Home / کالم / فسطائیت کہانی نویس سے ڈرتی ہے: وسعت اللہ خان

فسطائیت کہانی نویس سے ڈرتی ہے: وسعت اللہ خان

اگر آپ نہایت کاہل قاری ہیں لیکن حسنِ اتفاق سے آپ کے پاس ذرا سا بھی دماغ ہے کہ جس میں کسی خیال کی تصویر دیکھنے کی صلاحیت ہو تو پھر آپ کو تاریخ ، جغرافیہ ، منطق ، فلسفہ ، فزکس، کیمسٹری ، میتھس وغیرہ جیسے ذہن کو تھکا دینے والے مضامین پڑھنے کی ضرورت نہیں۔
تمام کاہلوں کو نوید ہو کہ ان سب موضوعات کا ست اور جوہر اب مارکیٹ میں موجود ہے۔ جس کا نام لٹریچر ہے۔ یہ لٹریچر نثری ٹیبلٹس اور شاعری کے کتابی کیسپول کی شکل میں ہر اچھے کتب فروش سے انتہائی مہنگے اور سستے برانڈز کی صورت دستیاب ہے۔
مگر یہ کیسے پتہ چلے کہ کون سی نثری ٹیبلٹ اور شعری کیسپول جعلی ہے اور کون سا اصلی۔ نئے نئے ادب گزیدگان کے لیے یہ تمیز کرنا بہت مشکل ہے۔ بس آپ پڑھتے چلے جائیں پڑھتے چلے جائیں ایک روز آپ بھی تجربہ کار مریض کی طرح لیبل دیکھ کر بتا سکیں گے کہ یہ ایک نمبر ہے اور وہ دو نمبر۔
اس کے علاوہ اچھے اور برے ادب کو پرکھنے کے جو بھی فارمولے ہیں وہ اتائی نقادوں کے مجرب کماؤ نسخوں کے سوا کچھ نہیں۔

یہ تو تھے ان کے لیے مشورے جو اپنی کہولت ، آلکسی اور سست روی کو برقرار رکھنا بھی چاہتے ہیں اور باشعور بھی ہونا چاہتے ہیں۔ یعنی وہ لوگ جو ورزش بھی نہیں کرنا چاہتے مگر وزن گھٹانا چاہتے ہیں۔
میں ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی کی پرانی بحث میں نہیں الجھنا چاہتا مگر جو لوگ آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ادب کی تخلیق ایک غیر سیاسی عمل کے طور پر ممکن ہے۔ ان کی یہ سوچ بھی ایک سیاسی سوچ ہے۔
اپنے اردگرد سے لاتعلق رہ کر جڑے رہنے کا چمتکار صرف وہ تین مشہور جاپانی دیومالائی بندر ہی دکھا سکتے ہیں جنہوں نے اپنی آنکھوں، ہونٹوں اور کانوں پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں۔
نہ برا سوچو، نہ برا دیکھو، نہ برا جانو۔۔۔۔ مگر یہ بندر اتنے شریف اس لیے ہیں کہ وہ مجسمے کی شکل میں ہیں۔ کیا کسی جیتے جاگتے بندر کو کسی نے کبھی اپنے اردگرد سے لاتعلق رہ کر زندگی گزارتے دیکھا ہے؟

اچھائی یا برائی خلا میں نہیں پیدا ہوتی۔ زندگی تو ڈیزائن ہی خیر و شر کے تصادم کے ڈرائنگ بورڈ پر ہوئی ہے۔ کبھی غور کیا کہ ہماری دادی یا نانی جو لوک یا دیومالائی کہانی، پہیلی، یا گیت سناتی ہیں۔
ان میں عادل راجہ، ظالم کوتوال، آدم خور دیو، پری، آدم خور دیو کی قید سے پری کو چھڑانے والا شہزادہ، چالاک ملکہ، بے وقوف درباری، عاقل وزیر، یہ سب کردار اور ان کے گرد گھومنے والی کہانیاں اور ان کہانیوں اور گیتوں کے استعارے دورِ فسطائیت میں تخلیق ہونے والا مزاحمتی ادب نہیں تو اور کیا ہے۔
مثلاً ہندوستان پر حملہ آوروں کی ذہنیت اور ان کے حملوں سے پیدا ہونے والی سیاسی ، سماجی و معاشی اتھل پتھل سمجھنے کے لیے بیسیوں کتابیں پڑھ سکتے ہیں، مگر یہ محاورہ سننے کے بعد آپ کو کچھ اور پڑھنے کی شاید ضرورت ہی محسوس نہ ہو کہ ”کھادا پیتا واہے دا، باقی احمد شاہے دا۔‘
کوئی بتائے کہ بلھے شاہ، وارث شاہ، غلام فرید، میر، انیس، غالب سے لے کر حبیب جالب تک ایک بھی شاعر جو سیاسی نہ ہو مگر ہمیں محبوب ہو۔ گلگامش کے قصے سے لے کر داستانِ امیر حمزہ اور مرزا اطہر بیگ کے غلام باغ تک کوئی ایسی داستان، کہانی ، افسانہ یا ناول جو اپنے دور کی سیاست، سماجی تبدیلی اور اقتصادی حالات کے چھینٹوں سے بچ نکلا ہو اور پھر بھی شاہکار کہلانے لائق ہو۔
بات سیدھی سیدھی ہے کہ جس طرح گائے بکری کو جنم نہیں دے سکتی اسی طرح اگر انسان پولیٹکل اینیمل ہے تو لٹریچر بھی پولیٹکل ہی ہوگا۔ صحافی ، وقوعہ نویس ، مورخ اور تخلیق کار میں اگر کوئی فرق ہے تو بس اتنا کہ تخلیق کار دیگر تمام وقوعہ نویسوں کی دستیاب معلومات کو بطور خام مال استعمال کر کے اسے مونالیزا کی خفیف مسکراہٹ، اوتھیلو کے تاریک ذہن اور اقبال کے شکوہ جوابِ شکوہ جیسی فنش پروڈکٹ میں بدل دیتا ہے۔

بات سیدھی سیدھی ہے کہ جس طرح گائے بکری کو جنم نہیں دے سکتی اسی طرح اگر انسان پولیٹکل اینیمل ہے تو لٹریچر بھی پولٹیکل ہی ہوگا

کبھی سوچا کہ ہمیں نسیم حجازی حفظ کیوں نہیں ہوتا اور یوسفی کی زرگذشت کیسے حفظ ہو جاتی ہے۔ ہمیں صرف غیر درباری شعرا کا بیشتر کلام اور درباری شعرا کے غیر درباری اشعار ہی کیوں یاد رہ جاتے ہیں۔
کیا ذوق کوئی چھوٹا شاعر ہے؟ اس کی وجہ بہت سادہ ہے یعنی جو ہم محسوس کر سکتے ہیں مگر کہہ نہیں پاتے ہمیں وہی جذبہ اگر سلیقے اور بھر پور نمائندگی کے ساتھ کسی تخلیق کار کی پینٹنگ یا افسانے یا شعر میں دکھائی دے تو ہم اسے محبوبہ کی طرح ازبر کر لیتے ہیں۔
اور اس ازبری کے بعد ہمارے اندر کچھ نہ کچھ شعوری یا لاشعوری ذہنی تبدیلی رونما ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ ادب کا یہ فرض نہیں کہ وہ عام آدمی کو جواب بتائے بلکہ ادب ایسے سوال اٹھاتا ہے جن سے جوابات کے ممنوعہ خزانوں کا تالا انسان خود کھول سکے۔

صحافی یہ تو بتا سکتا ہے کہ پاکستان میں بے گھری و دربدری کا بحران کتنا سنگین ہے مگر تخلیق کار وہ ہے جو اس ایک خام خبر کو لے کر اسے ماسٹر پیس بنا دے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ہم کیا کیا بیان کر سکتے ہیں۔ فرق اس سے پڑتا ہے کہ ہم کس سلیقے سے بیان کر سکتے ہیں۔ یعنی تخلیق کار ری پریزنٹیو نہیں ری پریزنٹر ہوتا ہے۔
بقول معروف جمیکن لکھاری اولیو سینئر آرٹ کی دو قسمیں ہیں۔ یا سرقہ یا پھر اوریجنل۔ اوریجنل آرٹ کبھی جگالی سے پیدا نہیں ہو سکتا۔ ہو سکتا ہے عام انسانوں کو اپنے سیاسی اظہار کے لیے کھلے پن کی فضا درکار ہو مگر آرٹسٹ کو اپنے اظہار کے لیے صرف خیال کی آزادی درکار ہے۔ اپنے ہی دماغ کے سنسر سے آزاد خیال۔
فسطائیت اگر کسی شے سے ڈرتی ہے تو کہانی نویس اور کہانی سنانے والے سے ڈرتی ہے۔ چونکہ اسے تو وہ روک نہیں سکتی لہٰذا اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ناک مسل دے جو بو اور خوشبو میں تمیز کرسکتی ہے، وہ دماغ مفلوج کر دے جو سوال، خواب اور رنگ اٹھا سکتا ہے۔ اس کے لیے فسطائیت ڈمی تخلیق اور تخلیق کار تخلیق کرتی ہے۔ پھر بھی ایک دن اپنے فلمی سیٹ کے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔

admin

Author: admin

Check Also

ہم اتنے سنگ دل کیوں ہوگئے ہیں : میر افضل خان طوری

پاکستانیوں کی اکثریت مذہب، عقیدے ، مسلک ، زبان اور علاقے کی بنیاد پر ایک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے