Home / کالم / ’’آس آف‘‘۔۔۔ دہکتے انگاروں پر چلنے کی رسم : سیدّ غضنفر محمود

’’آس آف‘‘۔۔۔ دہکتے انگاروں پر چلنے کی رسم : سیدّ غضنفر محمود

بے گناہی پرکھنے کیلئے بلوچی تہذیب کا پیمانہ، ملزم کو پنچا یت کیحکم پر دہکتے انگاروں پر سے گزارنا پڑتا ہے۔
دنیا کی تاریخ جتنی قدیم، اتنی ہی ظلم و انصاف کی تاریخ بھی پرانی ہے۔ جب معاشرے میں اور انسان پر ظلم ہوئے تو انصاف کی راہیں تلاش کی گئیں، یہ الگ بحث کہ قدیم دور سے جدید زمانے تک غریب اور کمزور کو انصاف ملا یا نہیں یا پھر کس طرح ملا! ہر قوم، قبیلے اور معاشرے میں ظلم کے انسداد اور انصاف کی فراہمی کیلئے اپنے طور پر طریقے، ضابطے اور قوانین بنائے گئے۔22ویں صدی قبل از مسیح میں قدیم عراق میں بسے سمیرین(Sumerian) حکمران ’’اورنامو‘‘ (Ur-Nammu) نے سب سے پہلے قانونی کوڈ تیار کئے۔ یہ قوانین دلائل سے ثابت کرنے ’’تب، اگر‘‘ (If…..then) پر مشتمل تھے، بعدازاں 1760 قبل از مسیح کے دوران قدیم بابل کے پہلے شاہی خاندان کے چھٹے حکمران ’’حمورابی‘‘ (King Hummurabi) نے قوانین کو بہتر بنایا اور پتھروں پر قوانین لکھوائے۔

حمورابی کے قوانین، آئین اور اخلاقی ضابطے دنیا کے قدیم ترین ضابطے کہلاتے ہیں، وہ 382 قوانین پر مشتمل تھے، مثلاً قوانین میں آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت کا ذکر ملتا ہے۔
قدیم معاشروں میں’’آگ کے ذریعہ مقدمہ‘‘ (Trial by fire) کی نشاندہی ملتی ہے، اس قسم کی تکلیف دہ ’’آزمائش‘‘ کا مقصد کسی شخص کی طاقت، عظم، ثابت قدمی اور سچائی کو جانچنا ہوتا تھا، ایسے مقدموں اور کڑی آزمائش سے ذہنی و جسمانی جانچ ہو سکتی تھی اور بعض اوقات کسی کو انجام تک بھی پہنچانا ہوتا تھا۔ تاہم ’’آگ کے ذریعہ مقدمہ‘‘ (Trial by fire) لفظی اصطلاح سے زیادہ اور کئی سخت ’’آزمائش‘‘ (Ordeal) میں سے ایک طریقہ تھا۔ یہ طریقے یورپ، ایشیاء، افریقا اور امریکی کالونیوں کے عدالتی نظام میں سرایت کر چکیتھے۔ ’’سخت آزمائش‘‘ کے ذریعے مقدمے کے پس منظر میں تصور یہ تھا کہ مقدمے کی سماعت یا کارروائی کے دوران دیوتا مداخلت کرتے ہیں اور کوئی نشانی، علامتی طور پر ظاہر کرتے ہیں جس سے کسی کے مجرم یا معصوم ہونے کی نشاندہی ہو۔ بلاشبہ اُس دور میں ’’آگ سے آزمائش‘‘ یا ’’آگ کے ذریعے مقدمہ‘‘ یا اور دوسرے طریقے مؤثر ثابت بھی ہو جاتے تھے۔ بہت سے مقدمے انتظامی ججز یا پادری آسانی سے نبٹاتے اور ثابت کرتے تھے کہ اُن کا فیصلہ صحیح تھا۔ جارج میسن یونیورسٹی امریکا کے پروفیسر ’’پیٹرلیسن‘‘ (Peter Leeson) کہتے ہیں کہ اُن معاشروں میں ایسی ’’آزمائشوں کے ذریعے فیصلوں پر بلا ہچکچاہٹ اعتماد کیا جاتا تھا۔ اگر کوئی شخص مجرم قرار پاتا اور اُسے یقین ہوتا کہ ’’آزمائش‘‘ سے سچ سامنے آ جائیگا تو وہ اُس ’’آزمائش‘‘ سے گزرنے کیلئے تیار نہ ہوتا اور جرم تسلیم کر لیتا۔
1215ء میں پوپ اننوسینٹ (Pope innocent III) نے ’’آزمائش کے ذریعے مقدمہ‘‘ (Trial by ordeal) پر پابندی لگا دی تھی۔ اُس وقت تک اس طرح مقدمات کے فیصلے کرنے کے طریقے یورپ اور امریکی کالونیوں میں پھیل چکے تھے۔ بھارت، جنوب مشرقی ایشیاء اور افریقا کے متعدد حصوںمیں ’’آزمائش سے مقدمات‘‘ کے فیصلے ہوتے تھے۔ ہندوئوں کی کتاب ’’راماین‘‘ میں بھی ’’آزمائش سے مقدمے‘‘ کا ذکر ملتا ہے۔ ’’آگ کے ذریعے مقدمہ‘‘ (Trial by fire) میں مدعا علیہ کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کیلئے دہکتی آگ میں جانا یا انگاروں پر سے گزرنا پڑتا تھا۔ اگر وہ اس عمل میں جل جاتا تو قصوروار یا گناہ گار تصور کیا جاتا تھا۔ ’’راماین‘‘ میں ’’سیتا‘‘ کا ذکر ملتا ہے جو شعلوں میں نہ جلی تھی۔

نائیجیریا میں زہریلے بیج (Calabar bean) کے ذریعے مقدمات میں فیصلوں کیلئے آزمائش کی جاتی تھی۔ مدعا علیہ کو زہریلے بیج کھانے پڑتے اگر وہ قے کر دیتا تو اُسے بے گناہ سمجھا جاتا اور اگر وہ اُن بیجوں کو ہضم کر جاتا تو مجرم قرار پاتا تھا۔ متعدد ملزم بیج ہضم کرنے کے باعث قانون کے مطابق قتل کر دیئے گئے۔ افریقی ملک مڈغاسکر میں نائیجیریا کی طرح ایک درخت (Tagena tree) کے بیج کی گری (Nut) آزمائش کیلئے کھلائی جاتی تھی، ایسی زہریلی گری جس کے کھانے سے ہارٹ اٹیک یا دل کے امراض ہو سکتے ہیں۔ مدعا علیہ کو بیج کھانے پڑتے تھے۔ اگر ملزم فوری قے کر دیتا تو اُسے بے گناہ اور معصوم تصور کیا جاتا تھا جبکہ بیجوں کو ہضم کرنیوالا قصوروار تصور کیا جاتا تھا۔ پانچ سو برس سے مڈغاسکر میں ’’ٹاجینا کے بیجوں کے ذریعے مقدمہ‘‘ (Trial by Tagena) کا طریقہ چلا آ رہا تھا۔ 19ویں صدی کے وسط میں کنگ راداما (King Radama) نے ٹاجینا کے بیجوں کے استعمال پر پابندی لگائی، یہ بیج کھانے سے خودکشی کی شرح بڑھی تھی۔ آج بھی مڈغاسکر اور بھارت میں ان کو کھانے سے متعدد خودکشیاں ہوتی ہیں۔ پابندی کے باوجود مڈغاسکر کے دور دراز علاقوں میں ’’ٹاجینا کے ذریعے مقدمہ‘‘ (Trial by Tagena) کا سلسلہ جاری ہے۔ دنیا کے کئی علاقوں میں دوسرے طریقے بھی ہیں ’’پانی کے ذریعہ مقدمہ‘‘ (Trail by water) میں خاص دورانیہ تک پانی میں ڈبکی لگائی جاتی ہے، ’’سانپ کے ذریعے مقدمہ‘‘ (Trial by Snake) میں کوبرا سانپ کے ساتھ بیٹھے رہنا، سانپ نے نہ کاٹا توبے قصور سمجھا جاتا ہیاور متعدد طریقے ایسے ہیں جن کے ذریعے مقدمات کے فیصلیکئے جاتے رہے ہیں۔
آگ، پانی، مٹی اور ہوا زندگی کے عناصر ترکیبی کہلاتے ہیں، حرارت کی کئی اقسام، اور مختلف ذرائع سے حاصل ہوئی ہیں۔ آگ سے بھی حرارت حاصل، حرارت کو دیکھا نہیں جا سکتا لیکن محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح پانی بھی عناصر اربعہ کا جزو ہے۔ مذہبی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو آگ اور پانی بہت اہمیت کے حامل، آگ کا کردار مختلف مذاہب میں مختلف رہا ہے۔ کسی مذہب میں آگ کو بطور دیوتا سمجھا جاتا ہے، اسے اولیت حاصل ہے۔ ’’رگ وید‘‘ میں ’’اگنی‘‘ کے بے شمار فضائل اور اصاف بیان کئے ہیں۔ مختلف نام بھی دیئے گئے۔

ہندو مذہب میں نوبیاہتا جوڑا نئی زندگی شروع کرنے سے قبل آگ کے گرد چکر لگاتے ہیں۔ مرنے کی صورت میں آگ میں جلا دیا جاتا ہے۔ قدیم رومن میں ’’وستا‘‘ (Vesta) گھریلو زندگی اور’’آگ کی دیوی‘‘ تھی۔ اُن کی عبادت گاہوں میں آگ ہمیشہ جلتی رہتی تھی، زر تشی بھی آگ پرست ہیں۔ آگ کو اُن کے مذہب میں اولیت حاصل ہے۔ بلوچ قبائل کی گزرگاہ ایران سے رہی، شاید بلوچ اُس سے متاثر ہوئے، جس کے نتیجے میں بلوچوں نے سنہرے رنگ کے اونٹ کو ’’زرتشتر‘‘ کا نام دیا۔

آگ کی طرح پانی بھی تقریباً مختلف مذاہب میں اہم اور خاص ہے۔ کہیں میٹھے اور ٹھنڈے پانی کی نوید سنائی گئی اور کہیں اس سے اشنان کرتے ہیں، انسان پوتر ہو جاتا ہے۔ اشنان اُن کے مذہب کا لازمی جزو ہے۔ بھارت میں ’’کنبھ‘‘ کا میلا اِسی سلسلے کی اہم کڑی ہے۔ عراق کی دیومالائی داستان میں ’’اینکی‘‘ (ENKI) زمین اور پانی کا دیوتا ہے۔ بعد میں اس کا نام تبدیل کر کے ’’ایا‘‘ (EA) رکھ دیا گیا تھا۔سماجی طور پر بھی آگ اور پانی انتہائی اہم رہے ہیں۔ جب آگ دریافت ہوئی تو اس سے سماجی طور پر ایک انقلاب برپا ہوا تھا۔ ازل ہی سے آگ اور پانی سماج کی ترقی میں ممدومعاون ہوتے رہے،سماجی ضرورت کے علاوہ ان سے مختلف رسوم اور قوانین نے بھی جنم لیا۔ ’’سائنس میگزین‘‘ کی ایک اشاعت میں تاریخ انسان کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ وادی دجلہ و فرات میں جب دنیا کا پہلا قانون بنا تو اُس کے مطابق ملزم عورت کو ہاتھ پائوں باندھ کر پانی میں پھینکا جاتا تھا جبکہ مرد ایسے جرم کا ارتکاب کرتا تو اُسے معاف کر دیتے تھے۔

750 قبل ازمسیح میں یونانی دیوتا ’’زیوس‘‘ (Zeus) انتہائی طاقتور، طوفان اور آسمانی بجلی کا دیوتا سمجھا جاتا تھا۔ دیومالائی کہانی میں ’’زیوس‘‘ انسانوں کو سردی سے ختم کر دینا چاہتا تھا، کہانی کا ایک دوسرا کردار ’’پرومیتھیس‘‘ (Prometheus) آگ جلانے کا طریقہ لوگوں کو بتاتا ہے تاکہ وہ سردی سے بچ سکیں۔ زیوس کو علم ہونے پر پرومیتھیس کو طویل عرصے سزا دیتا ہے۔ دنیا کے دیگر علاقوں میں بھی آگ اور پانی کی سماجی و مذہبی اہمیت رہی،کہا جاتا ہے کہ تبت کے لوگ اب بھی جلتی آگ پر چل کر لوگوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔

انسانی تاریخ میں متعدد واقعات ہیں جس میں آگ اور پانی کو بطور منصف مانا گیا اور حتمی نتائج برآمد ہوئے۔ طوفان نوح اور حضرت ابراہیم کا واقعہ، حضرت موسیٰ اور فرعون کے معاملے میں پانی کے باعث ہی فرعون تباہ ہوا۔ انسانی تاریخ رہی ہے کہ کو جن اشیاء سے فوائد اور سکون ملا اُسے دیوتا مان لیا۔ جن چیزوں سے ڈر اور خوف آیا، اُن کو شرکی قوت سے تعبیر کیا۔
پانی نے سیلاب کی صورت انسان اورتمام جانداروں کو شدید نقصان پہنچایا، دوسرا پانی زندگی بھی ہے، اسی سے فصلیں اُگتی اور خوراک پیدا ہوتی ہے۔ آگ نے جنگل کے جنگل تباہ کئے جبکہ آگ کی بدولت ہی انسان خوراک کو کھانے کے قابل بناتا ہے۔ مختلف معاشروں میں آج بھی انسان آگ اور پانی کو سماجی، مذہبی طور پر بھی اہمیت دیتا ہے۔ ایسے نظریات اور عقائد دنیا میں حملہ آوروں کے ذریعے اور فتوحات کے باعث ایک سے دوسرے معاشرے میں پھیلتے گئے۔

پاکستان کے مشرقی بلوچستان، اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقوں خصوصاً روجہان، راجنپور، ڈیرہ مرادجمالی، نصیرآباد، کشمور، شہدادکوٹ سمیت کئی علاقوں میں آج بھی ’’آگ کے ذریعے مقدمہ‘‘ (Trial by fire) کی مثالیں نظر آتی ہیں۔ مقامی زبانوں میں اس رسم کو ’’آس آف‘‘ چربیلی، باھ تے ساکھ،سچ جو فیصلو، ’’آس چر‘‘کہتے ہیں۔ناخواندگی اور پسماندگی کے باعث آج بھی فرسودہ رسموں کے ذریعے گھمبیر اور دیرینہ جھگڑوں کو حل کیا جاتا ہے، جیسے قتل، کاروکاری، چوری، ڈکیتی کے ملزموں کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کیلئے انگاروں پر چلنا پڑتا ہے۔۔
بلوچی زبان میں ’’آس آف‘‘ دو لفظوں کا مجموعہ ’’آس‘‘ کا مطلب ’’آگ‘‘ (Fire) اور آف کے معنی ’’پانی‘‘ ہیں۔ آگ اور پانی کو سرائیکی و بلوچی زمان ’’بھاپانی‘‘ کہتے ہیں۔ ’’آس آف‘‘ بلوچی تہذیب و ثقافت کا ایک پیمانہ جو صدیوں سے رائج ہے۔ ایک ایسا عمل جو ملزم کو مجرم اور ملزم کو معصوم ثابت کرنے کا ایک معتبر طریقہ سمجھاتا ہے۔ مختلف علاقوں میں ملزم کو آگ کے دہکتے ہوئے انگاروں پر سے گزارنا پڑنا ہے، کبھی ملزم کو گرم تپتے ہوئے لوہے پر زبان رکھنے اور کبھی آگ میں تپتے ہوئے پتھرں پر چلنے کو کہا جاتا ہے۔ ملزم جل گیا تو مجرم، بچ گیا تو معصوم قرار پاتا ہے۔

اسی طرح ’’آف‘‘ یعنی پانی میں ڈبکی لگوائی جاتی ہے اور کبھی پتھر سے باندھ کر بہتے ہوئے پانی میں پھینک دیا جاتا ہے۔ منصف‘ ملزم کیڈبکی لگانے سے قبل و قت کا تعین کرتے ہیں۔ مقررہ وقت میں ملزم پانی پر ابھرآئے تو معصوم،نہ نکلے تو مجرم قرار دیتے ہیں۔ سارے عمل کی نگرانی جرگہ کے ذریعے اور مجرم کو سزا بھی جرگہ کے ذریعے پنچائتی طریقے کے مطابق دی جاتی ہے، پھر پنچائت ہی سزا پر عمل درآمد کرواتی ہے۔ علاقہ کا سردار اور مذہبی پیشوا کی سربراہی میں ہی تمام کارروائی اپنے منطقی انجام کو پہنچتی ہے۔

’’آس آف‘‘ کی رسم کیلئے 10 فٹ طویل اور 2فٹ گہری کھائی کھود کر اس میں 8،10 من لکڑی کو آگ لگا دی جاتی ہے۔ جب بلوچ قوم میں کوئی کسی پر دعوی دائر کر دیتا ہے تو اس کے لئے پنچایت بلائی جاتی ہے۔ پنچایت مدعی علیہ پر لازم قرار دیتی ہے کہ وہ خود کو سچا ثابت کرنے کیلئے ’’آس آف‘‘ پر عمل کرے،پنچایت کے مطابق دہکتے ہوئے انگاروں پر سے گزارنا پڑتا ہے، اُسے پہلے غسل کروا کر اُس کے پائوں کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے کہ پائوں پر پہلے سے کوئی نشان تو موجود نہیں اور پھر آگ پرسے گزارا جاتا ہے۔دوسری طرف ایک شخص جو علاقے کا مولوی، قرآن پاک کی تلاوت شروع کرتا ہے، پھر آگ کو قسم دیتا ہے کہ اگر انگاروں پر چلنے والا شخص بے گناہ ہے تو اس کے پائوں کو کچھ بھی نہ ہو اور اگر گناہ کا مرتکب رہا ہے تو اس کے پائوں میں چھالے پڑ جائیں۔ جیسے ہی وہ شخص انگاروں پر سے گزرتا ہے تو اُسی وقت ایک بکرا ذبح کرکے اُس بکرے کے خون میں اُس شخص کے پائوں رکھے جاتے ہیں، پھر فیصلے کرنیوالے حقیقی ملزم کے پائوں کی جانچ پڑتال کرکے فیصلہ سناتے ہیں جس کو ہرحال میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ اب عرصہ ہوا فیصلہ کرنے کے ایسے غیر انسانی طریقے پر گورنمنٹ آف پاکستان نے پابندی لگا دی ہے ’’آس آف‘‘ کا طریقہ خدا معلوم کس نے جاری کیا تھا لیکن اب تک ہزاروں مقدمات کے فیصلے اس طریقے کے مطابق کئے جا چکے ہیں اور آج تک کئے جارہے ہیںیہ لوگ اس پہ کتنا اندھا یقین رکھتے ہیں!

یہ وضاحت ضروری کہ پڑھے لکھے لوگ چاہے وہ بلوچ ہوں یا کوئی اور ان رسموں کو مناسب نہیں سمجھتے اور ’’آس آف‘‘ کے طریقوں پر بالکل بھی یقین نہیں رکھتے۔اب یہ صرف چند علاقوں تک محدود رہ گئی ہیں، پہاڑوں کے اندر کے کچھ علاقوں میں جہاں ابھی تک علم کی روشنی نہیں پہنچ سکی۔۔

 

 

admin

Author: admin

Check Also

حکومت کیا ہوتی ہے؟ : میرافضل خان طوری

” حکومت ” عربی زبان کے ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ حکومت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے