Home / کالم / انصاف،احتساب اور پاکستان

انصاف،احتساب اور پاکستان

انصاف،احتساب اور پاکستان

 

تحریر: ساجد خان

 

 

دنیا میں کسی بھی ریاست کی بقاء کی بنیاد دو اصولوں پر ہوتی ہے۔
انصاف اور احتساب۔
ریاست کے معاملات کو جانچنے کے لئے یہی دیکھا جاتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کا کتنا خیال رکھتی ہے اور ان کی حقوق کی کتنی حفاظت کرتی ہے۔

دنیا میں جرم ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہوتی بلکہ بڑی بات یہ ہے کہ جرم ہونے کے بعد اس پر ردعمل کیسا ہوتا ہے۔
ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ شہریوں کو اطمینان ہو کہ اگر ان کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے تو ایسے ادارے موجود ہیں کہ جو انہیں فوری اور سستا انصاف فراہم کرے گا۔
اس جدید دور میں انسان کے بظاہر دو دشمن ہوتے ہیں۔
ایک وہ جو ریاست سے باہر موجود ہوتا ہے اور دوسرا جو ریاست کے اندر موجود ہوتا ہے۔

بیرونی دشمن یعنی کہ آپ کی ریاست کا دشمن ملک جو آپ کے ملک کا وجود برداشت نہیں کر سکتا۔
اندرونی دشمن جس کا آپ کی ذات سے اختلاف ہوتا ہے۔
ان دونوں دشمنوں سے بچاؤ کے لئے ریاست نے ادارے قائم کۓ ہوتے ہیں۔
بیرونی دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے فوج ہوتی ہے جس کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی دشمن سے اپنی ریاست اور بسنے والے شہریوں کی حفاظت کریں تاکہ کوئی بھی ریاست پر قبضہ کرنے کی جرات نا کر سکے جبکہ اندرونی دشمن کے لئے ریاست پولیس اور عدلیہ جیسے ادارے قائم کرتی ہے تاکہ شہریوں کو محفوظ زندگی فراہم کی جائے۔
اگر کسی شہری کے ساتھ ناانصافی ہو جائے تو یہ ادارے اسے انصاف فراہم کر سکیں۔

یہی وجہ ہے کہ ان اداروں کو مضبوط کیا جاتا ہے۔
ان پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے کہ کہیں محافظ ہی مجرم نا بن جائیں۔

ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم ایسے دور میں رہ رہے ہیں کہ جہاں ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے اٹھاون ممالک میں ایک بھی ایسا ملک نہیں ہے جہاں یہ دونوں ادارے عوام کے مفادات کے لئے کام کر رہے ہوں۔
اکثر ممالک میں ایک خاص شخصیت کے مفادات کی حفاظت کے لئے کام کیا جاتا ہے جبکہ باقی ماندہ ممالک میں بھی عوام کے مفادات کا خیال نہیں رکھا جاتا۔
جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مسلمان اپنے ممالک سے زیادہ غیر مسلم ممالک میں خود کو محفوظ اور آزاد سمجھتے ہیں۔

میں اگر اپنے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ذکر کروں تو یہاں کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔
موجودہ حالات یہ ہیں کہ اپوزیشن اشاروں کنایوں میں انہی دو اداروں کے خلاف شکایات کرتے نظر آ رہے ہیں اور وہ کسی حد تک صحیح بھی ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ اپوزیشن پاک صاف ہے مگر انہوں نے کرپشن آج کل میں نہیں کی بلکہ یہ کئ دہائیوں کا گند ہے جسے ہمیشہ سیاسی مفادات کے لئے استعمال کیا جاتا ہے یا دوسرے لفظوں میں بلیک میلنگ کی جاتی ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں ہر عشرے کے بعد وہ ادارہ قابض ہوتا آ رہا ہے جس نے حفاظت کا حلف اٹھایا ہوا تھا۔
سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ انصاف اور احتساب کے ادارے نے بھی عدالتی مارشل لاء لگانا شروع کر دیا۔

اس ہفتے کی خبر یہ ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض آجکل عدالت اعظمیٰ میں پیش ہو رہے ہیں۔
چیف جسٹس صاحب نے انہیں آفر کی کہ ایک ہزار ارب روپے ڈیم فنڈ میں جمع کروا دیں اور آپ کے سب کیسز ختم ہو جائیں گے۔
ملک ریاض نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔
جس کے بعد دوسری پیشی پر فرمایا کہ چلو ایک ہزار ارب روپے نا سہی پانچ سو ارب روپے ہی دے دو تو تمھارے سب معاملات نبٹا دیں گے۔
اس کیس کا کیا فیصلہ ہوتا ہے اور کتنے میں ڈیل ہوتی ہے،یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن اس کیس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ہماری عدالتیں عام افراد کے جرگہ کی طرح کام کر رہی ہیں جہاں کوئی قانون کی پاسداری نہیں ہوتی۔
جو جرمانہ چاہا لگا دیا۔

یہاں مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ملک ریاض کے ساتھ اچھا ہو رہا ہے یا برا بلکہ پریشانی اور افسوس اس بات پر ہے کہ آخر یہ سودے بازی کے معاملات عدالت میں کیوں ہو رہے ہیں۔
انصاف کے تقاضے پورے ہو رہے ہیں کہ نہیں ؟
اگر وہ مجرم ہے تو اسے قانون کے مطابق سزا دیں اور اگر بیگناہ ہے تو باعزت بری کریں۔
چیف جسٹس صاحب آخر کس حیثیت میں یہ سودے بازی کر رہے ہیں ؟
اس سودے بازی کا اختیار آئین کی کس شق نے دیا ہے ؟

ملک ریاض ایک بااثر اور امیر شخصیت ہے۔
ہو سکتا ہے کچھ لے دے کر معاملہ نبٹا دیا جائے لیکن کیا یہ انصاف کہلائے گا ؟
ایک پاکستانی شہری کی حیثیت سے ملک ریاض کہاں شکایت درج کروائے کہ چیف جسٹس اسے بلیک میل کر رہا ہے۔
کیا ایسا کوئی ادارہ ہے جو اس سب معاملات کا نوٹس لے ؟

پاکستان مسلم لیگ نواز اور پیپلزپارٹی جو اس ملک کی بڑی اور پرانی پارٹیوں میں شمار ہوتی ہیں۔
انہیں عدالتوں کا سامنا ہے اور دبے لفظوں میں ان کی زبان سے شکوہ شکایت بھی سننے کو مل رہی ہے لیکن انہیں بھی ایسا راستہ نہیں نظر آ رہا کہ وہ کہیں شکایت کر کے انصاف کی امید رکھ سکیں۔

میرے خیال سے اس اندھیر نگری کو بڑھاوا دینے میں سب سے زیادہ کردار انہی سیاسی و مذہبی جماعتوں کا ہے۔
بات زیادہ پرانی تو نہیں ہے جب نومبر 2017 میں پارلیمنٹ میں متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی کہ جج اور جرنیل احتساب سے مستثنیٰ ہوں گے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ پیپلزپارٹی جو خود کو کہ روز اول سے اینٹی اسٹیبلشمنٹ کہلاتے نہیں تھکتی تھی جبکہ مسلم لیگ نواز بھی اس وقت نظریاتی جماعت بننے کی ناکام کوشش کر رہی تھی اور یہ قرارداد ان دو جماعتوں کی مرضی کے بنا ہرگز منظور نہیں ہو سکتی تھی۔
جب خود ان دو اداروں کو استثنیٰ دیا آپ نے خود دیا تو اب شکوہ شکایت کیسی ؟
آج وہی کاٹا جا رہا ہے جو کل خود بویا تھا۔

آج چیف جسٹس جو کہتا ہے،جو کرتا ہے کوئی اس پر اعتراض نہیں کر سکتا ورنہ عدالتی فیصلوں پر تنقید پر آپ کو فیصل رضا عابدی کی طرح دہشتگردی اور ملک سے بغاوت کے کیسز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ہمارے اس مردہ معاشرے میں عدالت کو 14 فروری کو لال گلاب اور ویلنٹائین کارڈ تو نظر آ جاتے ہیں مگر ہزاروں شہریوں کے ہاتھوں میں اپنے لاپتہ پیاروں کی تصاویر نجانے کیوں نظر نہیں آتیں۔
عوام عدالتوں میں دھکے کھا کھا کر قبر میں چلی جاتی ہے مگر عدالت کو سوائے انصاف پہنچانے کے باقی سب معاملات کی فکر ہے۔

میں چیف جسٹس صاحب کی نیت پر شک نہیں کر رہا مگر ڈیم فنڈ کے لئے محمد بن سلیمان والی پالیسی اپنانا بھی کہاں کا انصاف ہے ؟
پاکستان کے حالات ویسے ہی اچھے نہیں تھے مگر دو اداروں کے استثنیٰ کے بعد حالات مزید ہی بگڑتے جا رہے ہیں۔
جن اداروں کی کڑی نگرانی کرنے کی ضرورت تھی،انہیں ہی مستثنیٰ کر دیا گیا۔
آج ایک کلرک سے لے کر وزیراعظم تک کا احتساب کیا جا سکتا ہے مگر جج اور جرنیل کا نہیں ہو سکتا۔

میں مانتا ہوں کہ ہمارے جج اور جرنیل بڑی ایمان داری کے ساتھ ملک کی خدمت کر رہے ہیں لیکن اگر احتساب ہوتا رہتا تو کیا نقصان ہو جاتا۔
احتساب کا خوف تو اسے ہونا چاہئے جو کرپٹ ہو۔
ہمارے ایماندار اداروں کو تو خود احتساب کے لئے پیش کر کے اعلیٰ مثال قائم کرنی چاہئے تھی۔

 

 

 

admin

Author: admin

Check Also

ہم اتنے سنگ دل کیوں ہوگئے ہیں : میر افضل خان طوری

پاکستانیوں کی اکثریت مذہب، عقیدے ، مسلک ، زبان اور علاقے کی بنیاد پر ایک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے