Home / ادب نامہ / نثر / منٹو کے افسانے / الو کا پٹھا – سعادت حسن منٹو

الو کا پٹھا – سعادت حسن منٹو

قاسم صبح سات بجے لحاف سے باہر نکلا اور غسل خانے کی طرف چلا، راستے میں ، یہ اس کو ٹھیک طور پر معلوم نہیں ، سونے والے کمرے میں ، صحن میں ، یا غسل خانے کے اندر اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ کسی کو الو کا پٹھا کہے، بس صرف ایک بار غصے میں طنزیہ انداز میں کسی کو الو کا پٹھا کہہ دے، قاسم کے دل میں اس سے پہلے کئی بار بڑی انوکھی خواہشیں پیدا ہو چکی تھی۔ مگر یہ خواہش سب سے نرالی تھی۔ وہ بہت خوش تھا۔ رات کو اس کو بڑے پیار کی نیند آئی تھی۔ وہ خود کو ترو تازہ محسوس کر رہا تھا۔لیکن پھر یہ خواہش کیسے اس کے دل میں داخل ہو گئی۔ دانت صاف کرتے وقت اس نے ضرورت سے زیادہ وقت صرف کیا۔ جس کے باعث اس کے مسوڑے چھل گئے۔ دراصل وہ سوچتا رہا کہ عجیب و غریب خواہش کیوں پیدا ہوئی۔ مگر وہ کسی نتیجہ پر نہ پہنچ سکا۔
بیوی سے وہ بہت خوش تھا۔ ان میں کبھی لڑائی نہ ہوتی تھی۔ نو کروں سے بھی وہ ناراض نہیں تھا۔ اس لئے کہ غلام محمد یا نبی بخش دونوں خاموشی سے کام کرنے والے مستعد نو کر تھے موسم بھی نہایت خوشگوار تھا۔ فروری کے سہانے دن تھے۔ جن میں کنوار کے پتے کی سی تازگی تھی۔ ہوا خنک اور ہلکی…. دن چھوٹے نہ راتیں لمبی۔ نیچر کا توازن بالکل ٹھیک اور قاسم کی صحبت بھی خوب تھی۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کسی کو بغیر وجہ سے الو کا پٹھا کہنے کی خواہش اس کے دل میں کیونکر پیدا ہوئی۔
قاسم نے اپنی زندگی کے اٹھائیس برسوں میں متعدد لوگوں کو الو کا پٹھا کہا ہو گا۔ اور بہت ممکن ہے کہ اس سے بھی کڑے لفظ اس نے بعض موقعوں پر استعمال کئے ہوں گے۔ اور گندی گالیاں دی ہوں گی۔ مگر اسے اچھی طرح یاد تھا کہ ایسے موقعوں پر خواہش بہت پہلے اس کے دل میں پیدا نہیں ہوئی تھی۔ مگر اچانک طور پر اس نے محسوس کیا تھا کہ وہ کسی کو الو کا پٹھا کہنا چاہتا ہے اور یہ خواہش لمحہ بہ لمحہ شدت اختیار کرتی چلی گئی، جیسے اس نے اگر کسی کو الو کا پٹھا نہ کہا تو بہت بڑا حرج ہو جائے گا۔
دانت صاف کرنے کے بعد اس نے چھلے ہوئے مسوڑوں کو اپنے کمرے میں جا کر آئینے میں دیکھا، مگر دیر تک ان کو دیکھتے رہنے سے بھی وہ خواہش نہ دبی جو ایکا ایکی اس کے دل میں پیدا ہو گئی تھی!
قاسم منطقی قسم کا آدمی تھا۔ وہ بات کے تمام پہلوؤں پر غور کرنے کا عادی تھا۔ آئینہ میزپر رکھ کر وہ آرام کرسی پر بیٹھ گیا۔وہ ٹھنڈے دماغ سے سوچنے لگا۔
’’ مان لیا کہ میرا کسی کو الو کا پٹھا کہنے کو جی چاہتا ہے۔…. مگر یہ کوئی بات تو نہ ہوئی…. میں کسی کو الو کا پٹھا کیوں کہوں؟…. میں کسی سے ناراض بھی تو نہیں ہوں ….‘‘
یہ سوچتے سوچتے اس کی نظر سامنے دروازے کے بیچ میں رکھے ہوئے حقے پر پڑی۔ ایک دم اس کے دل میں یہ باتیں پیدا ہوئیں۔ یہ عجیب واہیات نو کر ہے دروازے کے عین بیچ میں یہ حقہ ٹکا دیا ہے۔ میں ابھی اس دروازے سے اندر آیا ہوں ، اگر ٹھو کر سے بھری ہوئی چلم گر پڑتی تو پا انداز جو کہ مونج کہ بنا ہوا ہے جلنا شروع ہو جاتا اور ساتھ ہی قالین بھی۔
اس کے جی میں آئی کہ غلام محمد کو آواز دے، جب وہ بھاگتا ہوا اس کے سامنے آ جائے تو وہ بھرے ہوئے حقے کی طرف اشارہ کر کے اس ے صرف اتنا کہے۔’’ تم نرے اُلو کے پٹھے ہو۔‘‘ مگر اس نے تامل کیا اور سوچا کہ یوں بگڑنا اچھا معلوم نہیں ہوتا اگر غلام محمد کو الو کا پٹھا کہہ بھی دیا تو وہ بات پیدا نہ ہو گی۔ اور پھر…. اس بے چارے کا کوئی قصور بھی تو نہیں ہے۔ میں دروازے کے پاس بیٹھ کر ہی تو ہر روز حقہ پیتا ہوں۔‘‘
چنانچہ وہ خوشی جو ایک لمحہ کے لئے قاسم کے دل میں پیدا ہوئی تھی کہ اس نے الو کا پٹھا کہنے کے لئے ایک موقعہ تلاش کر لیا غائب ہو گئی۔
دفتر کے وقت میں ابھی کافی دیر تھی، پورے دو گھنٹے پڑے تھے، دروازے کے پاس کرسی رکھ کر قاسم اپنے معمول کے مطابق بیٹھ گیا اور حقہ نوشی میں مصروف ہو گیا۔
کچھ دیر تک وہ سوچ بچار کئے بغیر حقے کا دھواں پیتا رہا۔ اور دھوئیں کے انتشار کو دیکھتا رہا۔ جونہی وہ حقے کو چھوڑ کر کپڑے تبدیل کرنے کے لئے ساتھ کے کمرے میں گیا تو اس کے دل میں وہی خواہش نئی تازگی کے ساتھ پیدا ہوئی۔
قاسم گھبرا گیا۔ بھئی حد ہو گئی…. الو کا پٹھا…. میں کسی کو الو کا پٹھا کیوں کہوں اور بفرض محال میں نے کسی کو الو کا پٹھا کہہ بھی دیا تو کیا ہو گا….
قاسم دل ہی دل میں ہنسا۔ وہ صحیح الدماغ آدمی تھا۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ جو خواہش اس کے دل میں پیدا ہوئی ہے وہ بالکل بیہودہ اور بے سرو پا ہے،لیکن اس کا کیا علاج تھا کہ ، دبانے پر اور بھی زیادہ ابھر آتی ہے۔
قاسم اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ بغیر کسی وجہ کے الو کا پٹھا نہ کہے گا۔ خواہ یہ خواہش صدیوں تک اس کے دل میں تلملاتی رہے، شاید اسی احساس کے باعث یہ خواہش جو بھٹکی ہوئی چمگادڑ کی طرح اس کے روشن دل میں چلی آئی تھی۔ اس قدر تڑپ رہی تھی۔
پتلون کے بٹن بند کرتے وقت جب اس نے دماغی پریشانی کے باعث اوپر کا بٹن نچلے کاج میں داخل کر دیا تو وہ جھلا اٹھا، بھئی ہو گا…. یہ کیا بیہودگی ہے…. دیوانہ پن نہیں تو اور کیا ہے…. الو کا پٹھا کہو…. الو کا پٹھا کہو اور یہ پتلون کے سارے بٹن مجھے پھر بند کرنے پڑیں گے، لباس پہن کر وہ میز پر آ بیٹھا۔ اس کی بیوی نے چائے بنا کر اس کے سامنے رکھ دی اور توس پر مکھن لگانا شروع کر دیا۔ روزانہ معمول کی طرح ہر چیز ٹھیک ٹھاک تھی، تو س اتنے اچھے سکے ہوئے تھے کہ بسکٹ کی طرح کر کرے تھے اور ڈبل روٹی بھی اعلیٰ قسم کی تھی، خمیر سے خوشبو آ رہی تھی، مکھن صاف تھا، چائے کی کیتلی بے داغ تھی، اس کی ہتھی کے، ایک کونے پر قاسم ہر روز میل دیکھا کرتا تھا۔ مگر آج وہ بھی دھبہ نہیں تھا۔
اس نے چائے کا ایک گھونٹ پیا، اس کی طبیعت خوش ہو گئی، خالص دارجلنگ کی چائے تھی، جس کی مہک پانی میں بھی بر قرار تھی دودھ کی مقدار بھی صحیح تھی۔
قاسم نے خوش ہو کر اپنی بیوی سے کہا۔’’ آج چائے کا رنگ بہت ہی پیارا ہے۔ اور بڑے سلیقے سے بنائی گئی ہے۔
بیوی تعریف سن کر خوش ہو ئی۔ مگر اس نے منہ بنا کر ادا سے کہا۔’’ جی ہاں۔ بس آج اتفاق سے اچھی بن گئی ہے، ورنہ ہر روز تو آپ کو نیم گھول کر پلائی جاتی ہے…. مجھے سلیقہ کہاں سے آتا ہے…. سلیقے والیاں تو وہ موئی ہوٹل کی چھوکریاں ہیں۔ جن کے آپ ہر وقت گن گایا کرتے ہیں۔‘‘
یہ تقریر سن کر قاسم کی طبیعت مکدر ہو گئی۔ ایک لمحے کے لئے اس کے جی میں آئی کہ چائے کی پیالی میز پر الٹ دے اور وہ نیم جو اس نے اپنے بچے کی پھنسیوں کے لئے غلام محمد سے منگوائی تھی اور وہ سامنے بڑے طاقچے پر پڑی تھی۔ گھول کر پی لے۔ مگر اس نے بردباری سے کام لیا۔’’ یہ عورت میری ہے‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی بات بہت ہی بھونڈی ہے۔مگر ہندوستان میں سب لڑکیاں بیوی بن کر ایسی بھونڈی باتیں ہی کرتی ہیں۔‘‘ اور بیوی بننے سے پہلے اپنے گھروں میں اپنی ماؤں سے کیسی باتیں سنتی ہیں ؟ بالکل ادنیٰ قسم کی باتیں اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ عورتوں کو عمومی زندگی میں اپنی حیثیت کی خبر ہی نہیں …. میری بیوی تو پھر بھی غنیمت ہے۔ یعنی صرف ایک ادا کے طور پر ایسی بھونڈی بات کہہ دیتی ہے، اس کی نیت نیک ہوتی ہے بعض عورتوں کا تو یہ شعار ہوتا ہے۔ کہ ہر وقت بکواس کرتی رہتی ہیں۔
یہ سوچ کر قاسم نے اپنی نگاہیں طاقچے پر سے ہٹا لیں۔ جس میں نیم کے پتے دھوپ میں سوکھ رہے تھے اور بات کا رخ بدل کر اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔’’ دیکھو آج نیم کے پانی سے بچے کی ٹانگیں ضرور دھو دینا۔ نیم زخموں کے لئے بڑی اچھی ہوتی ہے…. اور دیکھو موسمبیوں کا رس ضرور پیا کرو…. میں دفتر سے لوٹتے ہوئے ایک درجن ضرور لے آؤں گا۔ یہ رس تمہاری صحت کے لئے بہت ضروری ہے۔‘‘
بیوی مسکرا دی۔’’ آپ کو تو بس ہر وقت میری صحت کا خیال رہتا ہے۔ اچھی بھلی تو ہوں ، کھاتی ہوں ، پیتی ہوں ، دوڑتی ہوں ، بھاگتی ہوں …. میں نے جو آپ کے لئے بادام منگوا کے رکھے ہیں …. بھئی آج دس بیس آپ کی جیب میں ڈالے بنا نہ رہوں گی…. لیکن دفتر میں کہیں نہ بانٹ دیجئے گا۔‘‘
قاسم خوش ہو گیا کہ چلو موسمبیوں کے رس اور باداموں ، نے اس کی بیوی کے مصنوعی غصے کو دور کر دیا اور یہ مرحلہ آسانی سے طے ہو گیا۔ دراصل قاسم ایسے مرحلوں کو آسانی کے ساتھ ان طریقوں ہی سے طے کیا کرتا تھا۔ جو اس نے پڑوس کے پرانے شوہروں سے سیکھے تھے، اور اپنے گھر کے ماحول کے مطابق ان میں بہت یا تھوڑا رد و بدل کر لیا تھا۔
چائے سے فارغ ہو کر اس نے جیب سے سگریٹ نکال کر سلگایا اور اٹھ کر دفتر جانے کی تیاری کرنے ہی والا تھا کہ پھر وہی خواہش پیدا ہو گئی۔ اس مرتبہ اس نے سوچا، میں اگر کسی کو الو کا پٹھا کہہ دوں تو کیا ہرج ہے زیر لب بالکل ہولے سے یہ کہہ دوں الو…. کا…. پٹھا…. تو میرا خیال ہے کہ مجھے دلی تسکین ہو جائے گی۔یہ خواہش میرے سینے میں بوجھ بن کر بیٹھ گئی ہے کیوں نہ اس کو ہلکا کر دوں۔ دفتر میں۔
اس کو صحن میں بچے کا کموڈ نظر آیا، یوں صحن میں کموڈ رکھنا، سخت بد تمیزی تھی اور خصوصاً اس وقت جب کہ ناشتہ کر چکا تھا اور خوشبو دار کُرکُرے توس اور تلے ہوئے انڈوں کا ذائقہ ابھی تک اس کے منہ میں تھا…. اس نے زور سے آواز دی۔’’ غلام محمد۔‘‘
قاسم کی بیوی جو ابھی تک ناشتہ کر رہی تھی بولی۔’’ غلام محمد باہر گوشت لینے گیا ہے…. کوئی کام تھا آپ کو اس سے؟‘‘
ایک سیکنڈ کے اندر اندر قاسم کے دماغ میں بہت سی باتیں آئیں ، کہہ دوں ، یہ غلام محمد الو کا پٹھا ہے…. اور یہ کہہ کر جلدی سے باہر نکل جاؤں …. نہیں …. وہ خود تو موجود ہی نہیں ، پھر…. بالکل بیکار ہے…. لیکن سوال یہ ہے کہ بے چارے غلام محمد ہی کو کیوں نشانہ بنایا جائے۔ اس کو تو میں ہر وقت الو کا پٹھا کہہ سکتا ہوں ….
قاسم نے ادھ جلا سگریٹ گرا دیا اور بیوی سے کہا۔’’ کچھ نہیں میں اسے یہ کہنا چاہتا تھا کہ دفتر میں میرا کھانا بے شک ڈیڑھ بجے لے آیا کرے…. تمہیں کھانا جلدی بھیجنے میں بہت تکلیف کرنی پڑتی ہے۔ یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا جو فرش پر اس کے گرائے ہوئے سگریٹ کو دیکھ رہی تھی۔ قاسم کو فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا، یہ سگریٹ اگر بجھ گیا اور یہاں پڑا رہا تو اس کا بچہ رینگتا رینگتا آئے گا، اور اسے اٹھا کر منہ میں ڈال لے گا۔ جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اس کے پیٹ میں گڑ بڑ مچ جائے گی۔ قاسم نے سگریٹ کا ٹکڑا اٹھا کر غسل خانے کی موری میں پھینک دیا۔ یہ بھی اچھا ہوا کہ میں نے جذبات سے مغلوب ہو کر غلام محمد کو الو کا پٹھا نہیں کہہ دیا۔ اس سے اگر غلطی ہوئی ہے تو ابھی ابھی مجھ سے بھی تو غلطی ہوئی تھی۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ میری غلطی زیادہ شدید تھی….
قاسم بڑا صحیح الدماغ آدمی تھا۔ اسے اس بات کا احساس، تھا کہ وہ صحیح خطوط پر غور و فکر کرنے والا انسان ہے۔ مگر اس احساس نے اس کے اندر برتری کا خیال کبھی پیدا نہیں کیا تھا، یہاں پر پھر اس کی صحیح الدماغی کو دخل تھا کہ وہ احساس برتری کو اپنے اندر دبا دیا کرتا تھا۔
موری میں سگریٹ کا ٹکڑا پھینکنے کے بعد اس نے بلا ضرورت صحن میں ٹہلنا شروع کر دیا۔ وہ دراصل کچھ دیر کے لئے بالکل خالی الذہن ہو گیا تھا۔
اس کی بیوی ناشتے کا آخری توس کھا چکی تھی، قاسم کو یوں ٹہلتے دیکھ کر وہ اس کے پاس آئی اور کہنے لگی۔’’ کیا سوچ رہے ہیں آپ۔‘‘
قاسم چونک پڑا۔’’ کچھ نہیں …. کچھ نہیں …. دفتر کا وقت ہو گیا کیا؟ یہ لفظ اس کی زبان سے نکلے اور دماغ میں وہی الو کا پٹھا کہنے کی خواہش تڑپنے لگی۔‘‘
اس کے جی میں آئی کہ بیوی سے صاف صاف کہہ دے کہ یہ عجیب و غریب خواہش اس کے دل میں پیدا ہو گئی ہے۔ جس کا سر ہے نہ پیر بیوی ضرور سنے گی اور یہ بھی ظاہر ہے۔ کہ بیوی کو ساتھ دینا پڑے گا۔ چنانچہ یوں ہنسی ہنسی میں الو کا پٹھا کہنے کی خواہش اس کے دماغ سے نکل جائے گی۔ مگر اس نے غور کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں ، بیوی ہنسے گی اور میں خود بھی ہنسوں گا۔ لیکن ایسا نہ ہو کہ یہ بات مستقل مذاق بن جائے…. ایسا ہو سکتا ہے…. ہو سکتا ہے کیاضرور ہو جائے گا۔ اور بہت ممکن ہے کہ انجام کار خوشگواری پیدا ہو۔ چنانچہ اس نے اپنی بیوی سے کچھ نہ کہا اور ایک لمحہ تک اس کی طرف یوں ہی دیکھتا رہا۔
بیوی نے بچے کا کموڈ اٹھا کر کونے میں رکھ دیا اور کہا۔’’ آج صبح کو آپ کے بر خور دار نے وہ ستایا کہ اللہ کی پناہ…. بڑی مشکلوں کے بعد میں نے اسے کموڈ پر بٹھایا۔ اس کی مرضی یہ تھی کہ بستر ہی کو خراب کرے…. آخر لڑکا کس کا ہے….؟‘‘
قاسم کو اس قسم کی چیخ پسند تھی۔ ایسی باتوں میں وہ تیکھے مزاح کی جھلک دیکھتا تھا۔ مسکرا کر اس نے بیوی سے کہا۔’’ لڑکا میرا ہی ہے مگر…. میں نے تو آج تک کبھی خراب نہیں کیا۔ یہ عادت اس کی اپنی ہو گی۔‘‘
بیوی نے اس کی بات کا مطلب نہ سمجھا۔قاسم کو مطلقاً افسوس نہ ہوا۔ اس لئے کہ ایسی باتیں وہ صرف اپنے منہ کا ذائقہ درست رکھنے کے لئے کیا کرتا تھا۔ وہ اور بھی خوش ہوا۔ جب اس کی بیوی نے جواب نہ دیا اور خاموش ہو گئی۔
اچھا ! بھئی اب میں چلتا ہوں۔ خدا حافظ!‘‘
یہ لفظ جو ہر روز اس کے منہ سے نکلتے تھے آج بھی اپنی پرانی آسانی کے ساتھ نکلے اور قاسم دروازہ کھول کر باہر چل دیا۔
کشمیری گیٹ سے نکل کر جب وہ نکلسن پارک کے پاس سے گذر رہا تھا تو اسے ایک ڈاڑھی والا آدمی نظر آیا ایک ہاتھ میں کھلی ہوئی شلوار تھامے وہ دوسرے ہاتھ سے استنجا کر رہا تھا۔ اس کو دیکھ کر قاسم کے دل میں پھر الو کا پٹھا کہنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ لو بھئی۔ یہ آدمی ہے جس کو الو کا پٹھا کہہ دینا چاہئے۔ یعنی جو صحیح معنوں میں الو کا پٹھا ہے…. ذرا انداز ملاحظہ ہو…. کس انہماک سے ڈرائی کلین کئے جا رہا ہے…. جیسے، کوئی، اہم کام سر انجام پا رہا ہے…. لعنت ہے!
لیکن قاسم صحیح الدماغ آدمی تھا۔ اس نے تعجیل سے کام نہ لیا اور تھوڑی دیر غور کیا۔میں اس فٹ پاتھ پر جا رہا ہوں اور وہ دوسرے فٹ پاتھ پر۔ اگر میں نے بلند آواز میں بھی اس کو الو کا پٹھا کہا تو وہ چونکے گا نہیں۔ اس لئے کہ کمبخت اپنے کام میں بہت بری طرح مصروف ہے۔ چاہئے تو یہ کہ اس کے کان کے پاس زور سے نعرہ بلند کیا جائے اور جب وہ چونک اٹھے تو شریفانہ طور پر سمجھا یا جائے۔ قبلہ آپ الو کے پٹھے ہیں …. لیکن اس طرح بھی، خاطر خواہ نتیجہ بر آمد نہ ہو گا۔
چنانچہ قاسم نے ارادہ ترک کر دیا۔
اسی اثناء میں اس کے پیچھے سے ایک سائیکل نمودار ہوئی۔ کالج کی ایک لڑکی اس پر سوار تھی۔ اس لئے کہ پیچھے بستہ بندھا ہوا تھا۔ آناً فاناً اس لڑکی کی ساڑھی فری وہیل کے دانتوں میں پھنسی، لڑکی نے گھبرا کر اگلے پہئے کا بریک دبایا۔ ایک دم سائیکل بے قابو ہوئی اور جھٹکے کے ساتھ لڑکی سائیکل سمیت سڑک پر گر پڑی۔
قاسم نے آگے بڑھ کر لڑکی کو اٹھانے میں عجلت سے کام نہ لیا۔ اس لئے کہ اس نے حادثے کے رد عمل پر غور کرنا شروع کر دیا تھا۔ مگر جب اس نے دیکھا کہ لڑکی کی ساڑھی وہیل کے دانتوں نے چبا ڈالی ہے۔ اور اس کا بورڈر بہت بری طرح ان میں الجھ گیا ہے۔ تو وہ تیزی سے آگے بڑھا، لڑکی کی طرف دیکھے بغیر اس نے سائیکل کا پچھلا پہیہ ذرا اونچا اٹھایا۔ تاکہ اسے گھما کر ساڑھی کو فری وہیل کے دانتوں میں سے نکال لے، اتفاق ایسا ہوا کہ پہیہ گھمانے سے ساڑھی کچھ اس طرح تاروں کی لپیٹ میں آئی کہ ادھر پیٹی کوٹ کی گرفت سے باہر نکل آئی، قاسم بوکھلا گیا۔ اس کی بوکھلا ہٹ نے لڑکی کو بہت زیادہ پریشان کر دیا۔ زور سے اس نے ساڑھی کو اپنی طرف کھینچا۔فری وہیل کے دانتوں میں ایک ٹکڑا اڑا رہ گیا اور ساڑھی باہر نکل آئی۔
لڑکی کا رنگ لا ل ہو گیا، قاسم کی طرف غضبناک نگاہوں سے دیکھا اور بھنچے ہوئے لہجہ میں کہا۔ ’’الو کا پٹھا۔‘‘
ممکن ہے کچھ دیر لگی ہو گی۔ مگر قاسم نے ایسا محسوس کیا کہ لڑکی نے جھٹ پٹ نہ جانے اپنی ساڑھی کو کیا کیا۔ اور ایک دم سائیکل پر سوار ہو کر نظروں سے غائب ہو گئی۔
قاسم کو لڑکی کی گالی سن کر بہت دکھ ہوا۔ خاص کر اس لئے کہ وہ یہی گالی خود کسی کو دینا چاہتا تھا۔ مگر وہ بہت صحیح الدماغ تھا۔ ٹھنڈے دل سے اس نے اس حادثہ پر غور کیا اور اس لڑکی کو معاف کر دیا۔ اس کو معاف کرنا ہی پڑے گا۔ اس لئے کہ اس کے سوا اور کوئی چارہ ہی نہیں۔ عورتوں کو سمجھنا بہت مشکل کام ہے اور ان عورتوں کو سمجھنا تو اور بھی مشکل ہو جاتا ہے جو سائیکل پر سے گری ہوئی ہوں۔ لیکن میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ اس نے اپنی لمبی جراب میں اوپر ران کے پاس تین چار کاغذ کیوں اڑس رکھے تھے۔‘‘

 

٭٭٭

admin

Author: admin

Check Also

گھوگا۔ افسانہ ۔ سعادت حسن منٹو

میں جب ہسپتال میں داخل ہوا تو چھٹے روز میری حالت بہت غیر ہو گئی۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے