Home / Tag Archives: Urdu Afsany

Tag Archives: Urdu Afsany

مِصری کی ڈلی ۔افسانہ۔سعادت حسن منٹو

پچھلے دنوں میری روح اور میرا جسم دونوں علیل تھے۔ روح اس لیے کہ میں نے دفعتاً اپنے ماحول کی خوفناک ویرانی کو محسوس کیا تھا اورجسم اس لیے کہ میرے تمام پٹھے سردی لگ جانے کے باعث چوبی تختے کے مانند اکڑ گئے تھے۔ دس دن تک میں اپنے …

Read More »

ملاقاتی ۔ افسانہ۔سعادت حسن منٹو

’’آج صبح آپ سے کون ملنے آیا تھا‘‘ ’’مجھے کیا معلوم میں تو اپنے کمرے میں سو رہا تھا۔ ‘‘ ’’آپ تو بس ہر وقت سوئے ہی رہتے ہیں آپ کو کسی بات کا علم نہیں ہوتا حالانکہ آپ سب کچھ جانتے ہوتے ہیں‘‘ ’’یہ عجیب منطق ہے۔ اب مجھے …

Read More »

ملاوٹ۔افسانہ۔سعادت حسن منٹو

امرتسر میں علی محمد کی منیاری کی دکان تھی‘ چھوٹی سی مگر اس میں ہر چیز موجود تھی‘ اُس نے کچھ اس قرینے سے سامان رکھا تھا کہ ٹھنسا ٹھنسا دکھائی نہیں دیتا تھا۔ امرتسر میں دوسرے دکاندار بلیک کرتے تھے مگر علی محمد واجبی نرخ پر اپنا مال فروخت …

Read More »

ممی ۔ افسانہ۔سعادت حسن منٹو

نام اس کا مسز سٹیلا جیکسن تھا مگر سب اسے ممی کہتے تھے۔ درمیانے قد کی ادھیڑ عمر کی عورت تھی۔ اس کا خاوند جیکسن پچھلی سے پچھلی جنگ عظیم میں مارا گیا تھا اس کی پنشن سٹیلا کو قریب قریب دس برس سے مل رہی تھی۔ وہ پونہ میں …

Read More »

دودھیا سویرا-افسانہ- ممتاز مفتی

شہر سے دور گرینڈ ٹرنک روڈ کے کنارے پر درختوں کے جھنڈ کے نیچے وہ ایک مختصر سا قبرستان تھا۔اس میں صرف بیس پچیس قبریں تھیں۔جن میں سے بیشتر کچی تھیں۔پختہ قبروں میں سے صرف دو یا تین نئی معلوم ہوتی تھیں اور ان میں سے ایک سفید ٹائیلون کی …

Read More »

الجھن۔افسانہ ۔احمد ندیم قاسمی

رات آئی، خیر کیلئے ہاتھ اٹھائے گئے اور اس کے بیاہ کا اعلان کیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔وہ لال دوپٹے میں سمٹی ہوئی سوچنے لگی کہ اتنا بڑا واقعہ اتنے مختصر عرصے میں کیسے تکمیل تک پہنچا، وہ تو یہ سمجھے بیٹھی تھی کہ جب برات آئے گی تو زمین اور آسمان کے …

Read More »

منتر۔افسانہ ۔سعادت حسن منٹو

ننھا رام۔ ننھا تو تھا، لیکن شرارتوں کے لحاظ سے بہت بڑا تھا۔ چہرے سے بے حد بھولا بھالا معلوم ہوتا تھا۔ کوئی خط یا نقش ایسا نہیں تھا جو شوخی کا پتہ دے۔ اس کے جسم کا ہر عضو بھدے پن کی حد حد تک موٹا تھا۔ جب چلتا …

Read More »

ماسی گُل بانو۔افسانہ ۔ احمد ندیم قاسمی

اُس کے قدموں کی آواز بالکل غیر متوازن تھی، مگر اُس کے عدم توازن میں بھی بڑا توازن تھا۔آخر بے آہنگی کا تسلسل بھی تو ایک آہنگ رکھتا ہے۔سو اُس کے قدموں کی چاپ ہی سے سب سمجھ جاتے تھے کہ ماسی گُل بانو آ رہی ہے۔گُل بانو ایک پاؤں …

Read More »