Home / صحت / بیماریاں / جگر کے جان لیوا مرض کا شکار کرنے والی عام عادات

جگر کے جان لیوا مرض کا شکار کرنے والی عام عادات

جگر انسانی جسم کے ان حصوں میں سے ایک ہے جن کو عام طور پر اس وقت تک سنجیدہ نہیں لیا جاتا جب تک وہ مسائل کا باعث نہیں بننے لگتے اور کچھ لوگوں کو بہت تاخیر ہوجاتی ہے۔جگر کا درست طریقے سے کام کرنا متعدد وجوہات کے باعث اچھی صحت کے لیے بہت ضروری ہے ۔ تاہم اس کی دوسری اہمیت یہ ہے کہ ہم جو بھی کھاتے ہیں جگر اس کو ہضم کرنے کے لیے ضروری ہے۔
تو اس میں کسی قسم کی خرابی یا بیماری کی صورت میں جو علامات سامنے آتی ہیں وہ بھی اکثر افراد نظرانداز کر دیتے ہیں ۔ مگر ایک عام عادت آپ کو جگر کے امراض کا سبب بن سکتی ہے اور وہ ہے میٹھی اشیا خصوصاً مشروبات کا زیادہ استعمال ۔ طبی جریدے دی جرنل آف امریکن ایسوسی ایشن میں ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ میٹھے مشروبات اور غذا ؤں کا استعمال جگر پر چربی چڑھانے کا باعث بنتا ہے ، جس کے نتیجے میں امراضِ قلب، ذیابیطس ٹائپ ٹو،جگر کے کینسر یا خراشوں جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھتا ہے ۔ ایموری یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بد قسمتی سےلوگ غذائی عادات پر زیادہ توجہ مرکوز نہیں کرتے جس کے نتیجے میں جگر کے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے ۔ محققین کا کہنا ہے کہ سوفٹ ڈرنکس، فروٹ ، جوسز اور چینی سے بنی چیزوں کا کم استعمال کرکے لوگ جگر پر چربی چڑھنے کے خطرے کو کم کر سکتے ہیں ، یا اگر اس کا شکارہیں تو چربی اور ورم کو کافی حد تک کم کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا ہےکہ صحت مند طر زِ زندگی سے بچوں اور بڑوں میں موٹاپے کی وبا سے جگر پر چربی چڑھنے کی شرح کو نمایاں حد کم کیا جاسکتا ہے ۔ عام طور پر فیٹی لیور کی علامات بہت زیادہ نمایاں نہیں ہوتیں اور اس کے شکار بیشتر افراد کو اس کا اندازہ نہیں ہو تا ۔ اس تحقیق کے دوران محققین نے 40 ایسے بچوں جائزہ لیا جو جگر پر چربی چڑھنے کے مرض کا شکار تھے۔
ان بچوں کو دو مختلف غذائی پلان دیے گئے اور آٹھ ہفتے تک ان پر عمل درآمد کی ہدائت کی گئی ۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ نتائج سے معلوم ہو ا کہ میٹھی اشیا کا استعمال محدود کرنے والے گروپ کے جگر کی صحت میں مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئی اور جگر پر چربی اوسطاً 31 فی صد تک کم ہو گئی ، جبکی دوسرے گروپ میں کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی ۔
اس سے قبل امریکہ کے فنکشنل میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ پانی کم پینا جگر کے امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے ۔ تحقیق کے مطابق جسم میں پانی کی کمی براہِ راست جگر جسم کے نقصان دہ اجزا کو فلٹر کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے ۔ تحقیق میں بتایا گیا جب انسان پانی کا استعمال کم کرتے ہیں توجگر ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہونے لگتا ہے اور ان اجزا کو کھونے لگتا ہے جو جسم کے باقی حصوں کی نگہداشت کا کام کرتے ہیں ۔
تحقیق کے مطابق ایسا ہونے کی صورت میں جگر کے مہلک امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور لوگوں کو اکثر ان کا علم کافی دیر سے ہوتا ہے ۔ محققین نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ مناسب مقدار میں پانی کے استعمال کو یقینی بنائیں چاہے موسم سرد ہی کیوں نہ ہو۔

admin

Author: admin

Check Also

بالوں کی سفیدی کی وجوہات

موجودہ دور کا سب سے بڑا اور سب سے عام مسئلہ بالوں کی سفیدی ہے۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے