Home / کالم / مشرق وسطیٰ کا نیا پہلوان ۔ ساجد خان

مشرق وسطیٰ کا نیا پہلوان ۔ ساجد خان

ایک وقت تھا جب مسلم امہ کا سیاسی قبلہ ریاض کے بجائے تہران ہوا کرتا تھا اور پاکستانی حکمران عمرہ کے بہانے آل سعود کے آگے جھکنے کے بجائے تہران میں شاہ ایران کے سامنے جھکا کرتے تھے۔
ایران اس وقت مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا پہلوان ہوا کرتا تھا۔
آج کے بادشاہ کبھی شاہ ایران کی آمد پر اس کو خوش کرنے کے لئے ڈانس کیا کرتے تھے۔
حالات نے کروٹ بدلی۔
ایران میں انقلاب کی لہر شروع ہوئی۔جس نے مشرق وسطیٰ کے حکمران خاندانوں میں خوف کی فضاء پیدا کر دی۔
امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے سر توڑ کوشش کی کہ شاہ ایران کی حکومت قائم رہے مگر ایران کی عوام نے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ایرانی قوم کے رہنما آیت اللہ خمینی کی ملک بدری ختم ہوئی تو شاہ ایران کی ملک بدری شروع ہو گئی۔
انقلاب ایران کے بعد وہ افراد بھی دشمن بن گئے جو کبھی ایران کے سربراہ کی آمد پر خوشی سے ناچا کرتے تھے۔
عرب ممالک میں اکثریت بادشاہت کی تھی اور یہی خوف انقلاب ایران سے نفرت کی وجہ بنا کہ کہیں یہ انقلاب ہماری بادشاہت کو بھی نا ختم کر دے کیونکہ عرب ممالک میں اخوان المسلمون جیسی مضبوط جماعت نے انقلاب ایران کو اپنا رول ماڈل بنانا شروع کر دیا تھا۔اسی طرح عرب قوم بھی اس انقلاب سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔اس لئے اس انقلاب کو روکنے کے لئے منصوبہ بندی شروع ہو گئی۔
سعودی عرب امریکہ کی طرف سے مشرق وسطیٰ کا نیا پہلوان نامزد کر دیا گیا۔ایران کے دو کمزور پہلو تھے۔
اول یہ کہ وہ غیر عرب تھے۔
دوم وہ شیعہ عقائد سے تعلق رکھتے تھے۔
اس لئے انقلاب کے کامیاب ہونے کے فوراًِ بعد ہی ان دونوں پہلوؤں پر کام کیا گیا۔
شیعہ مخالف پروپیگنڈہ شروع کیا گیا۔عرب یونین کو مضبوط کیا گیا اور ساتھ ہی صدام حسین سے ایران سے جنگ شروع کروائی گئی۔اس جنگ سے جہاں عرب اور فارسی قوم کی نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی وہیں شیعہ مخالف سوچ بھی پیدا ہوئی شاید یہی وجہ ہے کہ صدام حسین ڈکٹیٹر اور ظالم حکمران کے باوجود بھی ایک خاص مکتبہ فکر کے لئے ہیرو کا درجہ رکھتا ہے۔
سعودی عرب نیا پہلوان تو بن گیا اور تیل کی کمائی بھی اتنی تھی کہ پیسہ کی طاقت سے سب کچھ خریدا جا سکتا تھا۔بس کمی تھی تو صرف عقل اور دانشمندی کی۔
مجھ سے اگر پوچھا جائے کہ سعودی عرب نے سب سے بڑی غلطی کون سی کی تو میں یہی کہوں گا کہ ایران سے دشمنی عرب حکمرانوں کی تاریخی غلطی تھی۔

آپ ایران سے لاکھ اختلاف رکھتے ہوں لیکن اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ ایران عالمی سیاست کا ماہر ہے۔
ایران گزشتہ پانچ دہائیوں سے عالمی سطح پر تنہا تھا مگر آج مشرق وسطیٰ میں ہر دوسرا ملک ایران کے بلاک میں کھڑا نظر آتا ہے۔
اس بات کا کریڈٹ جہاں ایران کی بہترین سیاست کو جاتا ہے وہیں سعودی ولی عہد کے غلط فیصلوں کے بھی مرہون منت ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ ایران نے عرب ممالک میں اپنا اثرورسوخ بڑھانا شروع کر دیا۔
لبنان میں حزب اللہ قائم کی تو فلسطین میں حماس۔شام جو کہ عرب ملک ہے،اس کے عرب ممالک سے زیادہ غیر عرب ملک ایران سے اچھے تعلقات رہے ہیں۔
یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سرد جنگ کے دوران سعودی عرب اور ایران دونوں نے ملیشیا تنظیموں کی بنیاد رکھی۔سعودی عرب نے وہابی عقائد پر مشتمل افراد کو اکٹھا کیا تو ایران نے شیعہ عقائد پر مشتمل افراد کی تنظیمیں بنائیں۔جوں جوں وقت گزرتا گیا،وہابی تنظیمیں سعودی عرب کے ہی خلاف ہوتی گئیں۔یہاں تک کہ سعودی عرب کو ان تنظیموں سے خطرہ محسوس ہونے لگ گیا۔جس سے مجبور ہو کر سعودی عرب لبرل کی راہ پر چلنے کو ترجیح دی۔

دوسری طرف ایران نے جو بھی تنظیم بنائی،وہ اس کی ہمیشہ سے وفادار رہی اور تنظیموں کے وجود سے ایران مضبوط سے مضبوط تر ہوتا گیا۔
عراق میں جب امریکہ اتحاد نے صدام حسین کی حکومت ختم کرنے کی کارروائی کی تو ایران پڑوسی ہونے کے باوجود نیوٹرل رہا حالانکہ صدام حسین بدترین دشمن تھا۔
امریکہ اور عرب حکمرانوں نے جیسے ہی صدام حسین کی حکومت ختم کی،ایران نے عراق میں قدم مضبوط کرنے شروع کر دیئے۔
ایک وقت ایسا بھی آیا جب امریکہ اور نیٹو کو مجبوراً عراق سے نکلنا پڑا جو کہ داعش کے خروج کے بعد ایک بار پھر امریکہ کو عراق میں واپس آنے کا موقع نصیب ہوا۔
دوسری طرف جب افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو ایران کے لئے خطرہ پیدا ہوا کیونکہ یہ تنظیم انتہائی شدت پسند سوچ کی مالک تھی اور اپنی حکومت کے دوران نا صرف افغانستان میں شیعہ قتل عام کیا بلکہ ایران کے سفارت خانے پر حملہ کر کے ایرانی سفارت کاروں کو بھی قتل کر دیا۔
ایران کو طالبان سے خطرہ محسوس ہونے لگ گیا مگر طالبان کی حکومت زیادہ دیر قائم نا رہ سکی اور جلد ہی امریکہ طالبان کا تختہ الٹنے کے لئے پہنچ گیا۔
اس وقت بھی ایران خاموش رہا لیکن اس کے فوراًِ بعد افغانستان میں اپنا اثرورسوخ بڑھانا شروع کر دیا۔
یہاں تک کہ اب جہاں امریکہ افغانستان سے انخلاء کی تیاری کر رہا ہے۔وہیں ایران طالبان قیادت کے ساتھ تہران میں بیٹھ کر مذاکرات کر رہا ہے۔
ایران کی بہترین خارجہ پالیسی کی مثال اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گی کہ طالبان اور ایران عقائد میں بالکل مختلف ہیں مگر آج کے دوست بھی ہیں۔
مجھے مستقبل قریب میں ایران مشرق وسطیٰ کا نیا پہلوان بنتا نظر آ رہا ہے جس کی حمایت روس کرے گا اور وہ امریکہ کے پٹھے سعودی عرب کو چت کر دے گا کیونکہ سعودی عرب اپنی لاتعداد غلطیوں خصوصاً محمد بن سلیمان کی جذباتی حرکتوں سے اندرون ملک اور بیرونی طور پر بہت زیادہ دشمن پیدا کر چکا ہے۔
ایران اگر افغانستان میں قدم جمانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اسے کسی سرحد سے خطرہ محسوس نہیں ہو گا لیکن دوسری طرف سعودی عرب نے ایسی ناقابل تلافی غلطیاں کی ہیں کہ اس کی عراق،یمن،بحرین اور قطر جیسے پڑوسیوں کی سرحدیں غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔
امریکہ کے شام اور افغانستان سے انخلاء کے بعد اس کی اس خطہ میں اجارہ داری کمزور ہو جائے گی جس کا براہ راست فائدہ روس اور ایران کو پہنچے گا اور وہ اس خلاء کو پر کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔
جس کی کامیابی کے امکانات بھی کافی حد تک موجود ہیں مگر دیکھنا یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کی اگر نئ انتظامیہ آ جاتی ہے تو وہ اس علاقے سے کیا سلوک کرتے ہیں ؟
امریکہ اور اس کے پہلوان سعودی عرب کی طرح تباہی پھیلاتے ہیں یا مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرتے ہیں۔

میری نظر میں مشرق وسطیٰ میں امن تبھی قائم ہو سکتا ہے جب سعودی عرب اور ایران جیسے دو روایتی حریف صلح کر لیں یا ایک حریف شکست سے دوچار ہو جائے ورنہ ان دو طاقتور ممالک کی لڑائی میں دوسرے ملک یوں ہی پستے رہیں گے۔

 

 

admin

Author: admin

Check Also

ہم اتنے سنگ دل کیوں ہوگئے ہیں : میر افضل خان طوری

پاکستانیوں کی اکثریت مذہب، عقیدے ، مسلک ، زبان اور علاقے کی بنیاد پر ایک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے