرست ہیں جبکہ امریکہ،پاکستان،سعودی عرب،قطر اور متحدہ عرب امارات تو پہلے سے ہی موجود تھے۔
اس کے علاوہ افغان حکومت بھی پہلے سے قدرے طاقتور ہے۔اس لئے یہ امید رکھنا کہ امریکہ کے انخلاء سے افغانستان کے حالات بہتر ہو جائیں گے شاید خوش فہمی ہی تصور ہو گی اور نہ ہی کسی خاص ملک کی اجارہ داری قائم ہو سکے گی کیونکہ گزشتہ چند سالوں میں طالبان نے بھی صرف پاکستان پر آسرا کرنا چھوڑ دیا ہے۔اب انہوں نے بھی سوائے ہندوستان اور امریکہ کے،باقی سب ممالک سے براہراست تعلقات استوار کرلیے ہیں۔جن کے افغانستان میں مفادات موجود ہیں۔اس کی وجہ سے بھی خون خرابہ کم ہونے کے بجائے بڑھنے کا خدشہ ہے کیونکہ افغانستان میں طالبان کا مقابلہ داعش سے بھی ہے جو جنگی لحاظ سے طالبان کی ہم پلہ بنتی جا رہی ہے۔
اس لئے پاکستان کو امریکی انخلاء کے لئے سب سے زیادہ تیاری اور منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ افغانستان کے حالات کا سب سے زیادہ ہمیں ہی پڑتا ہے جبکہ داعش کو سرحدوں سے دور بھی رکھنے کی ضرورت ہے ورنہ ایک بار پھر بدترین دہشتگردی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ساجد خان

admin

Author: admin

Check Also

ہم اتنے سنگ دل کیوں ہوگئے ہیں : میر افضل خان طوری

پاکستانیوں کی اکثریت مذہب، عقیدے ، مسلک ، زبان اور علاقے کی بنیاد پر ایک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے