Home / کالم / پی ٹی ایم اور پارلیمانی سیاست کے بارے میں چند معروضات

پی ٹی ایم اور پارلیمانی سیاست کے بارے میں چند معروضات

پی ٹی ایم اور پارلیمانی سیاست کے بارے میں چند معروضات

 

تحریر: ثوبان احمد

 

کیا پی ٹی ایم کو پارلیمانی سیاست میں جانا چاہیے؟ یہ وہ موضوع ہے، جو آج کل مختلف سیاسی حلقوں، سیاسی کارکنوں اور سیاست کے طالب علموں کے درمیان زیرِ بحث ہے۔ آئیے اس بات کا جائزہ لیں کہ پارلیمانی سیاست کے فوائد اور نقصانات کیا ہیں۔
پارلیمانی سیاست ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے آپ بہترین طریقے اور آسانی سے اپنی بات عوام تک پہنچا سکتے ہیں۔ اسی لیے لینن کا اس پر نقطہ نظر یہ تھا کہ اگرچہ پارلیمانی سیاست کے ذریعے کوئی انقلاب تو نہیں لایا جا سکتا لیکن ہمیں پارلیمانی سیاست میں حصہ لینا چاہیے تاکہ ہم انتخابی مہم کے دوران عوام تک اپنا پیغام پہنچا سکیں اور پارلیمنٹ میں جا کر حکمران طبقات کو عوام کے سامنے بے نقاب کر سکیں۔
پارلیمنٹ میں جا کر حکمران طبقات کو کیسے بے نقاب کیا جا سکتا ہے؟ اِس کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں مثلاً سب سے موثر طریقہ تو یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں حقیقی عوامی نمائندے جا کر جب عوام کی بھلائی کے لیے کوئی تجویز یا بل پیش کرتے ہیں اور حکمران طبقات کے نمائندے اُس بل کو مُسترد کر دیتے ہیں یا التواء میں ڈالے رکھتے ہیں تو اِس سے حکمران طبقات کے نمائندے عوام کے سامنے بے نقاب ہوتے ہیں۔

پی ٹی ایم جیسی عوامی تحریکوں کے جلسوں کو میڈیا کوریج نہیں دیتا لیکن پارلیمانی سیشن کے اجلاس کو میڈیا کو کوریج دینی پڑتی ہے، بلفرض اگر پی ٹی ایم کے نمائندوں کی گفتگو کو نہ دکھایا جائے تو بھی آج کل کے سوشل میڈیا کے دور میں پارلیمانی نمائندے اپنی تقاریر کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال سکتے ہیں اور یوں اپنا پیغام عوام میں پہنچا سکتے ہیں۔ کسی جلسے اور کارنر میٹنگ میں کی گئی بات سے کہیں زیادہ اہمیت پارلیمان میں کی گئی بات کی ہوتی ہے اور پارلیمان میں کی گئی تقریر کو قانوناً تحفظ بھی حاصل ہوتا ہے۔
یہ ہو گئے پارلیمانی سیاست میں حصہ لینے کے فوائد اب ایک نظر اس کے نقصانات پر بھی ڈال لیتے ہیں۔ ہمارے سامنے ایک مثال جماعتِ اسلامی کی ہے، جب تک جماعتِ اسلامی پارلیمانی سیاست سے دور تھی دیگر سیاسی مذہبی تحاریک اس جماعت کا ساتھ دیتی تھیں لیکن جیسے ہی جماعتِ اسلامی نے پارلیمانی سیاست کی راہ دیکھی اور ایک دعوتی تحریک کی جگہ سیاسی تحریک بنی تو دیگر مذہبی سیاسی تحاریک اور جماعتِ اسلامی کے درمیان ایک مسابقت اور مخاصمت کی فضا پروان چڑھی۔ جماعتِ اسلامی کے بارے میں یہ الفاظ ڈاکٹر اسرار احمد کے ہیں جن کی رائے میں جماعتِ اسلامی کی سب سے بڑی غلطی پارلیمانی سیاست کا راستہ اختیار کرنا تھا اور اسی وجہ سے ڈاکٹر اسرار نے اپنی تنظیم کو ساری زندگی پارلیمانی سیاست سے دور رکھا۔ اسی طرح جب تک پی ٹی ایم پارلیمانی سیاست سے دور ہے دیگر پشتون قوم پرست تینظموں کے کارکن اس تحریک کا بھرپور ساتھ دیں گے لیکن جیسے ہی پی ٹی ایم ایک سیاسی جماعت بنے گی تو دیگر جماعتوں کے کارکن اس کا اُس طرح سے ساتھ نہیں دیں گے بلکہ وہ صرف اُن ہی مسائل پر پی ٹی ایم کا ساتھ دیں گے جن پر اُن کی پارٹیوں کا موقف پی ٹی ایم کے موقف کی تائید کرتا ہوگا۔

اس صورتحال کا تقاضہ یہ ہے کہ پی ٹی ایم کو بطور جماعت خود کو پارلیمانی سیاست سے دور رکھنا چاہیے لیکن پی ٹی ایم سے وابسطہ وہ لوگ جو انفرادی حیثیت میں پارلیمانی سیاست میں حصہ لینا چاہیں اُن کو حصہ لینے دینا چاہیے۔ پی ٹی ایم کے پیشِ نظر سب سے اہم مقصد پشتون عوام کو درپیش مسائل کو حل کرنا، فاٹا کی ترقی کے لیے آواز اٹھانا اور انسان دشمن ریاستی پالیسیوں کی مخالفت ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ پی ٹی ایم کو بطور اصلاحی تحریک بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور پشتون علاقوں میں مذہبی انتہاء پسندی، خواتین کے خلاف سماجی جبر اور غیرت کے نام پر قتل جیسی رسومات کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ اس سلسلے میں بطور رول ماڈل اگر کسی ترقی پسند قومی تحریک کا نام لیا جا سکتا ہے تو وہ کُرد قومی تحریک ہے جس کے لیڈران نے نہ صرف قومی جبر کے خلاف جدوجہد کی ہے بلکہ اپنی قوم کی دُرست نظریاتی تربیت بھی کی ہے۔ کُرد سماج میں بھی عورتوں کی حالت کافی پسماندہ تھی جس کے خلاف عبداللہ اوچلان اور دیگر کرد رہنماؤں نے بھرپور کام کیا اور اس تحریک کی بدولت اب کرد معاشرے میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ قومی تحریک میں شریک ہیں۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے پی ٹی ایم کو بطور تنظیم احتجاجی سیاست اور انفرادی حیثیت میں پارلیمانی سیاست دونوں کا راستہ استعمال کرنا چاہیے۔

 

admin

Author: admin

Check Also

ہم اتنے سنگ دل کیوں ہوگئے ہیں : میر افضل خان طوری

پاکستانیوں کی اکثریت مذہب، عقیدے ، مسلک ، زبان اور علاقے کی بنیاد پر ایک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے