Home / بلاگ / دین اسلام اور نصاب مدارس ـ ساجد خان

دین اسلام اور نصاب مدارس ـ ساجد خان

اگر میں کہوں کہ اسلام کے قلعہ پاکستان میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد ملحد ہیں تو کیا آپ مانیں گے ؟
میں کہوں کہ پاکستان میں زنا اور شراب نوشی بڑی تعداد میں ہوتی ہے یا شراب اور زنا قانون کے مطابق جائز قرار دے دیا جائے تو ہمارا ملک اس مسئلہ میں کسی بھی یورپی ملک سے آگے نکل جائے تو کیا آپ یقین کریں گے ؟
پاکستان میں ہم جنس پرستی ایک عام وبا ہے،آپ جانتے ہیں ؟
ہو سکتا ہے کہ کچھ دوست میری بات پر یقین کر لیں کیونکہ انہوں نے یہ سب کام اپنے آس پاس کے ماحول میں دیکھ رکھا ہو۔
کچھ صرف اس لئے یقین کر لیں کیونکہ یہ بات میں نے کہی ہے۔
لیکن بہت سے لوگ میری بات پر یقین نہیں کریں گے۔اول تو وہ مجھ پر الزام لگا دیں گے کہ یہ تمھارے گھر کا حال تو ہو سکتا ہے لیکن پاکستان کا نہیں یا پھر مجھ پر ایجنٹ،ملحد یا قادیانی کا فتویٰ لگ جائے گا۔آپ مجھے کچھ بھی کہہ سکتے ہیں لیکن اس حقیقت سے انکار بھی نہیں کر سکتے۔
کالج لائف میں میں خود کو عجیب محسوس کرتا تھا جب دوستوں کی محفل میں شراب نوشی کی محفلوں کا ذکر ہوا کرتا تھا۔بالکل ایسے ہی جیسے شہری محفل میں کوئی پینڈو پھنس جائے۔
مجھے یاد ہے کہ عید سے ایک دن قبل،میرے گھر میرا ایک دوست اپنے چند دوستوں کو ساتھ لے کر آیا۔مجھے کہا کہ یار ہمیں تم سے ایک کام ہے۔کام یہ تھا فلشمینز ہوٹل سے شراب ملا کرتی تھی جو کہ غیر مسلم شہریوں کے لائسنس پر جاری ہوتی تھی مگر مسلمان بھی اس بہتی گنگا میں اچھی طرح ہاتھ دھو لیا کرتے تھے بلکہ غسل فرماتے تھے۔
اب مسئلہ یہ تھا کہ ہوٹل کی انتظامیہ تو تھوڑی قیمت زیادہ لے کر کسی کو بھی شراب دے دیا کرتی تھی مگر ہوٹل کے باہر کھڑی پولیس اصل مسئلہ تھی۔
پولیس بھی اس لئے بڑا مسئلہ نہیں تھی کہ وہ بھی مال بنانے کے چکر میں ڈیوٹی دیتی تھی۔
لیکن اول تو ان کا ریٹ بہت زیادہ ہوتا تھا اور دوسرا انھوں نے رپورٹ بھی بنانی ہوتی تھی کہ ہم نے اتنے گھنٹے ڈیوٹی دی اور اتنے شرابی گرفتار کیے۔اب کس شرابی پر ان کی نظر کرم پڑ جائے،یہ بڑا مسئلہ تھا۔مجھے کہا گیا کہ اپنے والد صاحب کو کہو کہ ہمیں وہاں سے جانے کی اجازت دلوا دیں۔اب میں ان کو حیران ہو کر دیکھ رہا تھا کہ کتنی آسانی سے وہ یہ سب کہہ رہے ہیں۔میں نے کہا کہ یار لڑائی جھگڑے کا مسئلہ ہوتا تو شاید میں بات کرتا لیکن اس معاملے پر تو میں سوچ بھی نہیں سکتا۔میرے والد صاحب پہلے ہی بڑی مشکل سے مجھے گھر میں برداشت کرتے ہیں،تمھاری سفارش کے بعد تو مجھے جوتوں کا ہار پہنا کر گھر سے ہمیشہ کے لئے رخصت کر دیں گے۔ایک لڑکے نے کہا کہ ہم آپ کو ایک بوتل بھی دیں گے۔میں نے کہا بھائی جب میں شراب نوشی کرتا ہی نہیں ہوں تو پھر میں اس کا کیا کروں گا۔
دوست نے کہا کہ ایسا کرتے ہیں کہ تو ہمارے ساتھ چل اگر پولیس نے پکڑ لیا تو تم انہیں اپنے والد کا تعارف کروا دینا،اب ایک سپاہی یا حوالدار اتنی جرآت تو کرے گا نہیں کہ ڈائریکٹ تمہارے ابو کو کال کر دے۔ہم تجھے دو بوتلیں دیں گے۔میں نے پھر کہا کہ بھائی میں باپ سے چھپ کر سگریٹ پیتا ہوں اور گھر آنے سے پہلے سونف کھاتا ہوں،دوست کے گھر جا کر برش کرتا ہوں پھر بھی ڈرتا رہتا ہوں کہ اگر والد صاحب کو علم ہو گیا تو میرے ساتھ کیا سلوک ہو گا اور تم شراب کی بات کر رہے ہو،جس سے میرے باپ کو سخت نفرت ہے۔
میرا دوست ناراض ہو گیا اور اس دن سے ہماری دوستی ختم ہو گئی۔یہ پرانی بات ہے،آج کی نسل تو اس سے زیادہ ماڈرن ہو گئی ہے۔
آپ میں سے بہت سے افراد نے یہ بات صرف لطیفوں میں سنی ہو گی کہ ایک مسلمان شراب کے نشہ میں دھت ہو کر حلال کھانے کی تلاش کر رہا تھا مگر میں نے یہ مثالیں اپنی آنکھوں سے دیکھی ہیں۔ایک وقت تھا جب میں شراب کی محفل میں بیٹھا کرتا تھا۔مجھے شرابیوں کو ٹن ہونے کے بعد تنگ کرنے میں بڑا مزہ آتا تھا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان سچ شراب کے نشہ میں بولتا ہے۔مجھے دوستوں نے نشہ کی حالت میں وہ راز بھی بتائے جو وہ خود سوچتے ہوئے بھی شرمندہ ہوتے ہوں گے۔شاید یہی بڑی وجہ ہے شراب کے حرام ہونے کی۔
اسلام سے اس دوری کی کیا وجہ ہے کہ آج ایک مسلمان فخر سے اپنے گناہ سنا رہا ہوتا ہے ؟
کیا آپ نے کبھی کسی مولوی سے یہ سوال کیا ؟کیا مولانا صاحب نے سازش کے علاوہ کوئی تسلی بخش جواب دیا ہو تو ضرور بتایے گا۔اس میں قصور ان کا بھی نہیں ہے۔
میں جب گاؤں میں ہوتا ہوں تو بعض اوقات ساتھ والے گاؤں میں ایک مدرسے میں جاتا ہوں۔علماء کرام سے گپ شپ کرتا ہوں،کچھ کھری کھری سناتا ہوں،کچھ کھری کھری سنتا ہوں۔ایک بار کسی مسئلہ پر مدرسہ کے پرنسپل نے مجھ سے پوچھا کہ تمھاری نظر میں پاکستان میں شیعہ آبادی کتنی ہے۔میں نے کہا مولانا صاحب مختلف سروے کے مطابق پاکستان میں شیعہ آبادی بیس فیصد سے پچیس فیصد تک ہے۔
مولانا صاحب ہنسنے لگ گئے کہا پاکستان میں شیعہ آبادی کم از کم پچاس فیصد ہے۔میں نے کہا مولانا صاحب کوئی دلیل یا ثبوت دیں۔انہوں نے دوسرے علماء صاحبان کو بلا لیا اور کہا کہ یہ کہتا ہے کہ شیعہ آبادی پچیس فیصد ہے جبکہ میں کہتا ہوں کہ پچاس فیصد ہے۔آپ فیصلہ کرو کہ کون صحیح ہے۔وہ ہنسنے لگ گئے کہ مجھے اتنا بھی علم نہیں ہے کہ پاکستان کی آدھی آبادی شیعہ ہے۔

میں کبھی ان کو دیکھوں اور کبھی ان کے دعویٰ پر غور کروں مگر مجھے یہ بات بالکل بھی ہضم نہیں ہوئی۔مدرسہ سے جب واپس آیا تو اس مسئلہ پر سوچنا شروع کیا تب اچانک مجھے محسوس ہوا کہ غلط مولانا صاحب بھی نہیں ہیں۔وہ جنازہ پڑھنے جاتے ہیں تو شیعوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔وہ نکاح پڑھانے جاتے ہیں تو ہر طرف شیعہ ہی شیعہ نظر آتے ہیں۔انھیں تو لگنا ہے کہ شیعہ بیس فیصد نہیں ہیں بلکہ سنی بیس فیصد ہیں۔
یہی سوال آپ کسی سنی مولانا سے پوچھیں گے تو وہ کہیں گے کہ شیعہ تو بس دو تین فیصد ہی ہیں ایویں رولا ڈالا ہوا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی کیا وجہ ہے کہ اسلامی ممالک میں تو اسلام گھٹ رہا ہے مگر مغرب میں یہی مذہب تیزی سے پھیل رہا ہے ؟
میں سمجھتا ہوں کہ مغرب میں سوال کرنے پر پابندی نہیں ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر ایک غیر مسلم توحید،نبوت یا کسی مسئلہ پر سوال کرے تو اس پر مولانا صاحب کا ردعمل بہت اچھا ہو گا۔
"او میرے بھائی،میری بہن کیا خوبصورت سوال کیا ہے،اسلام کی یہی تو خوبی ہے کہ وہ سوال سے نہیں روکتا”
وہی سوال اگر مسلمان کا بچہ کر دے تو مولوی کا ردعمل سخت ہو گا۔”استغفر اللہ کافر ہو گیا ہے،توبہ کر ورنہ جہنم میں جائے گا”
یہ تضاد کس لئے ؟
صرف اس لئے کہ باہر والے کو دائرہ کے اندر لاؤ اور اندر والے کو ڈرا دھمکا کر دائرہ میں قید رکھو ؟
میں نے سید عمار نقشوانی کی تقاریر و مجالس کو بہت سنا ہے۔پوری دنیا میں اسے مدعو کیا جاتا ہے یہاں تک کہ غیر ممالک کی یونیورسٹیوں میں بھی دعوت دی جاتی ہے۔یوٹیوب پر ایسی بہت سی ویڈیوز موجود ہیں جہاں مسلم و غیر مسلم،شیعہ و سنی طلباء و طالبات اس کی تقاریر سننے کے لئے اسے مدعو کرتے ہیں۔اسے اپنا سوال یا اعتراض لکھ کر بھیج دیا جاتا ہے اور وہ تقریر کے اختتام پر ان کے جوابات دیتا ہے۔مغرب کے مسلمانوں کا پسندیدہ مقرر میں شمار ہوتا ہے۔
ذاکر نائیک کی مثال لے لیں گو کہ میں بہت سے معاملات پر اختلاف کرتا ہوں مگر اس کا بہت بڑا فین کلب ہے۔یہ دونوں مولوی نہیں ہیں اور نا ہی لباس سے مولوی لگتے ہیں۔
پینٹ شرٹ پہنتے ہیں،ٹائی بھی لگاتے ہیں۔ہم جیسے لگتے ہیں۔
اہل تشیع کا ایک طبقہ سید عمار نقشوانی پر نفرت کی حد تک اعتراضات کرتا ہے۔کبھی اس کے جسم پر بنے ٹیٹو پر اعتراض تو کبھی خواتین کے ساتھ سیلفی پر اعتراض مگر میرا موقف مختلف ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہم عمار نقشوانی کو اپنے ماحول کی نظر سے دیکھتے ہیں لیکن وہ مغرب میں تبلیغ کر رہا ہے۔آخر خواتین کے ساتھ سیلفی میں کیا اعتراض ہے ؟کیا خواتین نے غیر اسلامی لباس پہنا ہوتا ہے ؟کیا گلے میں بانہیں ڈالی ہوتی ہیں ؟ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا تو اعتراض کس بات پر ؟عمار نقشوانی کو طنزیہ طور پر مولانا ٹیٹو کہا جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ٹیٹو غیر اسلامی ہے ؟
کس مجتہد نے ٹیٹو کو غیر اسلامی قرار دیا ؟
جب غیر اسلامی قرار نہیں دیا تو پھر اعتراض کیسا ؟
آپ مغرب کی نوجوان نسل کو عمامہ یا عباء پہن کر اپنے قریب نہیں لا سکتے۔ایک جانور بھی خود سے مختلف چیز کو دیکھتا ہے تو اس سے دور بھاگتا ہے۔یہ تو پھر مغرب کے بچے ہیں،جو سمجھتے ہیں کہ مسلمان کوئی عجیب خونخوار سی مخلوق ہے۔
ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا دینی نظام کم از کم پانچ سو سال پرانا ہے۔شیعہ مدرسہ ہو یا سنی مدرسہ۔بچہ پانچ جماعت پڑھتا ہے تو اسے مدرسہ نما ڈربہ میں بند کر دیا جاتا ہے۔
اسے نہیں معلوم ہوتا کہ کالج یا یونیورسٹی میں کیا شعور حاصل ہوتا ہے۔مذہب کے بارے میں کیا سوال ذہن میں اٹھتے ہیں یا کیا اعتراض کیے جاتے ہیں۔اسے ان کا مقابلہ کرنے کی تربیت ہی نہیں دی جاتی بس حدیث کی کتب پڑھ لو۔عربی فارسی جان لو۔نماز،وضو،جنازہ،نکاح کے ساتھ فقہی مسائل رٹ لو،تم عالم دین بن گئے۔
اس بات کو سمجھنے کے لئے ایک ذاتی مثال دے دوں کہ مدرسہ میں بحث کے دوران میری علماء کرام کے ساتھ ایک مسئلہ پر بحث ہو گئی۔مسئلہ سیستانی صاحب کے فتاوی کے متعلق تھا۔
علماء کرام کا موقف الگ تھا اور میرا الگ۔کافی بحث کے بعد انہوں نے پوچھا کہ یہ فتویٰ سیستانی صاحب کی توضیح میں تو موجود نہیں ہے پھر تم کیسے کہہ سکتے ہو۔میں نے بتایا کہ سیستانی صاحب کی جو آفیشل ویب سائٹ ہے،اس پر ایک سوال کے جواب میں یہ فتویٰ موجود ہے۔
آپ یقین نہیں کریں گے کہ میرے جواب پر کمرا قہقہوں سے گونج اٹھا۔علماء کرام کا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا اور میں خود کو للو سمجھنے لگ گیا کہ میں نے ایسی کون سی بات کہ یہ حالت ہو گئی۔
خیر ایک مولانا نے ہنسی کو روک کر کہا کہ اب تم فتاویٰ کی کتاب کو اس ویب سائٹ پر ترجیح دو گے جسے کوئی بھی چلا سکتا ہے۔

میں نے انہیں بہت دلائل دیئے کہ ایسا نہیں ہوتا بلکہ بہت محفوظ ہوتی ہے اور یہ کتاب کی جدید شکل ہے لیکن انہیں یہ بات کیسے سمجھ آتی کہ جب انھیں کمپیوٹر کی الف ب بھی نہیں آتی تھی ؟اب یہ سب فرقوں کے مدارس کا المیہ ہے۔جب یہ مولانا کہتے ہیں کہ اللہ ہے تو نوجوان نسل کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے تو کہاں ہے۔کچھ نوجوان خوف کی وجہ سے یہ سوال پوچھ ہی نہیں سکتے۔کچھ پوچھتے ہیں تو جواب دینے کے بجائے ان کو سختی سے ڈانٹ دیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ مولانا کر بھی کیا سکتا ہے کیونکہ اس سوال کا جواب تو اسے پڑھایا بھی نہیں گیا تھا۔
مولانا کہتا ہے کہ نماز پڑھو۔
کیوں پڑھیں ؟کیونکہ اللہ تعالی نے تمھیں پیدا کیا ہے،نعمتیں دی ہیں۔
کیا ہم سے پوچھ کر پیدا کیا تھا یا جو اللہ کو مانتے ہی نہیں ہیں،ان کو کون رزق دے رہا ہے ؟
ان سوالات کے جوابات عام مولوی کے پاس نہیں ہوتے کیونکہ اس نے خود یہ نہیں پڑھا۔
تب توہین کا ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔سوالات اتنے مشکل نہیں ہیں کہ جوابات نا مل سکیں۔
میں برطانیہ میں سیکیورٹی کی جاب بھی کرتا رہا ہوں۔ایک ایسی عمارت پر رات کی ڈیوٹی ہوتی تھی جہاں دو گارڈز ہوا کرتے تھے،جن میں ایک گورا ہوتا تھا اور ایک ہم جیسا دیسی بدو۔
ہم اکثر مختلف موضوعات پر بات کیا کرتے تھے۔ایک رات میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا پیٹر تمھارا عقیدہ کیا ہے۔اس کی عمر پینسٹھ سال تھی۔اس نے کہا میرے والدین تو کیتھولک عیسائی تھے مگر میرا کوئی مذہب نہیں ہے۔میں نے پوچھا کہ کیا وجہ ہے اور تمھارا عقیدہ کیا ہے۔اس نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ دنیا وقتاً فوقتاً بنتی چلی گئی۔میں نے اسے بتایا کہ اس دنیا کو اللہ نے بنایا۔اس نے پوچھا پھر اللہ کو کس نے بنایا۔میرے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا۔پھر میں نے پوچھا کہ اگر دنیا وقت کے ساتھ ساتھ بنتی گئ تو مجھے کوئی ایسی قدرتی چیز کی مثال دو جو کہ آج سے ساٹھ سال پہلے دنیا پر موجود نہیں تھی مگر اب وہ وجود میں آ گئی۔
میرے سوال کا جواب اس کے پاس نہیں تھا۔
اب بھی میں سمجھتا ہوں کہ اس کا سوال لاجواب نہیں تھا بس میں اتنا علم نہیں رکھتا تھا کہ جواب نہیں دے پایا۔کچھ دن قبل ایک دوست نے شیعہ ذاکر آصف علوی کی مجلس کا ایک چھوٹا سا حصہ شیئر کیا ہوا تھا۔جس میں نماز پڑھنے کی وجہ نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا تھا۔ویڈیو اپ لوڈ کرنے والا ایک سنی نوجوان تھا جس نے واضح لکھا تھا کہ ویسے تو یہ شیعہ ذاکر ہے مگر نماز سمجھنے کا مزہ آ گیا ہے۔
میں نے اس نیت سے اس پوسٹ کے کمنٹ پڑھنے شروع کیےکہ دیکھیں کہ ایک شیعہ ذاکر کا سن کر سنی لوگ کیا کہتے ہیں۔مجھے یہ دیکھ کر واقعی میں خوشی ہوئی کہ سینکڑوں کمنٹس میں چند ہی ایسے تھے جو اس کو شیعہ ہونے کی وجہ سے برا بھلا کہہ رہے تھے ورنہ اکثریت سبحان اللہ اور تعریف کر رہی تھی۔

اس بات سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہماری نوجوان نسل عقائد کے اختلاف پر کسی کی اچھی بات کو نظرانداز نہیں کرتی۔وہ چاہتے ہیں کہ ہمیں کوئی اسلام کو اس طرح سمجھائے جس طرح ہم سمجھنا چاہتے ہیں خواہ وہ سنیوں عالم ہو یا شیعہ عالم۔اس لئے،وقت کی اہم ضرورت ہے کہ علماء کرام کو اپنی اس کمزوری پر نظرثانی کرنا ہو گی ورنہ اسلامی ممالک میں اسلام گھٹتا جائے گا اور مغرب میں جہاں سوال کرنا توہین نہیں سمجھا جاتا وہاں اسلام پھیلتا رہے گا۔
اگر علماء کرام نے خود کو جدید ماحول میں نا ڈھالا تو اسلام یوں ہی قیامت تک خطرے میں ہی رہے گا۔

admin

Author: admin

Check Also

کیا ہم مہذب قوم نہیں بن سکتے

کچھ دن پہلے ایک دوست بڑے پیارے بھائی نے ایک سیاسی پوسٹ جو کافی پرانی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے