Home / موسیقی / Types of Music in India

Types of Music in India

برِصغیر کی اصنافِ موسیقی
تاریخی لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو ہندوستان میں مختلف ادوار میں موسیقی کی کئی اصناف رائج رہی ہیں۔ جن میں دھرپد، خیال، دادرا، ٹھمری، غزل وغیرہ۔
دھرپد
ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد سے پہلے دھرپد موسیقی کا رواج تھا۔ دھرپد کلاسیکی گائیکی کی قدیم ترین صنف ہے۔ دھر اور پد دولفظوں سے مل کر بنا ہے جس کا مطلب ہے مذہبی گیت۔ دھر پد میں دیوی دیوتاؤں کی تعریف کی جاتی تھی۔دھرپد میں خیال کی ز مزمہ اور مرکی وغیرہ کی اجازت نہیں ہوتی بلکہ صرف گمک تان لگائی جاتی ہے ۔ دھرپد میں ابتدا الاپ سے کی جاتی ہے اور گائیکی کے دوران دھرپد کے بولوں کی دوگن چوگن کی جاتی ہے۔ اس کے چار حصے ہوتے ہیں۔ استھائی ، انترہ، سنچاری اور ابھوگ۔
دھرپد عموماً چوتالہ( بارہ ماترے کی تال) اور سول تال(دس ماترے کی تال) میں گائے جاتے ہیں۔ جھپ تال میں گائے جانے والے دھرپد کو سادرہ کہتے ہیں۔ دھرپد میں سنگت کےلیے پکھاوج استعمال ہوتاہے ۔ یہ صنف اب رواج میں نہیں ہے ۔ لیکن اب ہندوستان میں بعض گھرانے اس صنف کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ ڈاگرا گھرانہ اس صنف کو بچانے اور مقبولیت بخشنے کے لیے کوشان ہے۔
خیال گائیکی
خیال کے معنی ہیں تصور ۔ اس صنف کا خیال کا نام اس لیے دیا گیا کیونکہ اس میں راگ کا ایک نغمہ بصورت ایک تصور کسی کلاسیکل تال میں لے کر اس کی وساطت سے کسی راگ کا پھیلاؤ کیا جاتا ہے ۔ اس عمل میں ایک موسیقار آزادی سے سروں اور لے کے ساتھ کھیلتا ہے۔ اپنی مرضی سے تانیں لیتا ہے اور نغمےکا طبلے کی تال سے توازن برقرار رکھتے ہوئے اپنے فن کا مظاہرہ کرتا ہے۔ دھرپد میں اس کی اجازت نہیں ہوتی وہاں صرف بولوں کی دوگن چوگن کی جاسکتی ہے۔
خیال کی بندش کے دو حصے ہوتے ہیں استھائی اور انترہ۔ خیال دو صورتوں میں گائے جاتے ہیں بلمبت لے میں اور درت لے میں۔ بلمبت لے میں عام طور سے تلواڑہ، اکتال،اکوائی اور جھومرا وغیرہ تالوں میں گایا جاتا ہے۔ اور درت لے میں تین تال ، جھپ تال، درت اکتالہ میں گایا جاتاہے۔ اس کا مضمون عام طور پر پوربی زبان میں ہوتا ہے اور بذبانِ صنف ِ نازک ہی محبت اور برہا کا اظہار کیا جاتاہے۔ مذہبی رنگ کے خیال بھی گائے جاتے ہیں۔
خیال کی ہماری موسقی میں بہت زیادہ اہمیت ہے اور یہ گائیکی کی خوبصورت ترین قسم ہے ۔ اس صنف کی اختراع حضرت امیر خسرو سے منسوب ہے ۔ محمد شاہ رنگیلے کے درباری گویوں نعمت خان سدا رنگ ، اور فیروز خان ادا رنگ کی وجہ سے خیال صنف کو اتنی مقبولیت ملی کہ دھرپد ماند پڑ گئی۔ ان کے اختراع کردہ خیال آج بھی گائے جاتے ہیں۔
ٹپہ
یہ صنف خیال کے بعد رائج ہوئی ۔ کلاسیکل موسیقی کی مشکل ترین قسم ہے جو اپنی گمبھیر گائیکی کی وجہ سے زیادہ دیر تک عوام میں مقبولیت حاصل نہ کر سکی ۔ اس کے گانے والے اب مشکل سے ہی ملتے ہیں البتہ اسی گائیکی کی وجہ سے پنجاب گھرانے نے جنم لیا۔ ٹپہ گائیکی کی ابتدا پنجاب کے ساربانوں سے ہوئی ۔ پنجاب کی سرزمین نے ٹپے کو جنم دیا۔ اکثر پنجابی دھنوں میں ڈاچی اور مہار کا ذکر ملتا ہے ۔ ٹپہ گائیکی غلام نبی شورمی سے منسوب ہے ۔ یہ نواب آصف الدولہ کا درباری گائیک تھا۔
ٹپے کی گائیکی کے لیے ہر راگ راگنی موزوں نہیں ہےاور نہ ہر آواز۔ اس کے لیے گلے کو خاص طور پر تیار کیا جاتا ہے ۔ عام طور پہ ٹپے ، پہاڑی ، بھیروی ، کھماج ،پیلو، جھنجھوٹی کافی وغیرہ راگنیوں اور پنجابی زبانوں میں ہی گائے جاتے ہیں۔ ان کا موضوع ہیر رانجھے کی داستاں، حسن و عشق اور ہجرو فراق کا اظہار ہوتا ہے ۔ گرجا دیوی اور رسولن بائی کی آواز میں ٹپہ اب بھی سننے کو ملتا ہے۔
ٹھمری ۔ دادرا
مغلیہ سلطنت کے خاتمے کے بعد موسیقی درباروں سے نکل کر نوابوں کی محفلوں اور کوٹھے پہ آپہنچی ۔ واجد علی شاہ کی سر پرستی نے اس کو مزید پروان چڑھایا، کیونکہ وہ خود بھی اچھا کتھک تھا ۔
ٹھمری میں خیال اور ٹپے دونوں کے رنگ پائے جاتے ہیں ۔ عوام میں نزدیکی کی وجہ سے اس گائیکی میں مختلف علاقوں کے رنگ وا نداز کی آمیزش ہوتی گئی ۔ ٹھمری بنیادی طور پر عورتوں کا گانا ہے ۔ جس میں عورتیں اپنے پیا کو یاد کرتی ہیں اور ہجروفراق کا اظہار بذبان ِ صنفِ نازک سے کیا جاتا ہے ۔ مثلاً یاد پیا کی آئے وغیرہ۔
ٹپے کی طرح اس میں بھی ہر گلا اور ہر راگ راگنی موضوع نہیں ہوتی۔ یہ بڑے راگوں میں نہیں سجتی اس کے لیے ہلکی پھلکی راگنیاں مثلاً پہاڑی ، بھیروی ، جھنجھوٹی ، کافی ، پیلو، تلنگ ،، دیس، تلک کامود، و غیرہ میں ہی موضوع ہوتا ہے ۔
ٹھمری گاتے وقت راگ راگنیوں کے اصولوں کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ بلکہ بولوں کی خوبصورت ادائیگی پر توجہ دی جاتی ہے۔ اس کا زنانہ لہجہ ہونے کی وجہ سے بڑے کلاسیک گائیک اسے گانا اپنی توہین سمجھتے تھے ۔ لیکن استاد عبدالکریم خان ، بڑے غلام علی خان جیسے گائیکوں نے اس رواج کو توڑا اور اس صنف کو مقبولِ عام کیا۔
غزل گائیکی
غزل گائیکی نیم کلاسیکی گائیکی کی سب سے مقبول صنف ہے۔ غزل فارسی شاعری سے اردو میں آئی ۔ شاعری اور موسیقی کا دراصل چولی دامن کا ساتھ ہے اس لیے جب غزل شاعری کی صنف میں مقبول ہوئی تو غزل گانے والے بھی کئ میدان میں آگئے ۔ شام چوراسی گھرانے غزل کو بہت مقبول کیا ۔ اس کے علاوہ مہدی حسن خان صاحب نے غزل کو نئے اسلوب سے متعارف کرایا اور شہنشاہ غزل قرار پائے۔ دورِ حاضر میں غلام علی خان غزل کو دوام بخش رہے ہیں۔
قوالی
قوالی کا تعلق مکمل طور پر مسلمانوں سے سمجھا جاتا ہے ۔ قوالی کی اختراع امیر خسرو سے منسوب کی جاتی ہے ۔ امیر خسرو نے قوالی کا ایک نیا انداز متعارف کرایا ۔ قوالی گروپ کی صورت میں گائی جاتی ہے ۔ ڈھولک اور تالیوں کی ضربیں سے سامع کے دل میں ایسی کیفیت پیدا کی جاتی ہے ۔ قوالی کی ابتدا صوفیانہ اورعارفانہ کلام گانے سے ہوئی لیکن آج کل اس میں عشقیہ غزلیں بھی گائی جاتی ہیں۔ ہندوستانی فلموں میں قوالی کئ دفعہ گائی جا چکی ہے۔
ترانہ
ترانہ عام طور پر خیال کی طرح گایا جاتا ہے لیکن اس میں بول نہیں ہوتے ۔ یہ زیادہ تر ین تال میں گایا جاتا ہے۔ آواز کے لیے چند مخصوص قسم کے الفاظ مثلاً تانا دادے توم تنوم وغیرہ۔
ماہیہ
ماہیہ پنجاب لوک موسیقی کی ایک صنف ہے ، ماہیا میں صرف دو مصرعے ہوتے ہیں ۔ اس کا پہلا مصرعہ مہمل ہوتا ہے یعنی اس کا کوئی معنی نہیں ہوتا مثلاً
کوئی سونے دا کل ماہیا لوکاں دیاں رون اکھیاں ساڈا روندا دل ماہیا

admin

Author: admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے